سنن ابو داؤد
Sunan Abi Dawud

اے بلال! نماز قائم کرو، اس کے ذریعے مجھے راحت پہنچاؤ۔

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
65095Sahih صحیح
عن سالم بن أبي الجَعْدِ قال: قال رجل: ليتني صَلَّيتُ فاسترحْتُ، فكأنّهم عابُوا ذلك عليه، فقال: سمعتُ رسولَ الله صلى الله عليه وسلم يقول: «يا بلالُ، أقِمِ الصَّلاةَ، أرِحْنا بها».
سالم بن ابو جعد سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ ایک شخص نے کہا: کاش میں نماز پڑھتا اور راحت حاصل کرتا، تو صحابہ نے ایک طرح سے ان کی بات کو برا جانا۔ لہذا اس نے بتایا کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : "اے بلال! نماز قائم کرو، اس کے ذریعے مجھے راحت پہنچاؤ۔"
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Sālim ibn Abu al-Ja‘d reported: A man said: "I wish I had prayed and got comfort." When the people seemed to disapprove of his statement, he said: "I heard the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) say: 'O Bilāl, call the Iqāmah for the prayer; give us comfort by it.'"
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
سنن ابو داؤدSunan Abi Dawud
Original wording: رواه أبو داود
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #65095

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

ایک صحابی نے کہا : کاش میں نماز پڑھتا اور راحت حاصل کرتا، تو ان کے آس پاس کے لوگوں نے ایک طرح سے ان کی اس بات کو برا جانا، لہذا انھوں نے بتایا کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا: اے بلال! نماز کے لیے اذان دو اور جماعت کھڑی کرو، تاکہ ہم اس کے ذریعے راحت حاصل کریں۔ ایسا اس لیے کہ نماز میں اللہ سے سرگوشیاں ہوتی ہیں اور اس سے قلب و روح کو راحت ملتی ہے۔

حدیث کے فوائد

  • نماز سے راحتِ قلب حاصل ہوتی ہے، کیوں کہ نماز اللہ تعالی سے سرگوشی کرنے کا ذریعہ ہے۔
  • عبادت میں کوتاہی کرنے والے کی تردید۔
  • جس نے اپنا فرض ادا کر کے اپنا سر ہلکا کر لیا، اسے اس سے ایک طرح کی راحت ملتی ہے اور اطمینان کا احساس ہوتا ہے۔

Explanation

A man from the Companions said: I wish I had prayed and got comfort. Those around him seemed to disapprove of his statement. So, he said: I heard the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) say: O Bilāl, make the call to prayer and proclaim its commencement so that we will get comfort by it. This is because it includes private communication with Allah Almighty and provides relief for the soul and the heart.

Topics موضوعات