ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
HadeethEnc Encyclopedia

”نہ (ابتداءً) کسی کو نقصان پہنچانا جائز ہے اور نہ بدلے کے طور پر نقصان پہنچانا۔ جو دوسرے کا نقصان کرے گا،…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
4711Sahih صحیح
عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ، مَنْ ضَارَّ ضَرَّهُ اللَّهُ، وَمَنْ شَاقَّ شَقَّ اللَّهُ عَلَيْهِ».
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ”نہ (ابتداءً) کسی کو نقصان پہنچانا جائز ہے اور نہ بدلے کے طور پر نقصان پہنچانا۔ جو دوسرے کا نقصان کرے گا، اللہ اس کا نقصان کرے گا اور جو دوسرے کو مشقت میں ڈالے گا، اللہ اسے مشقت میں ڈالے گا‘‘۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Abu Sa‘īd al-Khudri (may Allah be pleased with him) reported: The Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) said: "There should be no harm or reciprocal harm. Whoever causes harm, Allah harms him, and whoever makes things difficult, Allah makes things difficult for him."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
Not named by the source
Original wording: رواه الدارقطني
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #4711

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ خود اپنے نفس کو اور دوسروں کو کسی بھی طرح کا ضرر پہنچانے سے بچنا ضروری ہے۔ نہ تو خود کو اذیت دینا جائز ہے اور نہ کسی اور کو اذیت دینا جائز ہے۔ دونوں ہی باتیں ناجائز ہيں۔

کسی کے لیے بھی ضرر کے مقابلے میں ضرر پہنچانا جائز نہيں ہے۔ کیوں کہ ضرر کا ازالہ ضرر کے ذریعے قصاص کے علاوہ کہیں اور جائز نہيں ہے، اور یہ بھی اس وقت جائز ہے جب ظلم وتعدی نہ ہو۔

پھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے خبردار کرتے ہوئے بتایا کہ جو شخص لوگوں کو نقصان پہنچائے گا، اسے خود نقصان کا شکار ہونا پڑے گا اور جو شخص لوگوں کو مشقت میں ڈالے گا، اسے خود مشقت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

حدیث کے فوائد

  • جتنا نقصان پہنچایا گیا ہو اس سے زیادہ بدلہ لینا جائ‏ز نہيں ہے۔
  • اللہ نے اپنے بندوں کو کسی ایسے کام کا حکم نہيں دیا ہے، جو ان کے لیے نقصان دہ ہو۔
  • قول، فعل یا ترک کے ذریعے نہ کسی کو بلاوجہ ضرر پہنچانا جائز ہے اور نہ بدلے میں ضرر پہنچانا جائز ہے۔
  • انسان کو جزا اسی جنس کی دی جاتی ہے، جس جنس کی اس کا عمل رہتا ہے۔ چنانچہ جو دوسرے کا نقصان کرے گا، اللہ اس کا نقصان کرے گا اور جو دوسرے کو مشقت میں ڈالے گا، اللہ اسے مشقت میں ڈالے گا۔
  • شریعت کا ایک قاعدہ یہ ہے کہ ضرر کو زائل کیا جائے گا۔ لہذا شریعت ضرر کو قبول نہيں کرتی، بلکہ اسے رد کرتی ہے۔

Explanation

The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) pointed out that we should avert harm from ourselves and others in all its kinds and manifestations. It is equally impermissible for anyone to harm himself or harm others.

It is also not permissible to respond to harm with harm, for harm will not be removed with harm, except by way of legal retribution, without transgression.

Then, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) warned that whoever harms people will be harmed, and whoever makes things hard for people will find hardship.

Topics موضوعات