”ہر دن، جس میں سورج طلوع ہوتا ہے، انسان کے ہر جوڑ پر صدقہ کرنا واجب ہے۔
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق عليه
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #4568Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 4568)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ ہر مکلف مسلمان کو ہر روز اس کی ہڈی کے ہر جوڑ کے بدلے میں ایک ایک نفلی صدقہ اس بات کے شکر کے طور پر کرنا ہے کہ اللہ نے اسے عافیت دی اور اس کی ہڈیوں میں جوڑ بنائے، جن کی وجہ سے اعضاے جسم کو سمیٹنا اور پھیلانا ممکن ہو سکا۔ یہ صدقہ تمام طرح کی نیکی کے کاموں سے ادا ہو سکتا ہے۔ مال دینے پر موقوف نہيں ہے۔ مثلا : دو جھگڑ رہے لوگوں کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنا اور صلح کرا دینا صدقہ ہے۔ کسی ایسے شخص کو جو سواری پر چڑھ نہ پا رہا ہو، سواری پر چڑھا دینا یا اس کا سامان لاد دینا صدقہ ہے۔ اچھی بات، جیسے ذکر، دعا اور سلام وغیرہ صدقہ ہیں۔ نماز کے لیے جاتے وقت اٹھنے والا ہر قدم صدقہ ہے۔ راستے سے کسی تکلیف دہ چيز کو ہٹا دینا صدقہ ہے۔
حدیث کے فوائد
- انسان کی ہڈیوں کا جڑاؤ اور ان کی سلامتی اللہ کی عظیم ترین نعمتوں میں سے ہے۔ چنانچہ ہر ایک ہڈی کا یہ حق ہے کہ اس کی طرف سے خاص صدقہ کیا جائے، تاکہ اس نعمت پر اللہ کا شکر بجا لایا جا سکے۔
- ان نعمتوں کی بقا کے لیے ہر روز نئے سرے سے شکر ادا کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔
- ہر روز نوافل اور صدقوں کا اہتمام کرنے کی ترغیب۔
- لوگوں کے درمیان صلح کرانے کی فضیلت۔
- اپنے بھائی کی مدد کرنے کی ترغیب۔ کیوں کہ اپنے بھائی کی مدد کرنا بھی صدقہ ہے۔
- نماز باجماعت میں شریک ہونے، اس کے لیے چل کر جانے اور مسجد کو آباد کرنے کی ترغیب۔
- مسلمانوں کے راستوں کا احترام کرنا واجب ہے، بایں طور کہ ان راستوں پر ایسا کوئی کام نہ کیا جائے، جس سے ان کو تکلیف یا نقصان پہنچے۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) clarified that every religiously accountable Muslim should give every day a voluntary charity on behalf of every single one of his bone joints as a form of expressing gratitude to Allah Almighty for well-being and for creating his bones with joints that allow him to grasp and stretch. This charity can be fulfilled not through giving money alone but through all types of righteous acts, which include: Acting justly and reconciling between those in disagreement counts as a charity. Helping someone disabled with his mount by helping him ride on it or lifting his luggage on it counts as a charity. The good word, whether it is Dhikr (remembrance of Allah), supplication, greeting of peace, or otherwise counts as a charity. Every step you take to the prayer counts as a charity. Removing what is harmful from the way counts as a charity.