’’میں کہتا ہوں: اللھم باعد بینی وبین خطایاي کما باعدت بین المشرق والمغرب
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
ترجمہ: اے اللہ! میرے اور میرے گناہوں کے درمیان اس طرح دوری ڈال دے، جس طرح تونے مشرق اور مغرب کے درمیان دوری ڈالی ہے۔ اے اللہ! مجھے میرے گناہوں سے اس طرح پاک صاف کر دے، جس طرح سفید کپڑا میل کچیل سے صاف کیا جاتا ہے۔ اے اللہ! مجھے میرے گناہوں سے دھودے، برف کے ساتھ، پانی کےساتھ اور اولوں کے ساتھ‘‘۔
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق عليه
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #3104Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 3104)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب نماز کی تکبیر کہتے، تو سورہ فاتحہ پڑھنے سے پہلے ذرا دیر رکتے۔ اس وقفے میں کچھ دعاؤں کے ذریعے نماز کا آغاز کرتے۔ ان میں سے ایک دعا یہ ہے : "اے اللہ! میرے اور میرے گناہوں کے درمیان اس طرح دوری ڈال دے، جس طرح تونے مشرق اور مغرب کے درمیان دوری ڈالی ہے۔ اے اللہ! مجھے میرے گناہوں سے اس طرح پاک صاف کر دے، جس طرح سفید کپڑا میل کچیل سے صاف کیا جاتا ہے۔ اے اللہ! مجھے میرے گناہوں سے دھودے، برف کے ساتھ، پانی کےساتھ اور اولوں کے ساتھ"۔ آپ اللہ عز و جل سے دعا کرتے کہ وہ آپ کو گناہوں میں ملوث ہونے سے بچانے کے لیے آپ کے اور آپ کے درمیان اتنی دوری بنا دے کہ دونوں ایک دوسرے سے مل نہ سکيں۔ جیسے کہ مشرق اور مغرب کبھی آپس میں مل نہیں سکتے۔ اور اگر اس میں ملوث ہو بھی جائيں، تو ان سے آپ کو ایسے صاف ستھرا کر دے کہ جیسے سفید کپڑے سے میل کچیل کو دھو کر صاف ستھرا کر دیا جاتا ہے۔ اسی طرح آپ کو پانی، برف اور اولہ جیسی ٹھنڈی چیزوں کے ذریعے گناہوں سے دھو دے اور گناہوں کی تپش اور گرمی کو ٹھنڈا کر دے۔
حدیث کے فوائد
- دعائے استفتاح پست آواز میں پڑھی جائے گی خواہ نماز جہری ہی کیوں نہ ہو۔
- صحابہ رضي الله عنهم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حرکات وسکنات کو جاننے کی حرص رکھتے تھے۔
- دعائے استفتاح کے اور بھی صیغے وارد ہوئے ہيں۔ بہتر یہ ہے کہ انسان اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے وارد اور ثابت استفتاح کی دعاؤں کو یاد کرلے اور کبھی اسے پڑھے تو کبھی اسے۔
Explanation
On making Takbīr to commence the prayer, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) would take a brief pause before reciting Surat al-Fātihah. During this pause, he would start his prayer by reciting some supplications. Among the supplications reported in this regard is his saying: "Allāhumma bā‘id bayni wa bayna khatāyāy kama bā‘dta bayna al-mashriqi wa al-maghrib*. Allāhumma naqqini min khatāyāy kama yunaqqa ath-thawbu al-abyadu min ad-danas. Allāhumma ighsilni min khatāyāy bith-thalji wa al-mā’i wa al-barad (O Allah, distance me from my sins as You have distanced the east from the west. O Allah, purify me from my sins as a white garment is purified from dirt. O Allah, wash out my sins with water, snow, and hail)." He supplicates Allah Almighty to keep him far from sins, by helping him not to commit them, in such a way that makes it impossible for them to meet, just as the East and the West can never meet; and to purify him and remove such sins if he commits them, as filth is removed from the white garment; and to wash him from his sins and cool off its flames and heat with such cold purifiers: water, snow, and hail.