جس نے قسم اٹھائی اورکہا کہ میں اسلام سے بری ہوں اگر وہ جھوٹا ہو تو وہ ایسا ہی ہو جائے گا جیسا اس نے کہا اور…
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- سنن ابو داؤدSunan Abi Dawudسنن نسائیSunan an-Nasa'iمسند احمدMusnad AhmadOriginal wording: اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #8965Sunan Abi Dawud & Sunan an-Nasa'i & Musnad Ahmad (HadeethEnc 8965)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
جس نے قسم اٹھائی اور کہا کہ وہ اسلام سے بری ہے یا پھر اس نے کہا کہ وہ یہودی، عیسائی، کافر اور ملحد ہے، تو اس کا معاملہ دو صورتوں سے خالی نہ ہو گا:
پہلی صورت: اس نے جو قسم اٹھائی اس میں وہ جھوٹا ہو۔ مثلاً وہ قسم اٹھائے کہ اگر ایسا اور ایسا ہے تو میں اسلام سے بری ہوں حالانکہ وہ جو بات بتا رہا ہے اس میں جھوٹا ہو مثلاً اگر اس نے یہ خبر دی کہ زید آج سفر سے واپس آ گیا ہے اور قسم اٹھائی کہ وہ اگر جھوٹا ہو تو وہ اسلام سے بری ہوجائے یا یہودی، عیسائی یا مشرک ہو جائے حالانکہ اسے بخوبی علم ہو کہ وہ جھوٹا ہے تو وہ ویسا ہی ہو جائے گا جیسا اس نے کہا یعنی اسلام سے بری ہوجائے یا پھر یہودی اور عیسائی ہو جائے گا۔
دوسری صورت: اس نے جو بات کہی وہ اس میں سچا ہو۔ مثلا اس نے کہا کہ زید آج سفر سے واپس آ گیا ہے یا یہ کہ اس نے یہ چیز نہیں کی اور اس پر وہ قسم اٹھائے کہ (اگر ایسا نہ ہو تو) وہ اسلام سے بری ہو جائے یا یہودی یا عیسائی ہو جائے اور وہ جس بات پر قسم اٹھا رہا ہے اس میں وہ سچا بھی ہو تو اس صورت میں بھی وہ اسلام کی طرف صحیح سالم نہیں لوٹے گا جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بلکہ ان الفاظ کی وجہ سے اس کے اسلام میں کمی واقع ہو جائے گی کیونکہ یہ بہت برے اور قبیح الفاظ ہیں۔
Explanation
Hadīth explanation: Whoever swears saying that he has nothing to do with Islam, or saying that he is a Jew, a Christian, a disbeliever, or an atheist; then his case is either of the two: The first case: that he is lying in what he swears about; such as saying: “If such and such matter is not true, then I have nothing to do with Islam,” while he is lying about it. For example, saying: Zayd arrived today from his trip, and if it is not true then I have nothing to do with Islam, or I am a Jew, a Christian or a polytheist; while he knows that is lying (that Zayd did not arrive today). The second case: that he is telling the truth; for example, if he said: Zayd arrived today from his trip, and if it is not true then I have nothing to do with Islam, or I am a Jew or a Christian. If he is truthful (Zayd did arrive today), then, in this case, his Islam will not be perfect anymore as the Messenger (may Allah's peace and blessings be upon him) said. Rather, his Islam will be deficient because of those heinous words he uttered.