میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم میں سے کسى پر اس کى بیوی کے کیا حقوق ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا : “جب تم کھاؤ تو…
Hasan (حسن) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- سنن ابو داؤدSunan Abi Dawudسنن ابن ماجہSunan Ibn Majahمسند احمدMusnad AhmadOriginal wording: رواه أبو داود وابن ماجه وأحمد
- 2Grade درجہ
- Hasan حسنGood: acceptable, slightly below Sahihقابلِ قبول: صحیح سے کچھ کم درجہGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #58093Sunan Abi Dawud & Sunan Ibn Majah & Musnad Ahmad (HadeethEnc 58093)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا گیا کہ شوہر پر بیوی کے کیا حقوق ہیں، تو آپ نے جواب میں چند چیزوں کا ذکر کیا۔ جیسے:
1- اسے چھوڑ کر خود نہ کھاؤ۔ جب جب کھاؤ، اسے بھی کھلاؤ۔
2- اسے چھوڑ کر خود نہ پہنو۔ جب خود پہنو، کماؤ اور استطاعت رکھو، تو اسے بھی پہناؤ۔
3- بلاسبب اور بلا ضرورت نہ مارو۔ تادیب کے لیے یا کوئی فریضہ ترک کرنے پر مارنے کی ضرورت پڑ جائے تو اجازت ہے، لیکن وہ بھی اذیت ناک نہ ہو اور چہرے پر نہ مارا جائے۔ کیوں کہ چہرہ جسم کا عظیم ترین، سب سے زیادہ دِکھنے والا اور کئی معزز اور نازک اعضا پر مشتمل حصہ ہے۔
4۔ گالی گلوج مت کرو۔ یہ مت کہو کہ اللہ تیرے چہرے کو بد نما بنا دے۔ کوئی ایسی بد دعا نہ کرو، جس میں چہرے یا جسم کے کسی حصے کو بدنما بنانے کی بات ہو۔ کیوں کہ انسان کے جسم اور چہرے کو اللہ نے بنایا ہے اور بہتر شکل و صورت عطا کی ہے جبکہ بناوٹ کی مذمت بنانے والے (خالق) کی جانب لوٹ جاتی ہے۔ والعیاذ باللہ
5- اس سے علاحدگی اختیار کرنا ضروری ہو، تو بس بستر الگ کر دو۔ اسے چھوڑ کر کسی دوسرے گھر میں مت جاؤ اور نہ اسے دوسرے گھر میں بھیجو۔ کیوں کہ میاں بیوی کے درمیان ایسی لا تعلقی عام طور پر ہو جایا کرتی ہے۔
حدیث کے فوائد
- صحابہ کی کوشش یہ جاننے کی ہوتی تھی کہ ان پر دوسروں کے کیا حقوق ہیں اور دوسروں پر ان کے کیا حقوق ہیں۔
- شوہر کی ذمے داری ہے کہ وہ بیوی کے نان و نفقے، کپڑے اور مکان کا انتظام کرے۔
- معنوی اور حسی دونوں طرح سے بد صورت بنانا منع ہے۔
- کسی سے یہ کہنا منع ہے کہ تم ایک گھٹیا قبیلے یا گھٹیا خاندان سے تعلق رکھتے ہو یا اس جیسی کوئی اور بات۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) was asked about the wife's right over her husband, so he mentioned several things including the following:
First: Do not favor yourself with food over her; rather, you should feed her whenever you eat.
Second: Do not favor yourself with clothing; rather, clothe her when you clothe yourself and when you earn money and have the ability.
Third: A wife should not be beaten except for a valid reason and necessity, and if there is a need to discipline her, such as neglecting some of her obligations, the striking must be light and not harmful. Furthermore, the face must never be struck, as it is the most honored and prominent part of the body, containing delicate and noble features.
Fourth: Do not insult or say: "May Allah disgrace your face," or attribute it or anything of her body to ugliness, which is the opposite of beauty. This is because Allah Almighty is the One Who shaped the human face and body, and He has perfected everything He created. Criticizing the creation indirectly leads to criticizing the Creator, and we seek refuge in Allah from such an act.
Fifth: Do not abandon her except in the bed, and do not physically leave her or move her to another house. This applies to typical instances of abandonment that may occur between spouses.