Sahih al-Bukhari · Sahih Muslim صحیح بخاری · صحیح مسلم

”جب تم میں سے کوئی نیند سے بیدار ہو، تو تین مرتبہ اپنی ناک میں پانی ڈال کر جھاڑ لے، کیوں کہ شیطان اس کی ناک…

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ مَنَامِهِ فَلْيَسْتَنْثِرْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَبِيتُ عَلَى خَيَاشِيمِهِ».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ”جب تم میں سے کوئی نیند سے بیدار ہو، تو تین مرتبہ اپنی ناک میں پانی ڈال کر جھاڑ لے، کیوں کہ شیطان اس کی ناک کے بانسے میں رات گزارتا ہے“۔
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) reported that the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said: "If any of you wakes up from his sleep, let him blow water out of his nose three times, as the devil spends the night on his nostrils."

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: متفق عليه
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #8377

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اس بات کی ترغیب دے رہے ہیں کہ جب کوئی شخص نیند سے بیدار ہو تو تین بار ناک میں پانی ڈال کر جھاڑ لے۔ اس حدیث میں آئے ہوئے لفظ "استنثار" کے معنی ہیں ناک میں پانی ڈال کر جھاڑنا۔ یہ حکم اس لیے دیا گیا ہے کہ شیطان انسان کی ناک کے اندر رات گزارتا ہے۔

حدیث کے فوائد

  • نیند سے بیدار ہونے والے ہر شخص کے لیے شیطان کے اثر کو زائل کرنے کے لیے ناک جھاڑنا مشروع ہے۔ اگر وضو کا ارادہ ہو تو ناک جھاڑنے کی تاکید دو چند ہو جاتی ہے۔
  • ناک جھاڑنے سے ناک میں پانی چڑھانے کا فائدہ پورے طور پر حاصل ہوتا ہے۔ کیوں کہ ناک میں پانی چڑھانا ناک کے اندرونی حصے کی صفائی کا ذریعہ ہے۔ جب کہ ناک جھاڑنے سے اندر کی گندگی پانی کے ساتھ نکل جاتی ہے۔
  • اس حدیث میں جو بات کہی گئی ہے، اسے رات میں سونے تک محدود اس حدیث میں آئے ہوئے لفظ "يَبيت" کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ کیوں کہ اس لفظ کا استعمال رات میں سونے کے لیے ہی ہوتا ہے۔ ویسے بھی رات کی نیند لمبی اور گہری ہوتی ہے۔
  • یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ شیطان انسان کے ساتھ رہتا ہے اور انسان کو اس کا احساس نہيں ہوتا۔

Explanation

The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) urges anyone who wakes up from his sleep to make Istinthar, i.e., blowing water out of the nose after sniffing it, three times because the devil spends the night on the nostril, which is the whole nose.

Topics موضوعات