”جو (امیر کی) اطاعت سے نکل جائے اور (مسلمانوں کی) جماعت چھوڑ دے اور اسی حال میں اس کی موت ہو جائے، تو ایسی…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: رواه مسلم
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #58218Sahih Muslim (HadeethEnc 58218)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ جو شخص حکمرانوں کی اطاعت کے دائرے سے باہر نکل گیا اور امام کی بیعت پر اتفاق رکھنے والی جماعت اسلام سے الگ ہو گيا، پھر اسی علاحدگی اور عدم اطاعت کی حالت میں مر گیا، تو وہ زمانۂ جاہلیت کے لوگوں کی موت مرا، جو نہ کسی امیر کی اطاعت کرتے تھے اور نہ ایک جماعت سے جڑے ہوئے تھے۔ بلکہ الگ الگ ٹولیوں اور جتھوں میں بٹے ہوئے تھے اور ایک دوسرے سے بر سر پیکار تھے۔
اسی طرح آپ نے بتایا کہ جس نے کسی ایسے جھنڈے کے نیچے کھڑے ہو کر جنگ کی، جس کے بارے میں یہ واضح نہ ہو کہ وہ حق کی بنیاد پر اٹھایا گیا ہے یا باطل کی بنیاد پر، پھر وہ اللہ کے دین کے لیے نہیں، بلکہ اپنی قوم یا اپنے قبیلے کے تعصب میں طیش میں آتا ہو اور علم و بصیرت سے خالی ہو کر محض تعصب کی بنیاد پر جنگ میں شریک ہوتا ہو اور اسی حالت میں مر جائے، تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہوگی۔
اسی طرح جس نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی امت کے خلاف بغاوت کی، وہ اس کے نیک و بد سبھی لوگوں کی گردن ناپنے لگے، اپنی ان حرکتوں کی کوئی پرواہ نہ رکھے، ایمان والوں کے قتل کے انجام سے خوف نہ کھائے، معاہد غیر مسلموں اور حکمرانوں سے کیے گئے وعدے کو پورا نہ کرے، تو وہ اپنے ان گناہوں کی وجہ سے، جو کبیرہ گناہوں کے ضمن میں آتے ہیں، اس شدید ترین وعید کا حق دار بن گیا۔
حدیث کے فوائد
- حکمرانوں کی اطاعت واجب ہے، جب تک وہ کسی ایسے کام کا حکم نہ دیں، جس سے اللہ تعالی کی نافرمانی لازم آتی ہو۔
- اس حدیث میں مسلم حکمراں کی اطاعت سے باہر نکل جانے اور مسلمانوں کی جماعت سے الگ ہو جانے سے پر زور انداز میں خبردار کیا گیا ہے۔ اگر کوئی شخص اس طرح کی حالت میں مر جاتا ہے، تو وہ دور جاہلیت کے لوگوں کی موت مر جاتا ہے۔
- اس حدیث میں عصبیت کی بنیاد پر جنگ کرنے سے منع کیا گیا ہے۔
- ایفائے عہد واجب ہے۔
- امام (حکمراں) کی اطاعت اور جماعت سے لازمی وابستگی کے بہت سے فائدے ہیں۔ اس سے امن و سکون کی فضا بنتی ہے اور سارے احوال ٹھیک رہتے ہیں۔
- دور جاہلیت کے لوگوں کی مشابہت اختیار کرنے کی ممانعت۔
- مسلمانوں کی جماعت سے لازمی طور پر وابستہ رہنے کا حکم۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) pointed out that if anyone departs from obedience to the rulers and separates from the community of Muslims who agreed to pledge allegiance to the ruler and dies in this state of separation and disobedience, he has died like the death of the people of jāhiliyyah, who would not obey a leader or join one group; instead, they were different groups and tribes fighting one another.
And the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) informed that if anyone fights under a banner with which he cannot distinguish the truth from falsehood. He gets angry for the sole purpose of bias for his people or tribe, not for supporting the religion and the truth. He fights for fanaticism without insight or knowledge; his killing is like that of jāhiliyyah if he dies in this state.
And that if anyone revolts against his Ummah, striking the righteous and the wicked of them and not caring about what he does or not fearing the punishment for killing the believers among them, and does not fulfill a covenant with those whom he has made covenants with from among the disbelievers or the rulers – rather, he violates them – this is a major sin and whoever commits it deserves this stern warning.