کسی مسلمان کا خون صرف تین وجہ سے جائز ہوتا ہے
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق عليه
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #4714Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 4714)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی ﷺ فرما رہے ہیں کہ مسلمان کا خون بہانا حرام ہے اور اس کی اجازت صرف اسی وقت دی جا سکتی ہے، جب اس سے درج ذیل تین کاموں میں سے کوئی ایک کام سرزد ہو جائے : پہلا : جس نے عقد صحیح کی بنیاد پر نکاح کرنے کے باوجود زنا کاری کی۔ ایسے شخص کو سنگ سار کیا جائے گا۔ دوسرا : جس نے کسی معصوم انسان کو جان بوجھ کر ناحق قتل کر دیا۔ ایسے شخص کو کچھ شرطوں کے ساتھ قتل کر دیا جائے گا۔ تیسرا : جو مسلمانوں کی جماعت سے نکل گیا ہو۔ خواہ اپنے مذہب یعنی اسلام کو پورے طور پر چھوڑ کر مرتد ہو گیا ہو یا پھر مرتد تو نہ ہوا ہو، لیکن اسلام کی بعض تعلیمات سے روگردانی کر کے مسلمانوں کی جماعت سے الگ ہو گیا ہو۔ جیسے بغاوت کی ہو، رہزنی کی ہو یا مسلمانوں سے مائل بہ جنگ ہو جیسے خوارج وغیرہ کا طریقہ ہے۔
حدیث کے فوائد
- ان تینوں کاموں کو کرنا حرام ہے۔ جو ان میں سے کوئی ایک کام کرے، وہ سزائے موت کا حق دار بن جاتا ہے۔ سزائے موت کا حق دار یا تو کفر کی وجہ سے بنتا ہے۔ اس کی مثال ارتداد کا شکار شخص ہے۔ یا پھر حد کے طور پر۔ بطور حد سزائے موت کا حق دار دو لوگ بنتے ہیں: شادی شدہ زناکار اور جان بوجھ کر کسی کا قتل کرنے والا۔
- عزت و آبرو کی حفاظت کرنا اور اسے صاف ستھرا رکھنا واجب ہے۔
- مسلمان کا احترام واجب ہے۔ وہ معصوم الدم ہے۔
- مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ جڑے رہنے اور جماعت سے الگ نہ ہونے کی ترغیب۔
- نبی ﷺ کے تعلیم دینے کا بہترین انداز کہ کبھی کبھی آپ اپنی بات تقسیم کے ذریعے رکھتے تھے۔ کیوں کہ تقسیم سے مسائل کا استقصا ہو جاتا ہے اور یاد کرنا بھی آسان ہو جاتا ہے۔
- اللہ تعالی نے جرم روکنے، معاشرے کو تحفظ فراہم کرنے اور اسے جرائم سے پاک صاف کرنے کے لیے حدود متعین کیے ہیں۔
- ان حدود کا نافذ کرنا حکمراں کا کام ہے۔
- قتل کے مذکورہ تین اسباب کے علاوہ اور بھی اسباب ہیں۔ البتہ وہ ان تین اسباب کے دائرے سے باہر نہيں ہيں۔ ابن عربی مالکی کہتے ہيں: دیگر اسباب ان تین اسباب سے کسی بھی صورت میں باہر نہيں ہيں۔ کیوں کہ جادو کرنے والا اور اللہ کے نبی ﷺ کو گالی دینے والا اپنا دین چھوڑنے والے کے زمرے میں آ جاتا ہے۔
Explanation
The Prophet (ﷺ) clarified that a Muslim is inviolable unless he commits one of the three: First: He who commits adultery after being legally married, it is lawful that he be stoned to death. Second: He who intentionally kills an inviolable person unlawfully is killed with the relevant conditions. Third: He who separates from the Islamic body, either by leaving his religion of Islam altogether by apostatizing, or departs from it by abandoning part of it, without apostasy, like those who engage in transgression, highway robbery, and rebels such as the Kharijites and others.