اے بلال! نماز قائم کرو، اس کے ذریعے مجھے راحت پہنچاؤ۔
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- سنن ابو داؤدSunan Abi DawudOriginal wording: رواه أبو داود
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #65095Sunan Abi Dawud (HadeethEnc 65095)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
ایک صحابی نے کہا : کاش میں نماز پڑھتا اور راحت حاصل کرتا، تو ان کے آس پاس کے لوگوں نے ایک طرح سے ان کی اس بات کو برا جانا، لہذا انھوں نے بتایا کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا: اے بلال! نماز کے لیے اذان دو اور جماعت کھڑی کرو، تاکہ ہم اس کے ذریعے راحت حاصل کریں۔ ایسا اس لیے کہ نماز میں اللہ سے سرگوشیاں ہوتی ہیں اور اس سے قلب و روح کو راحت ملتی ہے۔
حدیث کے فوائد
- نماز سے راحتِ قلب حاصل ہوتی ہے، کیوں کہ نماز اللہ تعالی سے سرگوشی کرنے کا ذریعہ ہے۔
- عبادت میں کوتاہی کرنے والے کی تردید۔
- جس نے اپنا فرض ادا کر کے اپنا سر ہلکا کر لیا، اسے اس سے ایک طرح کی راحت ملتی ہے اور اطمینان کا احساس ہوتا ہے۔
Explanation
A man from the Companions said: I wish I had prayed and got comfort. Those around him seemed to disapprove of his statement. So, he said: I heard the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) say: O Bilāl, make the call to prayer and proclaim its commencement so that we will get comfort by it. This is because it includes private communication with Allah Almighty and provides relief for the soul and the heart.