Sunan Abi Dawud · Jami' at-Tirmidhi · Sunan Ibn Majah سنن ابو داؤد · جامع ترمذی · سنن ابن ماجہ

رسول اللہ ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا کہ آدمی کھڑا ہو کر جوتا پہنے۔

عن جابر رضي الله عنه : أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى أن يَنْتَعِلَ الرَّجُل قائمًا.
جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ:رسول اللہ ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا کہ آدمی کھڑا ہو کر جوتا پہنے۔
Jābir (may Allah be pleased with him) reported: The Messenger of Allah (may Allah’s peace and blessings be upon him) forbade that a man wears his shoes while standing.

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
سنن ابو داؤدSunan Abi Dawudجامع ترمذیJami' at-Tirmidhiسنن ابن ماجہSunan Ibn Majah
Original wording: اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #8944

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

اس حدیث میں کھڑے ہو کر جوتا پہننے کی ممانعت ہے کیونکہ بیٹھ کر اسے پہننا زیادہ آسان اور ممکن ہے۔ یہ حکم اس صورت کے ساتھ خاص ہے جب جوتے کو پاؤں میں ڈالنے کے لیے ہاتھ کو استعمال کرنے کی ضرورت ہو کیونکہ انسان اگر کھڑا ہو کر جوتا پہنے اور جوتا ایسا ہو کہ اسے (پاؤں میں) ڈالنے کے لیے ہاتھ کے استعمال کی ضرورت ہو تو امکان ہے کہ جب وہ جوتا درست کرنے کے لئے اپنا پاؤں اٹھائے تو گر جائے۔ جب کہ آج کل کے معروف جوتوں کو کھڑے ہونے کی حالت میں پہننے میں کوئی حرج نہیں ہے اور یہ ممانعت کے دائرے میں نہیں آتے کیونکہ ہمارے موجودہ جوتوں کو بیٹھے بغیر آسانی سے اتارا اور پہنا جا سکتا ہے۔
اس حکم میں مرد و عورت کے مابین کوئی فرق نہیں ہے کیونکہ شرعی احکامات مرد وزن کے مابین کوئی فرق نہیں کرتے سوائے اس کے کہ کوئی ایسی دلیل موجود ہو جو تخصیص پر دلالت کرے۔ تاہم حدیث میں بطور خاص مرد کا ذکر اس لئے ہے کیونکہ عورت کی بنسبت اکثر مرد ہی باہر نکلتے ہیں اس لئے خاص طور پر انہیں کا ذکر کیا۔

Explanation

This Hadīth includes a prohibition of wearing the shoes while standing, because wearing them while sitting is easier and provides more control. This ruling applies only if the shoes need some handling, because wearing them while standing might cause one to lose balance when lifting the leg. Nowadays, however, it is fine to wear shoes while standing. The prohibition does not apply here because the shoes we wear today are easy to handle without a need to sitting down. Finally, the rulings of Shariah apply to men and women alike with no distinction, unless there is textual proof that specifies a ruling to either gender. Men are specifically mentioned in this Hadīth, because they normally go out more frequently.

Topics موضوعات