صحیح بخاری · صحیح مسلم
Sahih al-Bukhari · Sahih Muslim

”اللہ تعالی کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسنديده وہ آدمی ہے، جو سخت جھگڑالو ہو“۔

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
5474Sahih صحیح
عن عائشة رضي الله عنها عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «إِنَّ أَبْغَضَ الرِّجَالِ إِلَى اللهِ الْأَلَدُّ الْخَصِمُ».
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ”اللہ تعالی کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسنديده وہ آدمی ہے، جو سخت جھگڑالو ہو“۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
‘Ā’ishah (may Allah be pleased with her) reported: The Prophet (may Allah’s peace and blessings be upon him) said: "The most hated person in the sight of Allah is the most quarrelsome person."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: متفق عليه
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #5474

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ اللہ تبارک و تعالی سخت جھگڑا لو قسم کے شخص سے نفرت کرتا ہے، جو حق بات کو تسلیم کرنے کے لیے آمادہ نہ ہوتا ہو اور اسے اپنی بحث سے نکارنے کی کوشش کرتا ہو یا پھر جھگڑتا تو حق بات کے لیے ہو، لیکن جھگڑتے وقت حدّ اعتدال کو پارکر جاتا ہو اور بلا علم بحث کرتا ہو۔

حدیث کے فوائد

  • مظلوم شخص کا شرعی طریقے سے عدالت میں جاکر اپنا حق مانگنا مذموم جھگڑے کے دائرے میں نہیں آتا۔
  • بحث ومباحثہ اور جھگڑا زبان کی آفتوں میں سے ایک آفت ہے، جو مسلمانوں کے بیچ افتراق و انتشار کا سبب بنتا ہے۔
  • بحث اگر حق کے لیے کی جائے اور اس کا طریقہ اچھا ہو، تو قابل تعریف ہے۔ لیکن اگر حق بات کو دبانے اور باطل کو ثابت کرنے کے لیے کی جائے، یا پھر بنا کسی دلیل کے کی جائے، تو قابل مذمت ہے۔

Explanation

The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) informs that Allah Almighty dislikes people who are given to tough quarreling, those who refuse to submit to the truth and try to repel it with their argumentation, or they engage in rightful arguments. Still, they do so in an immoderate manner or without knowledge.

Topics موضوعات