صحیح بخاری
Sahih al-Bukhari

”دنیا میں ایسے رہو، جیسے ایک اجنبی یا راہ گیر ہو“۔

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
4704Sahih صحیح
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَنْكِبِي، فَقَالَ: «كُنْ فِي الدُّنْيَا كَأَنَّكَ غَرِيبٌ أَوْ عَابِرُ سَبِيلٍ»، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ، يَقُولُ: إِذَا أَمْسَيْتَ فَلاَ تَنْتَظِرِ الصَّبَاحَ، وَإِذَا أَصْبَحْتَ فَلاَ تَنْتَظِرِ المَسَاءَ، وَخُذْ مِنْ صِحَّتِكَ لِمَرَضِكَ، وَمِنْ حَيَاتِكَ لِمَوْتِكَ.
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بيان کرتے ہيں کہ رسول الله ﷺ نے میرا کندھا پکڑ کر فرمایا : ”دنیا میں ایسے رہو، جیسے ایک اجنبی یا راہ گیر ہو“۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما فرمايا کرتے تھے: ”جب تم شام کرو تو صبح کا انتظار نہ کرو اور جب صبح کرو تو شام کا انتظار نہ کرو۔ اپنی صحت وتندرستی کے زمانے ميں بيماری کے ليے اور اپنی زندگی ميں موت کے ليے تيارى كرلو“۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
‘Abdullah ibn ‘Umar (may Allah be pleased with him and his father) reported: The Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) took me by the shoulder and said: "Be in this world as if you are a stranger or a wayfarer." Ibn ‘Umar used to say: If you reach the evening, do not wait for the morning, and if you reach the morning, do not wait for the evening. Take from your health for your sickness and from your life for your death.
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhari
Original wording: رواه البخاري
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #4704

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہيں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کے کندھے کو پکڑا اور ان سے کہا : دنیا میں ایسے رہو، جیسے تم ایک اجنبی آدمی ہو، جو ایک ایسی جگہ پہنچ چکا ہو، جہاں نہ رہنے کا گھر ہو اور نہ دل بہلانے کے لیے آدمی۔ نہ اہل و عیال ہوں اور نہ رشتے داریاں۔ کیوں کہ یہی چيزیں انسان کو اس کے پیدا کرنے والے سے مشغول رکھتی ہیں۔ بلکہ اجنبی سے بھی دو قدم آگے بڑھ کر اپنے وطن کی تلاش میں نکلا ہوا راہ گير بن جاؤ۔ اجنبی شخص تو کبھی کبھی کسی اجنبی جگہ میں اقامت گزیں بھی ہو جاتا ہے، لیکن اپنے شہر کی جانب جاتا ہوا راہ گير چلتا ہی رہتا ہے۔ کہیں اقامت پزیر نہيں ہوتا۔ اس کی نظر منزل پر رہتی ہے۔ لہذا جس طرح ایک مسافر اتنی ہی چيزیں ساتھ لے جانا ضروری سمجھتا ہے، جو منزل تک پہنچا دیں، اسی طرح ایک مومن دنیا کے اتنے ہی اسباب جمع کرنا ضروری سمجھتا ہے، جو اسے منزل (جنت) تک پہنچا دیں۔

چنانچہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس نصیحت پر مکمل طور سے عمل کیا۔ وہ کہا کرتے تھے : صبح آئے، تو شام کا انتظار مت کرو اور شام آئے تو صبح کا انتظار مت کرو۔ خود کو قبر میں دفن لوگوں میں شمار کرو۔ کیوں کہ انسان کی زندگی صحت اور مرض سے خالی نہيں ہوتی۔ اس لیے بیماری کے دن آنے سے پہلے صحت کے دنوں میں نیکی کے کام کر لیا کرو۔ صحت کے دنوں میں نیکی کے کام کرتے جاؤ کہ کہیں بیماری راہ نہ روک لے۔ دنیا کی زندگی کو غنیمت جانتے ہوئے ایسی چیزیں اکٹھی کرلو، جو موت کے بعد کام آئيں۔

حدیث کے فوائد

  • تعلیم دیتے وقت انسیت پیدا کرنے اور توجہ مرکوز کرانے کے لیے استاد شاگرد کے کندھے پر اپنا ہاتھ رکھ سکتا ہے۔
  • مطالبے کے بغیر بھی کسی کی خیرخواہی اور رہ نمائی کی جا سکتی ہے۔
  • اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے طریقۂ تعلیم کی ایک خوب صورتی یہ ہے کہ آپ اطمینان بخش مثالیں پیش کیا کرتے تھے۔ مثلا یہاں فرمایا : ”دنیا میں ایسے رہو، جیسے ایک اجنبی یا راہ گیر ہو“۔
  • آخرت کی راہ پر چلنے والے لوگوں کے الگ الگ درجات ہوا کرتے ہیں۔ چنانچہ زہد کے معاملے میں راہ گير کا درجہ اجنبی کے درجے سے اعلی ہے۔
  • امیدیں کم رکھنے اور موت کی تیاری کرنے کا بیان۔
  • یہ حدیث فکر معاش سے کنارہ کش ہونے اور دنیا کی لذتوں کو حرام کر لینے پر دلالت نہیں کرتی۔ یہ بس دنیا کے پیچھے سرپٹ دوڑنے سے بچنے کی ترغیب دیتی ہے۔
  • نیکی کے کام اس سے پہلے کر لیے جائيں کہ بیماری یا موت راہ روک لے اور انسان کچھ کر نہ سکے۔
  • عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی فضیلت کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس نصیحت سے بہت متاثر ہوئے۔
  • ایمان والوں کا وطن جنت ہے۔ اسى لئے وہ اس دنیا میں اجنبی ہیں۔ وہ آخرت کے سفر پر رواں دواں ہيں۔ اس لیے اجنبی شہر کی کسی چيز سے دل نہ لگائيں۔ ان کے دل اپنے وطن پر اٹکے رہیں۔ دنیا میں سکونت بس اس لیے ہو کہ ضرورت پوری ہو جائے اور وطن کی جانب لوٹنے کی تیاری ہو جائے۔

Explanation

Ibn ‘Umar (may Allah be pleased with him and his father) mentioned that the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) took him by the shoulder—the part that joins the arm with the shoulder—and said to him, Be in this world as if you are a stranger who arrived at a country where he has no house to shelter him and no one to keep his accompany. He is away from family, children, and relationships that are the cause behind one's distraction from the Creator. Rather, be more than a stranger, i.e., a wayfarer who passes by the way seeking his homeland. This is because the stranger may live in a foreign land and reside therein, unlike the wayfarer who passes by swiftly without stopping and whose main concern is to reach his homeland. Just as a traveler needs nothing beyond what helps him reach his destination, a believer needs nothing in this world beyond what helps him reach his destination in the Hereafter.

Ibn ‘Umar acted upon this advice, and he used to say: If you reach the morning, do not wait for the evening; and if you reach the evening, do not wait for the morning, and count yourself among the grave dwellers. Given the fact that health and sickness are inevitable in one's life, then hasten to obedience when you are in good health before getting sick, and take advantage of your health in performing righteous acts before being prevented by sickness. Take advantage of your life in this world and do everything that could benefit you after your death.

Topics موضوعات