صحیح بخاری · صحیح مسلم
Sahih al-Bukhari · Sahih Muslim

اے اللہ! میرے دل میں نور پیدا فرما، میری نظر میں نور پیدا فرما، میرے کان میں نور پیدا فرما، میری دائیں طرف…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
11300Sahih صحیح
عن ابن عباس رضي الله عنهما قال: بِتُّ عند ميمونة، فقام النبي صلى الله عليه وسلم فأتى حاجَتَه، فغسل وجهه ويديه، ثم نام، ثم قام، فأَتى القِرْبَة فأطلق شِنَاقَهَا، ثم توضأ وضوءا بين وضوءين لم يُكْثِرْ وقد أبلغ، فصلى، فقمت فَتَمَطَّيْتُ؛ كراهية أن يرى أني كنت أَتَّقِيهِ، فتوضأت، فقام يصلي، فقمت عن يساره، فأخذ بِأُذُنِي فَأَدَارَنِي عن يمينه، فَتَتَامَّت صلاته ثلاث عشرة ركعة، ثم اضطجع فنام حتى نَفَخ، وكان إذا نام نَفَخ، فَآذَنَهُ بلال بالصلاة، فصلَّى ولم يتوضأ، وكان يقول في دعائه: «اللهم اجعل في قلبي نورا، وفي بَصري نورا، وفي سمعي نورا، وعن يميني نورا، وعن يساري نورا، وفَوْقِي نورا، وتحتي نورا، وأمامي نورا، وخلفي نورا، واجعل لي نورا».
ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: (ایک مرتبہ) میں نے میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں رات گزاری، تو نبی ﷺ اٹھے اور قضائے حاجت سے فارغ ہوکر اپنا چہرہ اور دونوں ہاتھ دھوئے، پھر سو گئے۔ پھر نیند سے بیدار ہوئے، مشکیزے کے پاس آئے، اس کا منہ بند کھولا، درميانہ وضو کیا، یعنی زیادہ پانی بھی نہیں بہایا اور اسے (تمام اعضا تک) پہنچا بھی دیا۔ پھر نماز پڑھنے لگے۔ میں آہستگی کے ساتھ اٹھا، کیوں کہ مجھے یہ ناپسند تھا کہ آپ ﷺ یہ سمجھیں کہ میں آپ پرﷺ نظریں لگائے بیٹھا تھا۔ میں نے وضو کیا۔ آپ ﷺ کھڑے نماز پڑھ رہے تھے۔ میں آپ ﷺ کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا۔ آپ ﷺ نے میرے کان سے مجھے پکڑا اور گھما کر اپنی دائیں جانب کر دیا۔ آپ ﷺ کی نماز تیرہ رکعت میں مکمل ہوئی۔ پھر آپ ﷺ لیٹ کر سو گئے، یہاں تک کہ آپ ﷺ کے سانسوں کی آواز آنے لگی۔ آپ ﷺ جب سوتے تھے تو آپ ﷺ کے سانس کی آواز آیا کرتی تھی۔ پھر بلال رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ کو نماز کا وقت ہونے کی اطلاع دی۔ آپ ﷺ نے نماز پڑھی اور (اس کے لیے نیا) وضو نہیں کیا۔ آپ ﷺ اپنی دعا میں یہ کلمات کہہ رہے تھے: ”اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا وَفِي بَصَرِي نُورًا وَفِي سَمْعِي نُورًا وَعَنْ يَمِينِي نُورًا وَعَنْ يَسَارِي نُورًا وَمِنْ فَوْقِي نُورًا وَمِنْ تَحْتِي نُورًا وَمِنْ أَمَامِي نُورًا وَمِنْ خَلْفِي نُورًا وَاجْعَلْنِي نُورًا“ اے اللہ! میرے دل میں نور پیدا فرما، میری نظر میں نور پیدا فرما، میرے کان میں نور پیدا فرما، میری دائیں طرف نور پیدا کر، میری بائیں طرف نور پیدا کر، میرے اوپر نور پیدا کر، میرے نیچے نور پیدا کر، میرے آگے نور پیدا کر، میرے پیچھے نور پیدا کر اور مجھے نور عطا فرما۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Ibn ‘Abbās (may Allah be pleased with him) reported: I stayed overnight in the house of my aunt Maymūnah. The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) got up in the night and went to answer the call of nature, then he washed his face and hands, then he slept. Then he got up again and opened the water skin, then he performed ablution from a hanging water skin, not using much water, yet he washed all the parts properly and then offered the prayer. I got up and straightened my back in order that the Prophet might not feel that I was watching him, and then I performed the ablution, and when he got up to offer the prayer, I stood on his left. He caught hold of my ear and brought me over to his right side. He offered thirteen Rak‘ahs in all and then laid down and slept till he started snoring as he used to do when he slept. In the meantime Bilāl informed the Prophet of the approaching time for the (Fajr) prayer, and the Prophet offered the prayer without performing new ablution. He used to say in his invocation: "O Allah, place light in my heart, light in my sight, light in my hearing, light on my right, light on my left, light above me, light below me, light in front of me, light behind me, make light for me!"
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: متفق علیہ
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #11300

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

اس حدیث میں ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کر رہے ہیں کہ وہ اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں رات کو سوئے، جو نبی ﷺ کی زوجہ ہیں۔ ”فأتى حاجَتَه“ یعنی آپ ﷺ بول و براز وغیرہ سے فارغ ہوئے۔
”فغسل وجهه ويديه، ثم نام“ قضائے حاجت کے بعد آپ ﷺ نے حصول بشاشت کے لیے اپنے چہرۂ انور کو اور صفائی کے لیے اپنے ہاتھوں کو دھویا۔ ”ثم قام، فأتى القِرْبَة فأطْلَق شِنَاقَهَا“ یعنی نبی ﷺ نیند سے بیدار ہونے کے بعد مشکیزے کی طرف گئےاور اس رسی کو کھولا، جس سے مشکیزے کا منہ باندھا جاتا ہے؛ تاکہ اس میں موجود پانی وغیرہ محفوظ رہے۔
”ثم توضأ“ یعنی جیسے آپ نماز کے لیے وضوکرتے تھے، ویسے وضو فرمایا۔ ”وضُوءًا بَيْن وضُوءَيْنِ“ یعنی ایسا وضو کیا، جس میں نہ تو کوئی کمی تھی اور نہ مبالغہ، بلکہ یہ دونوں کے درمیان تھا۔ اسی لیے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ”لم يُكْثِرْ“ یعنی تین تین دفعہ دھونے سے کم ہی پر آپ ﷺ نے اکتفا کر لیا۔ ایسا کرنا جائز ہے، اگرچہ سنت تین دفعہ دھونا ہے۔ ”وقد أَبْلَغَ“ اور اچھی طرح سے وضوکیا بایں طور کہ پانی کو ہر اس مقام تک پہنچایا، جہاں اس کا پہنچانا ضروری تھا اور اتنا کرنا واجب ہے۔
”فصلَّى“ یعنی رات کی نماز (نماز تہجد) ادا کی۔
”فَقُمْتُ فَتَمَطَّيْتُ“ ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ وہ نبی ﷺ کو یہ سب کچھ کرتا ہوا دیکھ رہے تھے۔ پھر وہ دراز ہو گئے اور جس حالت میں تھے اس کے برعکس ظاہر کیے، تاکہ نبی ﷺ کو یہ احساس نہ ہو کہ وہ آپ ﷺ کو دیکھ رہے تھے۔ اسی لیے وہ کہتے ہیں: "كراهية أن يرى أني كنت أَتَّقِيهِ" (یعنی مجھے یہ ناپسند تھا کہ آپ ﷺ یہ خیا ل کریں کہ) میں آپ ﷺ کو تاک رہا تھا اور آپ ﷺ کے افعال کو دیکھ رہا تھا۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما کے دراز ہونے اور ایسا ظاہر کرنے کا مقصد یہی تھا۔ انھوں نے ایسا اس لیے کیا کہ عام طور پر انسان جب اپنے گھر میں اکیلا ہوتا ہے، تو کچھ ایسے افعال کرتا ہے، جن پر دوسروں کا مطلع ہونا وہ ناپسند کرتا ہے۔ یا پھر ان کو یہ ڈر لاحق ہو گیا کہ کہیں ان کو اپنی طرف دیکھتا ہوا پا کر نبی ﷺ اپنے کسی عمل کو چھوڑ نہ دیں، جیسا کہ آپ ﷺ کی عادت مبارکہ تھی کہ آپ ﷺ اپنے بعض اعمال کو اس اندیشے کے پیش نظر چھوڑ دیا کرتے تھے کہ کہیں وہ آپ ﷺ کی امت پر فرض نہ ہو جائیں۔
چنانچہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے اس فعل کے ذریعے سے اپنے آپ کو مخفی رکھنا چاہا؛ تاکہ انھیں آپ ﷺ کے بیدار ہونے سے لے کر نماز فجر کے لیے بلانے والے کے آنے تک کے تمام امور کا تفصیلی علم ہو جائے۔ ایسا انھوں نے اصل ماخذ (یعنی نبی ﷺ) سے حصول علم کی حرص میں کیا تھا۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں نے وضو کیا۔ ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں: میں نے اسی طرح وضوکیا، جیسے آپ ﷺ نے کیا تھا۔ بخاری شریف کی روایت میں ہے: میں نے اٹھ کر وہی کچھ کیا، جو آپ ﷺ نے کیا تھا۔
”فقام يصلي فَقُمْتُ عن يساره“ یعنی ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جب دیکھا کہ آپ ﷺ نے نماز شروع کر دی ہے، تو انھوں نے بھی وضو کیا اور نبی ﷺ کے ساتھ جا کر مل گئے۔ تاہم وہ نبی ﷺ کی بائیں جانب کھڑے ہوئے۔
”فأخذ بِأُذُنِي“ یعنی نبی ﷺ نے ان کا کان پکڑ کر انھیں بائیں جانب سے گھما کر دائیں جانب کر دیا۔ ایک اور روایت میں ہے: رسول اللہ ﷺ نے اپنا دایاں ہاتھ میرے سر پر رکھا اور میرا دایاں کان پکڑ کر اسے مروڑنے لگے۔ آپ ﷺ نے پہلے اپنا ہاتھ رکھا؛ تا کہ کان کو پکڑ سکیں یا (اتفاقا) ہاتھ کان ہی پر پڑا تھا یا پھر آپ ﷺ نے ایسا اس لیے کیا کہ اس کی وجہ سے ان پر برکت کا نزول ہو اور وہ اس مجلس میں نیز اس کے علاوہ دیگر مجالس میں آپ ﷺ کے تمام افعال مبارکہ کو یاد رکھ سکیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے کان کو مروڑا۔ آپ ﷺ نے ایسا یا تو سنت کی مخالفت پر تنبیہ کے لیے کیا یا پھر اس لیے کیا تا کہ وہ آپ ﷺ کے جملہ افعال کو ذہن نشین کرنے کے لیے اور زیادہ چاق و چوبند ہو جائیں یا پھر آپ ﷺ نے ان پر طاری اونگھ کے آثار کو دور کرنے کے لیے یا انھیں بائیں طرف سے دائیں طرف گھمانے کے لیے ایسا کیا یا ایسا کرنے سے مقصود ان کے ساتھ اظہار انسیت تھا، کیوں کہ یہ سب کچھ رات کے اندھیرے میں ہو رہا تھا، جیسا کہ بخاری شریف میں موجود ایک روایت میں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس کی تصریح کی ہے۔ یا پھر آپ ﷺ نے ایسا انھیں بیدار رکھنے کے لیے یا ان سے اظہار محبت کے لیے کیا تھا؛ کیوں کہ کم سنی کی وجہ سے ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حالت اس کا تقاضا کرتی تھی۔
”فَأَدَارَنِي عن يمينه“ یعنی آپ ﷺ نے انھیں اپنی بائیں جانب سے گھما کر دائیں طرف کر دیا۔ جب امام کے ساتھ ایک ہی مقتدی ہو، تو اس کے کھڑے ہونے کی جگہ یہی ہوتی ہے۔
”فَتَتَامَّت صلاته“ اس کی تفسیر میں انھوں نے کہا: ”ثلاث عشرة ركعة“ یعنی نبی ﷺ نے اس رات بشمول وتر کی ایک رکعت کے تیرہ رکعتیں پڑھیں، جن میں آپ ﷺ ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیرتے تھے، جیسا کہ بخاری شریف کی روایت میں ہے: ”آپ ﷺ ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیرتے تھے“۔ صحیح بخاری و صحیح مسلم دونوں میں موجود ایک اور روایت میں ہے: ”پھر آپ ﷺ نے دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں ، پھر دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں اور پھر وتر پڑھا“، يعنی دو ركعتوں سے الگ ایک رکعت پڑھی، کیوں کہ آپ ﷺ نے چھ دفعہ دو دو رکعتیں پڑھی تھیں اور ہر دو رکعتوں کے مابین فاصلہ کیا تھا۔ اس طرح وتر کی ایک رکعت کے علاوہ بارہ رکعتیں ہو گئیں اور آپ ﷺ کی مکمل نماز تیرہ رکعتیں بن گئی۔ چنانچہ وترکی صرف ایک ہی رکعت ہوئی۔
”ثم اضطجع فنام حتى نَفَخ“ یعنی آپ ﷺ آواز کے ساتھ سانس لے رہے تھے اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کو آپ کے سانس نکلنے کی آوز سنائی دے رہی تھی۔ آپ ﷺ جب سویا کرتے تھے تو آپ ﷺ کے سانس کی آواز آیا کرتی تھی۔
”فَآذَنَهُ بلال بالصلاة“ یعنی صبح کی نماز کی آپ ﷺ کواطلاع دی۔
آپ ﷺ نے پہلے فجر کی سنتیں پڑھیں اور پھر مسجد کی طرف تشریف لے گئے اور جماعت کے ساتھ صبح کی نماز ادا کی۔
”آپ ﷺ نے دوبارہ وضونہیں کیا“ بلکہ اپنے پہلے وضو پر ہی اکتفا کیا۔ یہ نبی ﷺ کے خصائص میں سے ہے۔ یعنی آپ ﷺ کی نیند ناقض وضو نہیں تھی؛ کیوں کہ آپ ﷺ کی آنکھیں تو سوتی تھیں، لیکن دل نہیں سوتا تھا۔ چنانچہ اگر کوئی وضو توڑنے والی شے خارج ہوئی ہوتی، تو آپ ﷺ کو پتہ چل جاتا، بہ خلاف دیگر لوگوں کے۔ اسی لیے جب عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ کیا آپ وتر پڑھنے سے پہلے سو جاتے ہیں؟ تو آپ ﷺ نے جواب دیا: اے عائشہ! میری آنکھیں تو سو جاتی ہیں، لیکن میرا دل جاگتا رہتا ہے۔
اپنی دعا کے اندر آپ ﷺ یہ فرمایا کرتے تھے: ”اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا وَفِي بَصَرِي نُورًا وَفِي سَمْعِي نُورًا وَعَنْ يَمِينِي نُورًا وَعَنْ يَسَارِي نُورًا وَمِنْ فَوْقِي نُورًا وَمِنْ تَحْتِي نُورًا وَمِنْ أَمَامِي نُورًا وَمِنْ خَلْفِي نُورًا وَاجْعَلْنِي نُورًا“ اے اللہ! میرے دل میں نور پیدا فرما، میری نظر میں نور پیدا فرما، میرے کان میں نور پیدا فرما، میری دائیں طرف نور پیدا کر ، میری بائیں طرف نور پیدا کر ، میرے اوپر نور پیدا کر ، میرے نیچے نور پیدا کر، میرے آگے نور پیدا کر ، میرے پیچھے نور پیدا کر اور مجھے نور عطا فرما۔
آپ ﷺ نے اپنے اعضا اور اپنی تمام جہات کے لیے نور طلب کیا۔ اس سے مراد یہ ہے کہ حق واضح اور روشن ہو جائے اور اس کی طرف راہ نمائی حاصل ہو۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اپنے تمام اعضا، اپنے جسم مبارک، اپنے تمام تصرفات و تحرکات اور اپنی چھے جہات میں نور عطا کیے جانے کی دعا کی؛ تا کہ ان میں سے کوئی بھی شے نور حق سے عاری نہ رہ جائے۔

Explanation

Ibn ‘Abbās (may Allah be pleased with him) informs us in this Hadīth that he spent the night in the house of his aunt Maymūnah (may Allah be pleased with her), the Prophet's wife.
During the night, the Prophet relieved himself, then he washed his face and hands to get refreshed and clean oneself, and slept again.
Then he woke up, went to the water skin, and loosened the straps that tie its mouth and keep the water inside it.
Then he made ablution for prayer moderately without neglecting any parts of ablution or excessively washing them. This means he washed the parts of ablution less than three times each, showing that this is permissible although the Sunnah is to wash them thrice. The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) did what is required only in his ablution by making sure that every part of ablution was washed properly. Then he performed the night prayer. Ibn ‘Abbās said that he was watching the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) in what he was doing, but he stretched his body to give the impression that he was asleep and not watching what the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) was doing. Ibn ‘Abbās (may Allah be pleased with him) pretended he was asleep, because people, when they are alone, could perhaps do things that they do not like others to see. Another reason is that Ibn ‘Abbāss was afraid that the Prophet might leave off some of his actions due to the former's observation. It was the habit of the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) that sometimes he would abandon or leave off an action lest it becomes obligatory upon his Ummah.
Therefore, Ibn ‘Abbās wanted to conceal himself so that he could learn every specific detail about the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) from the time he wakes up at night until the call for Fajr prayer is made. This shows Ibn ‘Abbās’ eagerness to acquire knowledge. Then he said: "I made ablution”, or according to another narration: "I made ablution similar to the way the Prophet did", or according to the narration of Al-Bukhāri: "I stood up and did exactly what the Prophet did."
“When Ibn ‘Abbās saw the Prophet (may Allah’s peace and blessings be upon him) stood up and prayed, he made ablution and joined the Prophet in prayer, but he stood on the Prophet's left side." The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) grabbed Ibn ‘Abbās by his ear and turned him from the left side to the right side. In another narration, Ibn ‘Abbās said: "The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) placed his right hand on my head, then grabbed my right ear and twisted it by his hand." The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) placed his hand on his head first, so that he would be able to hold his ear, or that because the hand fell on him only, or to allow the blessings of his hands to descend upon his head so that Ibn ‘Abbās could understand all of the Prophet’s actions during that session and elsewhere.
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) twisted the ear to either remind him that he was doing something against the Sunnah, draw his attention more to maintain these actions, remove any drowsiness left in his eyes, move him from the left to the right side, comfort him during the darkness of the night (as mentioned in the narration of Al-Bukhāri), wake him up, or show affection towards him as Ibn ‘Abbās’ conditions and young age would require it.
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) moved Ibn ‘Abbās from the left side to the right side, which is the proper position of the Muslim who is praying alone with the Imām. The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) prayed that night thirteen Rak‘ahs, including the Witr, making Salam between every two Rak‘āhs as mentioned in the narration of Al-Bukhāri.
Another narration in Al-Bukhāri and Muslim reads: "Then he prayed two Rak‘ahs, then two more, then two more, then two more, then two more, then two more, then he prayed Witr." As he prayed two Rak‘ahs six times with one Rak‘ah Witr separately, the total number of Rak‘ahs performed that night would be thirteen.
Then the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) laid down and slept until he started breathing aloud, and this was a sleeping habit for him. Bilāl, later, informed him that time for Fajr prayer was due. He performed the voluntary prayer for Fajr first, then went to the mosque and prayed Fajr in congregation. The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) prayed with the previous ablution and did not make a new ablution. This is considered one of the specific rulings that are unique for the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) that is his sleeping does not nullify his ablution. This is because his eyes sleep, but his heart doesn’t sleep. Unlike the rest of people, if something occurred to nullify the Prophet's ablution, he would feel it. For this reason, ‘Ā'ishah (may Allah be pleased with her) once said to him: "Will you sleep before you pray Witr?" He replied: "O ‘Ā'ishah, my eyes sleep but my heart does not sleep."
Some of the supplications that the Prophet made on that night were: "O Allah, place light in my heart, light in my sight, light in my hearing, light on my right, light on my left, light above me, light below me, light in front of me, light behind me, make light for me!"
He asked that light be engulfing his organs and all his sides, which is translated into clarification and illumination of the truth and guidance to it. Therefore, he asked for light in all parts of his body as well as his behaviors, life changes, situations, and entirety from the six directions so that he will never be misguided in any way.

Topics موضوعات