جو شخص ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ سبحان اللہ، تینتیس مرتبہ الحمدللہ اور تینتیس مرتبہ اللہ اکبر کہے، تو یہ کل…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: رواه مسلم
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #10948Sahih Muslim (HadeethEnc 10948)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ جس نے فرض نماز سے فارغ ہونے کے بعد ان اوراد کا اہتمام کیا :
تینتیس بار سبحان اللہ۔ اس کے ذریعے تمام نقائص سے اللہ کے پاک ہونے کا اعلان کیا جاتا ہے۔
تینتیس بار "الحمد لله"۔ اس کے ذریعے اللہ تعالی کو اس کی محبت اور تعظیم کے ساتھ اوصاف کمال سے متصف کیا جاتا ہے۔
تینتیس بار اللہ اکبر۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تمام چيزوں سے عظیم اورسب سے بڑھ کر شان والا ہے۔
اور سو کی گنتی پوری کرنے کے لیے کہا جائے گا : "لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك، وله الحمد، وهو على كل شيء قدير"۔ جس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی برحق معبود نہیں ہے، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہيں، بس وہی اکیلے مکمل بادشاہت رکھتا ہے اور تمام تعریفات کا وہی مستحق ہے، وہ قادر مطلق ہے، اسے کوئی چیز عاجز و بے بس نہيں کر سکتی۔
جس نے اس ذکر کا اہتمام کیا، اس کے گناہ بخش دیے جاتے ہيں اور مٹادیے جاتے ہیں، چاہے وہ سمندر میں موجوں اور لہروں کے وقت ظاہر ہونے والے سفید جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔
حدیث کے فوائد
- فرض نمازوں کے بعد اس ذکر کو پڑھنا مستحب ہے۔
- یہ ذکر گناہوں کی مغفرت کا سبب ہے۔
- اللہ کا عظیم فضل و کرم اور رحمت و مغفرت۔
- یہ ذکر گناہوں کی مغفرت کا سبب ہے۔ یاد رہے کہ اس سے صغیرہ گناہ ہی معاف ہوتے ہيں۔ کبیرہ گناہ کے لیے توبہ ضروری ہے۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) clarified that whoever says, after completing the obligatory prayer:
Thirty-three times: "Subhānallāh", which is exalting Allah far above deficiencies.
Thirty-three times: "Al-hamdulillāh", which is praising Allah with the attributes of perfection along with loving and glorifying Him.
Thirty-three times: "Allāhu Akbar", which means that Allah is greater and more magnificent than everything.
The completion of the number to one hundred by saying: "La ilāha illallāh wahdahu la sharīka lah, lahu al-mulku wa lahu al-hamdu wa huwa ‘ala kulli shay’in qadīr", which means: No deity is truly worthy of worship except Allah alone with no partner. He alone possesses full sovereignty. He is the only One worthy of praise and commendation along with love and glorification, and He is Omnipotent, and nothing escapes His power.
Whoever says this, his sins will be erased and forgiven, even if they are as abundant as the white foam that appears above the seawater when it is agitated and stormy.