اے اللہ! ہم تجھ کو ان کے سامنےکرتے ہیں اور تیرے ذریعے ان کی شرارتوں سے پناہ مانگتے ہیں۔
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- سنن ابو داؤدSunan Abi Dawudسنن نسائیSunan an-Nasa'iمسند احمدMusnad AhmadOriginal wording: اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #5473Sunan Abi Dawud & Sunan an-Nasa'i & Musnad Ahmad (HadeethEnc 5473)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
”اللَّهُمَّ إنَّا نَجْعَلُكَ في نُحُورِهِمْ“ یعنی ہم تجھے ان کے سامنے کرتے ہیں تاکہ تو انہیں ہم سے دور کرے اور ہمیں ان سے بچائے۔ یہاں ”نَحر“ (سینہ) کا ذکر بطور خاص کیا گیا کیونکہ یہ دفاع کرنے میں اور جس سے دفاع کیا جا رہا ہے اس پر قابو پانے میں سب سے تیز اور سب سے زیادہ طاقت ور ہوتا ہے، اور دشمن لڑائی کےلیے اٹھ کھڑے ہونے کے وقت اپنے سینے ہی سے سامنا کرتا ہے۔ یا پھر اس میں دشمنوں کو ذبح کرنے یا انہیں قتل کرنے کی نیک شگونی ہے۔ ”وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شُرُورِهِمْ“اور ہم تیرے ذریعے ان کی شرارتوں سے پناہ مانگتے ہیں، چنانچہ اس صورتِ حال میں اللہ تعالیٰ تمہارے لیے ان کے شر سے کافی ہوجائے گا۔ مطلب یہ کہ ہم تجھ سے دعا گو ہیں کہ تو انہیں ہم سے روک دے، ان کے شر کو ہم سے ہٹا دے اور ان کے سلسلے میں ہمیں کافی ہو جا اور ہمارے اور ان کے مابین حائل ہوجا۔ یہ دو آسان لفظ ہیں جنہیں اگر کوئی شخص ایمانداری اور خلوص دل سے پڑھے گا تو اللہ تعالی اس کا دفاع کرے گا۔ اور اللہ ہی توفیق دینے والا ہے۔
Explanation
The supplication: We ask You to be ahead of them, to push them away from us and to protect us from them.
He mentioned the 'Nahr', which is the neck or chest, because it is the quickest and strongest way to push someone away, given that the enemy approaches the fight with his chest forward. Or, perhaps it denotes optimism with the prospect of cutting their necks, i.e. killing them.
"And we seek Your protection from their evil", i.e. when Allah wards the enemy off on our behalf, He keeps us safe from their evil.
In other words, we ask You, O Allah, to stop their advance, avert their evil, and deal with them on our behalf.
They are only a few words, but if one says them with sincerity and truthfulness, then indeed Allah will grant him protection.