صحیح مسلم
Sahih Muslim

بلکہ تم کہو: ہم نے سنا اور اطاعت کی۔ اے ہمارے رب! ہم تجھ سے بخشش مانگتے ہیں اور تیری ہی طرف پھرنا ہے

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
65285Sahih صحیح
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ {لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللهُ فَيَغْفِرُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ وَاللهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ} [البقرة: 284]، قَالَ: فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَوْا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ بَرَكُوا عَلَى الرُّكَبِ، فَقَالُوا: أَيْ رَسُولَ اللهِ، كُلِّفْنَا مِنَ الأَعْمَالِ مَا نُطِيقُ، الصَّلَاةَ وَالصِّيَامَ وَالجِهَادَ وَالصَّدَقَةَ، وَقَدِ اُنْزِلَتْ عَلَيْكَ هَذِهِ الآيَةُ وَلَا نُطِيقُهَا، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَتُرِيدُونَ أَنْ تَقُولُوا كَمَا قَالَ أَهْلُ الكِتَابَيْنِ مِنْ قَبْلِكُمْ سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا؟ بَلْ قُولُوا: سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ المَصِيرُ»، قَالُوا: سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ المَصِيرُ، فَلَمَّا اقْتَرَأَهَا القَوْمُ، ذَلَّتْ بِهَا أَلْسِنَتُهُمْ، فَأَنْزَلَ اللهُ فِي إِثْرِهَا: {آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ وَالمُؤْمِنُونَ كُلٌّ آمَنَ بِاللهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُسُلِهِ وَقَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ المَصِيرُ} [البقرة: 285]، فَلَمَّا فَعَلُوا ذَلِكَ نَسَخَهَا اللهُ تَعَالَى، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا} [البقرة: 286] " قَالَ: «نَعَمْ» {رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا} [البقرة: 286] قَالَ: «نَعَمْ» {رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ} [البقرة: 286] قَالَ: «نَعَمْ» {وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَنْتَ مَوْلَانَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الكَافِرِينَ} [البقرة: 286] قَالَ: «نَعَمْ».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں: جب رسول اللہ ﷺ پر یہ آیت نازل ہوئی: ’’آسمانوں اور زمین کی ہر چیز اللہ تعالی ہی کی ملکیت ہے‘ تمہارے دلوں میں جو کچھ ہے اسے تم ظاہر کرو یا چھپاؤ‘ اللہ تعالی اس کا حساب تم سے لے گا۔ پھر جسے چاہے بخشے اور جسے چاہے سزا دے اور اللہ تعالی ہر چیز پر قادر ہے‘‘ [البقرة: 284]، تو یہ آیت صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم پر بڑی گراں گزری۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، پھر گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! ہمیں ان اعمال کا مکلف کیا گیا جن کی ہم طاقت رکھتے ہیں، (جیسے) نماز، روزہ، جہاد اور صدقہ۔ اور (اب) آپ پر یہ آیت نازل ہوئی ہے، یہ ہماری طاقت سے باہر ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «کیا تم وہی کہنا چاہتے ہو جو تم سے پہلے دونوں اہل کتاب نے کہا تھا کہ ہم نے سنا اور نافرمانی کی؟ بلکہ تم کہو: ہم نے سنا اور اطاعت کی۔ اے ہمارے رب! ہم تجھ سے بخشش مانگتے ہیں اور تیری ہی طرف پھرنا ہے»۔ انھوں نے کہا: ہم نے سنا اور اطاعت کی۔ اے ہمارے رب! ہم تجھ سے بخشش مانگتے ہیں اور تیری ہی طرف پھرنا ہے۔ جب لوگوں نے (یہ کلمات) پڑھے اور ان کے ساتھ ان کی زبانیں رواں ہو گئیں تو اللہ نے اس کے بعد یہ آیت نازل فرمائی: ’’رسول ایمان لایا اس چیز پر جو اس کی طرف اللہ تعالی کی جانب سے اتری اور مومن بھی ایمان لائے‘ یہ سب اللہ تعالی اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے‘ اس کے رسولوں میں سے سے کسی میں ہم تفریق نہیں کرتے‘ انہوں نے کہہ دیا کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی‘ ہم تیری بخشش طلب کرتے ہیں اے ہمارے رب! اور ہمیں تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔‘‘ [البقرة: 285]۔ جب انھوں نے ایسا کر لیا تو اللہ تعالی نے اسے منسوخ فرما دیا اور اللہ عز و جل نے یہ نازل فرمایا: ’’اللہ تعالی کسی جان کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا‘ جو نیکی وہ کرے وہ اس کے لیے اور جو برائی وہ کرے وہ اس پر ہے‘ اے ہمارے رب! اگر ہم بھول گئے ہوں یا خطا کی ہو تو ہمیں نہ پکڑنا۔‘‘ [البقرة: 286] اللہ تعالی نے فرمایا: ’’ہاں۔‘‘ (پھر کہا:) ’’اے ہمارے رب! ہم پر اس طرح بوجھ نہ ڈالنا جس طرح تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا۔‘‘ [البقرة: 286] اللہ تعالی نے فرمایا: ’’ہاں۔‘‘ (پھر کہا:) ’’اے ہمارے رب! ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جس کی ہمیں طاقت نہ ہو۔‘‘ [البقرة: 286] اللہ تعالی نے فرمایا: ’’ہاں۔‘‘ (پھر کہا:) ’’اور ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم کر! تو ہی ہمارا مالک ہے‘ ہمیں کافروں کی قوم پر غلبہ عطا فرما۔‘‘ [البقرة: 286] اللہ تعالی نے فرمایا: ’’ہاں۔‘‘
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) reported: When the verse: {To Allah belongs all that is in the heavens and all that is on earth. Whether you reveal what is within yourselves or conceal it, Allah will call you to account for it. He forgives whom He wills and punishes whom He wills, for Allah is Most Capable of all things} [Surat al-Baqarah: 284] was revealed to the Messenger of Allah (ﷺ), he said: It was very hard on the Companions of the Messenger of Allah (ﷺ). They came to the Messenger of Allah (ﷺ), knelt down on their knees, and said:
O Messenger of Allah, we have been commanded to do acts of worship we can bear—prayer, fasting, Jihad, and charity—but now this verse has been revealed to you, and we cannot endure it. The Messenger of Allah (ﷺ) said: "Do you wish to say as the People of the Two Scriptures said before you: We hear and we disobey?Rather say: We hear and obey. Grant us Your forgiveness, our Lord, and to You is the [final] destination." So they said: We hear and obey. Grant us Your forgiveness, our Lord, and to You is the final destination. When they recited it and their tongues humbly uttered those words, Allah revealed thereafter: {The Messenger believes in what has been sent down to him from his Lord, as do the believers. All of them believe in Allah, His angels, His Books, and His messengers, [saying], “We make no distinction between any of His messengers.” And they say, “We hear and obey. Grant us Your forgiveness, our Lord, and to You is the [final] destination.”} [Surat al-Baqarah: 285] Then Allah Almighty, out of His mercy, abrogated the previous ruling and revealed: {Allah does not burden any soul greater than it can bear. For it is what it has earned, and against it is what it has incurred. Our Lord, do not hold us accountable if we forget or fall into error.} [Surat al-Baqarah: 286] He said: "Yes." {Our Lord, do not place on us such a burden as You have placed on those before us.} [Surat al-Baqarah: 286] He said: "Yes." {Our Lord, do not burden us with that which we cannot bear.} [Surat al-Baqarah: 286] He said: "Yes." {Pardon us, forgive us, and have mercy on us. You are our Protector, so give us victory over the disbelieving people.} [Surat al-Baqarah: 286] He said: "Yes."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: رواه مسلم
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #65285

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ پر اپنا یہ فرمان نازل فرمایا: {آسمانوں اور زمین کی ہر چیز اللہ تعالی ہی کی ملکیت ہے} تخلیق، ملکیت، تصرف اور تدبیر کے اعتبار سے، {وَإِنْ تُبْدُوا} یعنی تم ظاہر کرو اور اعلان کرو {مَا فِي أَنْفُسِكُمْ} اس چیز کا جو تمہارے دلوں اور سینوں میں ہے {أَوْ تُخْفُوهُ} یا اسے پوشیدہ رکھو اور اپنے دلوں میں چھپائے رکھو {يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللَّهُ} تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تم سے اس کا حساب لے گا۔ ”جسے چاہے بخش دے“ اپنے فضل و رحمت کی بنا پر، ”اور جسے چاہے عذاب دے“ اپنے عدل کی بنا پر، ”اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے“ کوئی چیز اسے عاجز نہیں کر سکتی۔ جب صحابہ کرام نے یہ سنا تو یہ بات ان پر بہت شاق گزری، کیونکہ اس میں دل میں آنے والے خیالات پر بھی مواخذہ تھا۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، پھر گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! اس سے پہلے ہمیں ان جسمانی اعمال کا مکلف کیا گیا تھا جنہیں انجام دینے کی ہم طاقت رکھتے ہیں؛ جیسے نماز، روزہ، جہاد اور صدقہ۔ لیکن اب آپ پر یہ آیت نازل ہوئی ہے اور یہ ہماری طاقت سے باہر ہے۔ تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”کیا تم بھی ویسا ہی کہنا چاہتے ہو جیسا کہ یہود و نصاریٰ نے کہا تھا کہ ’ہم نے سنا اور نافرمانی کی‘؟ بلکہ یوں کہو: "ہم نے سنا اور اطاعت کی، ہم تیری بخشش طلب کرتے ہیں اے ہمارے رب! اور ہمیں تیری ہی طرف لوٹنا ہے‘۔“ چنانچہ صحابہ نے اللہ اور اس کے رسول کا حکم مان لیا، اور کہا: ”ہم نے سنا اور اطاعت کی، ہم تیری بخشش طلب کرتے ہیں اے ہمارے رب! اور ہمیں تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔“ جب مسلمانوں نے اپنی زبانوں سے اس کا اقرار کیا، اور ان کے دل اس کے مطیع ہو گئے؛ تو اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ اور آپ کی امت کے تزکیے کے لیے اپنا یہ فرمان نازل فرمایا: ”آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ وَالمُؤْمِنُونَ“ اور ان کی زبانیں اور دل حکم الہی کے تابع ہو گئے۔ "یہ سب اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان ﻻئے، اس کے رسولوں میں سے کسی میں ہم تفریق نہیں کرتے"۔ بلکہ ہم ان سب پر ایمان لاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نے تیرا فرمان سنا اور تیرے حکم کی اطاعت کی، اور اے ہمارے رب! ہم تیری بخشش اور درگزر طلب کرتے ہیں، اور حساب کے دن تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔ جب انہوں نے ایسا کیا اور اللہ کے احکامات کے لیے سمع وطاعت کا اظہار کرتے ہوئے وہ کہہ دیا جس کا انہیں حکم دیا گیا تھا؛ تو اللہ نے اس امت کے تئیں تخفیف فرمائی اور اس آیت کو اپنے اس فرمان سے منسوخ فرما دیا: "اللہ کسی جان کو اس کی طاقت سے زیادہ کا مکلف نہیں بناتا، اس نے جو نیکی کمائی اس کا ثواب اسی کے لیے ہے، اور اس نے جو گناہ اور برائی کی اس کا وبال اسی پر ہے"، اور اللہ کسی کو دوسرے کے گناہ پر نہیں پکڑتا اور نہ ہی اس کے دل میں آنے والے وسوسوں پر۔ {رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا} اے ہمارے رب! ہمیں نہ پکڑنا، یعنی ہمیں سزا نہ دینا، {إِنْ نَسِينَا} اگر ہم بھول گئے ہوں۔ یعنی ہمیں یاد نہ رہا ہو، {أَوْ أَخْطَأْنَا} یا خطا کی ہو۔ یعنی ہم نے جان بوجھ کر نہیں بلکہ غلطی سے صحیح بات کو چھوڑ دیا ہو، تو اللہ نے ان کی یہ دعا قبول فرمائی اور فرمایا: ہاں، میں نے ایسا کر دیا ہے۔ {رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا} اے ہمارے رب! اور ہم پر بوجھ نہ ڈال یعنی مشقت اور گرانی نہ ڈال، {كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا} جیسا کہ تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا یعنی بنی اسرائیل اور ان کے علاوہ دوسروں پر، تو اللہ تعالیٰ نے دعا قبول فرمائی اور فرمایا: ہاں، میں نے ایسا کر دیا۔ {رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ} یعنی ایسی ذمہ داریاں، آزمائشیں اور معاملات ہم پر نہ ڈال جنہیں اٹھانے سے ہم عاجز ہیں، اللہ نے فرمایا: ہاں، میں نے ایسا کر دیا۔ {وَاعْفُ عَنَّا} ہمارے گناہوں کو مٹا کر ہم سے درگزر فرما، {وَاغْفِرْ لَنَا} ہمارے گناہوں کو بخش دے، ان پر پردہ ڈال دے اور ان سے تجاوز فرما، {وَارْحَمْنَا} اپنی وسیع رحمت سے ہم پر رحم فرما، {أَنْتَ مَوْلَانَا} تو ہی ہمارا مالک اور آقا ہے؛ {فَانْصُرْنَا} حجت اور غلبے کے ساتھ ہماری مدد فرما {عَلَى الْقَوْمِ الكَافِرِينَ} كافروں کے ساتھ قتال اور جہاد میں، تو اللہ نے یہ دعا قبول فرمائی، اور فرمایا: ہاں، میں نے ایسا کر دیا۔

حدیث کے فوائد

  • اپنے نبی ﷺ کے سبب اس امت پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کا بیان، جن کی عظمتِ شان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”اور ہم نے آپ کو تمام جہان والوں کے لئے رحمت ہی بنا کر بھیجا ہے۔“ [الأنبياء: 107]
  • قرآن کریم میں نسخ کا ثبوت ہے، اور یہ کہ قرآن کا کچھ حصہ ایسا ہے جس کی تلاوت تو کی جاتی ہے لیکن اس کا حکم منسوخ کر دیا گیا ہے، چنانچہ اس پر عمل نہیں کیا جاتا۔
  • صحابہ رضی اللہ عنہم کی فضیلت اور اللہ کے حکم کے آگے ان کی اطاعت و تسلیم اور اپنے رسول ﷺ کے حکم کی تعمیل۔
  • نبی ﷺ کو اپنی امت کے بارے میں یہ شدید خدشہ تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احکامات کو رد کرنے میں سابقہ امتوں کا مسلک اختیار کر لے گی۔
  • حکم الہی کو تسلیم کرنا اور اس پر اعتراض کرنے سے خبردار رہنا واجب ہے، کیونکہ اس میں اہل کتاب سے مشابہت ہے۔
  • سابقہ امتوں پر اس امت کی فضیلت کا بیان، کیونکہ انہوں نے اپنے انبیاء سے کہا: ہم نے سنا اور نافرمانی کی، اور اس امت نے کہا: ہم نے سنا اور اطاعت کی۔
  • امت کی فضیلت کہ اس سے تنگی اٹھا لی گئی، بھول چوک اور خطا پر مواخذہ نہ کرنے کی دعا قبول ہوئی، اس پر سے وہ بوجھ اتار دیے گئے جو ان سے پہلے لوگوں پر تھے اور اس پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالا گیا۔
  • اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہم پر وہ بوجھ نہیں ڈالتا جس کی ہم میں طاقت نہ ہو، ہمیں ہماری طاقت سے زیادہ کا مکلف نہیں بناتا، اور یہ کہ وہ وسوسے جو ہمارے سینوں میں گردش کرتے ہیں، اگر ہم ان کی طرف مائل نہ ہوں، ان پر مطمئن نہ ہوں اور ان پر عمل نہ کریں تو وہ کوئی نقصان نہیں پہنچاتے۔
  • اللہ تعالی نے نبی ﷺ اور مومنین کی اس دعا کو اپنی کتاب میں ذکر فرمایا ہے، تاکہ یہ نبی ﷺ اور صحابہ رضی اللہ عنہم کے بعد آنے والوں کی دعا بن جائے۔ یہ ان دعاؤں میں سے ہے جنہیں یاد کرنا اور کثرت سے مانگنا چاہیے۔

Explanation

When Allah Almighty revealed to His Prophet (ﷺ) His saying: {To Allah belongs all that is in the heavens and all that is on earth} in creation, ownership, control, and management. {Whether you reveal} show and declare {what is within yourselves} and in your hearts {or conceal it} and hide it in your hearts, {Allah will call you to account for it} on the Day of Judgment. {He forgives whom He wills} out of His grace and mercy {and punishes whom He wills} out of His justice, {for Allah is Most Capable of all things} and nothing is beyond His power. When the Companions heard this verse, it was hard on them, for it implied being held accountable even for the thoughts that pass through the heart. So they came to the Messenger of Allah (ﷺ) and knelt down on their knees, saying: O Messenger of Allah, we have been commanded with bodily acts of worship that we are able to perform—such as prayer, fasting, Jihad, and charity—but this verse has been revealed to you and we cannot bear it. The Prophet (ﷺ) said to them: Do you wish to say as the Jews and Christians said: {We hear and disobey}? Rather say: {We hear and obey. Grant us Your forgiveness, our Lord, and to You is the [final] destination.} The Companions obeyed the command of Allah and His Messenger and said: We hear and obey. Grant us Your forgiveness, our Lord, and to You is the [final] destination. When the Muslims spoke those words with their tongues and their hearts submitted to them, Allah revealed—as a commendation for the Prophet (ﷺ) and his Ummah—His saying: {The Messenger believes in what has been sent down to him from his Lord, as do the believers} and their tongues and hearts submitted to Allah's command. {All of them believe in Allah, His angels, His Books, and His messengers, [saying], “We make no distinction between any of His messengers.”} Rather, we believe in all of them. {And they say, “We hear} your words {and obey} Your command, and we seek {Your forgiveness, our Lord} and Your pardon, {and to You is the [final] destination”} and the return on the Day when the reckoning will take place. When they did that and said what they were commanded to say—openly declaring their willingness to hear and obey Allah's commands—Allah eased the burden upon this Ummah and abrogated that verse with His saying: {Allah does not burden any soul greater than it can bear} beyond its ability, strength, and effort. {For it is} the reward of {what it has earned} and performed of goodness, {and against it is} the punishment of {what it has incurred} of evil and sins. Thus, Allah does not hold anyone accountable for another's sin, nor for the whispers and passing thoughts within one's own self. {Our Lord, do not hold us accountable} and punish us {if we forget} and do not remember {or fall into error} and unintentionally deviate from what is right. So Allah responded to their supplication and said: Yes, I have done so. {Our Lord, do not place on us such a burden} hardship and load {as You have placed on those before us} from among the Children of Israel and others. So Allah responded to their supplication and said: Yes, I have done so. {Our Lord, do not burden us with that which we cannot bear} of duties, trials, or hardships beyond our strength. Allah said: Yes, I have done so. {Pardon us} and erase our sins, {forgive us} conceal them and overlook them, {and have mercy on us} through Your vast mercy. {You are our Protector} and Master, {so give us victory} by granting us steadfastness and triumph in battle and argument {over the disbelieving people} in fighting and striving against them. So Allah responded to their supplication and said: Yes, I have done so.

Topics موضوعات