عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا یہ فرمان کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے جہاد کی اجازت چاہی تو آپ ﷺنے فرمایا : ’’تم…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-BukhariOriginal wording: اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #64598Sahih al-Bukhari (HadeethEnc 64598)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انھوں نے جہاد کی فضیلت کے پیش نظر، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے آپ کی معیت میں جہاد کرنے کی اجازت طلب کی، تو آپ نے واضح انداز میں بتا دیا کہ جہاد اور دشمنوں سے جنگ کرنا عورتوں کے حق میں مشروع نہیں ہے، کیونکہ عام طور سے عورتیں نازک اندام اور نرم دل ہوتی ہیں اور ان کے اندر خطروں کو جھیلنے کی صلاحیت کم ہوتی ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ عورتیں میدان جنگ میں زخمیوں کا علاج، پیاسوں کو پانی پلانا اور اس طرح کے دوسرے کام بھی نہیں کر سکتیں، کیونکہ صحیح حدیث میں آیا ہے کہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ سات غزوات میں شریک رہی۔ میں ان کے جانے کے بعد قیام گاہ میں رہتی، ان کے لیے کھانا بناتی، زخمیوں کا علاج کرتی اور مریضوں کی دیکھ بھال کرتی تھی۔
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے آگے فرمایا کہ ان کا جہاد حج میں ہوتا ہے۔ حج اور عمرہ کو جہاد سے تشبیہ اس بنا پر دی گئی ہے کہ دونوں میں سفر کرنا پڑتا ہے، وطن سے دور رہنا ہوتا ہے، اہل و عیال سے الگ رہنا پڑتا ہے، سفر کی صعوبتیں جھیلنا پڑتی ہیں، تھکاوٹ کا سامنا ہوتا ہے اور مال خرچ کرنا پڑتا ہے۔
امام مسلم رحمہ اللہ نے انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے حنین کے دن ایک خنجر اٹھایا اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے کہا کہ میں نے اسے اس لیے اٹھا رکھا ہے کہ اگر کسی مشرک نے میرے پاس آنے کی کوشش کی، تو اس کا پیٹ چیر دوں گی۔ یہ حدیث عورت کے جنگ کرنے کی دلیل ہے، اگرچہ اس میں اس بات کا اشارہ ہے کہ وہ صرف اپنے بچاو کے لیے لڑنا چاہتی تھیں اور ان کا ارادہ دشمن کی صف میں گھس کر دو دو ہاتھ کرنے کا نہیں تھا۔
Explanation
‘Ā’ishah, the Mother of the Believers, (may Allah be pleased with her) reports that she asked the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) to allow her to make Jihad with him, for she wanted to attain the virtue of Jihad. However, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) told her that making Jihad and fighting the enemies is not ordained for women due to their weak physical constitution, soft hearts, and lack of ability to sustain dangers. Nevertheless, they may treat the wounded, water the thirsty, and do pertinent chores. Umm ‘Atiyyah (may Allah be pleased with her) said: "I took part in seven battles with the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) in which I guarded their luggage, made food for them, treated the wounded, and care for the sick." The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) told ‘Ā’ishah that performing Hajj is the Jihad of women. Hajj and ‘Umrah are similar to Jihad in certain aspects. They require travel, staying away from one's home and family, exposure to dangers, fatigue, and expenditure. Anas reported that Umm Sulaym took on a dagger on the Day of Hunayn. She said to the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him): "I took it on so that if anyone of the polytheists draws near to me, I will tear his paunch open" [Muslim]. This Hadīth indicates the permissibility of fighting for women, although this fighting is defensive, meaning that she may not proceed toward the enemy and seek to confront them on the battlefield.