جب تم نماز پڑھو، تو اپنی صفیں درست کر لو۔ پھر تم میں سے ایک شخص تمھارا امام بن کر نماز پڑھائے۔ چنانچہ جب وہ…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: رواه مسلم
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #65097Sahih Muslim (HadeethEnc 65097)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
صحابی ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ نے ایک نماز پڑھی۔ دوران نماز جب وہ اس قعدہ میں تھے، جس میں تشہد پڑھا جاتا ہے، تو پیچھے نماز پڑھ رہے ایک شخص نے کہا کہ قرآن میں نماز کا ذکر بھلائی اور زکوۃ کے ساتھ کیا گیا ہے۔ لہذا جب نماز ختم ہو گئی، تو وہ لوگوں کی جانب متوجہ ہوئے اور ان سے پوچھا کہ تم میں سے کس نے کہا ہے کہ قرآن میں نماز کا ذکر بھلائی اور زکوۃ کے ساتھ کیا گیا ہے؟ جب سب لوگ خاموش رہے اور کسی نے کوئی جواب نہیں دیا، تو دوبارہ سوال کیا۔ لیکن جب پھر بھی کسی نے کوئی جواب نہیں دیا، تو ابو موسی رضی اللہ عنہ نے حطان سے کہا کہ اے حطان! شاید تم نے ہی یہ بات کہی ہے؟ دراصل انھوں نے حطان سے یہ بات اس لیے کہی کہ وہ ایک دلیر انسان تھے، ان سے ان کے گہرے تعلقات اور بڑی قربت تھی، جس کی وجہ سے اس بات کا امکان نہيں تھا کہ وہ اس الزام سے اذیت محسوس کرتے۔ ساتھ ہی پیش نظر یہ بات بھی تھی کہ دوران نماز گفتگو کرنے والا سامنے آکر اعتراف کر لے۔ چنانچہ حطان نے یہ صاف کر دیا کہ یہ بات انھوں نے نہیں کہی ہے اور بتایا کہ مجھے پہلے ہی سے اس بات کا ڈر تھا کہ آپ یہ سمجھ کر مجھ ہی کو ڈانٹیں گے کہ یہ بات میں نے کہی ہے۔ اتنا سننے کے بعد وہاں موجود ایک شخص نے کہا کہ یہ بات میں نے کہی ہے اور میرا مقصد کچھ برا نہیں تھا۔ لہذا ابو موسی رضی اللہ عنہ نے اسے تعلیم دیتے ہوئے فرمایا کہ کیا تم نہيں جانتے کہ تمھیں اپنی نماز میں کیا کچھ کہنا ہے اور کیسے کہنا ہے؟ یہ دراصل ایک طرح سے اس کی تردید تھی۔ پھر ابو موسی رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ ایک بار اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ان سے مخاطب ہوئے اور ان کو ان کی شریعت اور نماز سکھائی۔ اس دوران آپ نے فرمایا :
جب تم نماز پڑھو، تو اپنی صفیں درست اور سیدھی کر لیا کرو۔ پھر ایک شخص امام بن کر لوگوں کو نماز پڑھائے۔ چنانچہ جب امام تکبیر احرام کہے، تو تم بھی اسی کی طرح تکبیر احرام کہو اور جب وہ سورہ فاتحہ پڑھتے ہوئے {غير المغضوب عليهم ولا الضالين} [سورہ فاتحہ : 7] تک پہنچے، تو تم آمین کہو۔ جب تم ایسا کروگے، تو اللہ تمھاری دعا قبول کرے گا۔ پھر جب امام تکبیر کہے اور رکوع میں جائے، تو تم بھی تکبیر کہو اور رکوع میں جاؤ۔ امام تم سے پہلے رکوع میں جائے گا اور تم سے پہلے رکوع سے اٹھے گا۔ لہذا تم اس سے آگے نہ بڑھو۔ اس دوران تمھارے رکوع میں جانے میں جو ایک لمحے کی دیر ہوگی، وہ تمھارے رکوع سے اٹھنے میں ہونے والی ایک لمحے کی دیر سے پوری ہو جائے گی اور اس طرح تمھارے رکوع کی لمبائی امام کے رکوع کے لمبائی کے برابر ہو جائے گی۔ پھر جب امام "سمع الله لمن حمده" کہے، تو تم "اللهم ربنا لك الحمد" کہو۔ جب نمازی ایسا کہتے ہیں، تو اللہ ان کی دعا اور قول کو قبول فرماتا ہے۔ کیوں کہ اللہ تعالی نے اپنے نبی کی زبانی کہا ہے کہ اللہ نے اس کی سن لی، جس نے اس کی تعریف کی۔ پھر جب امام تکبیر کہے اور سجدے میں جائے، تو مقتدیوں کو بھی تکبیر کہنا اور سجدے میں جانا ہے۔ یہاں اس بات کا دھیان رہے کہ امام مقتدیوں سے پہلے سجدے میں جائے گا اور ان سے پہلے سجدے سے اٹھے گا۔ اس طرح ان کے سجدے میں جانے میں جو ایک لمحے کی دیر ہوگی، وہ ان کے سجدے سے اٹھنے میں ہونے والی لمحے بھر کی دیر سے پوری ہو جائے گی اور اس طرح ان کے سجدے کی لمبائی امام کے سجدے کے برابر ہو جائے گی۔ پھر جب تشہد کے لیے بیٹھے، تو سب سے پہلے یہ دعا پڑھے : "التحيات الطيبات الصلوات لله" ملک، بقا اور عظمت یہ ساری چیزیں اللہ کے لیے ہیں۔ اسی طرح پانچوں نمازیں بھی اللہ کے لیے ہیں۔ "السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته، السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين" اس لیے اللہ سے ہر عیب، آفت، نقص اور فساد سے سلامتی مانگو۔ ہم اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو خاص طور سے سلام بھیجتے ہیں، پھر اپنے آپ کو سلام بھیجتے ہیں، پھر اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق ادا کرنے والے اللہ کے نیک بندوں کو سلام بھیجتے ہیں، پھر اس بات کی گواہی دیتے ہيں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔
حدیث کے فوائد
- تشہد کی دعاؤں میں سے ایک دعا کا ذکر۔
- نماز کے افعال اور اقوال کا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے ثابت ہونا ضروری ہے۔ نماز میں ایسی کوئی بات کہنا یا ایسا کوئی عمل کرنا جائز نہيں ہے، جو سنت سے ثابت نہ ہو۔
- امام سے آگے بڑھ کر کوئی کام کرنا یا اس سے پیچھے رہ جانا جائز نہيں ہے۔ مقتدیوں کو امام کی متابعت کرنی چاہیے۔
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم دین کی تبلیغ اور امت کو دینی احکام سکھانے کا کس قدر اہتمام کیا کرتے تھے، اس کی وضاحت۔
- امام مقتدی کے لیے اسوہ ونمونہ ہوتا ہے۔ اس لیے نماز کے افعال نہ تو امام سے پہلے کرنا جائز ہے، نہ اس کے ساتھ ساتھ کرنا اور نہ اس سے پیچھے رہ جانا۔ ہونا یہ چاہیے کہ مقتدی نماز کا جو کام کرنا چاہتا ہے، اس کا آغاز اس وقت کرے، جب اس بات کا یقین ہو جائے کہ امام اس میں داخل ہو چکا ہے۔ اسی کو اتباع کہتے ہیں اور یہی سنت ہے۔
- نماز میں صفوں کو درست کرنے کی مشروعیت۔
Explanation
The Companion Abu Mūsa al-Ash'ari (may Allah be pleased with him) offered a prayer. When he was sitting for tashahhud, one of those praying behind him said: The prayer is mentioned in the Qur'an along with benevolence and Zakah. When Abu Mūsa (may Allah be pleased with him) finished the prayer, he asked the worshipers: Who amongst you has made this statement: The prayer is mentioned in the Qur'an along with benevolence and Zakah?! The people kept silent, and none of them spoke. He repeated the question once again, and no one responded to him. Abu Mūsa (may Allah be pleased with him) said: Perhaps you, Hittān, have said it! This is because he was brave and close to him, so his suspicion of him would not hurt him, and it would prompt the real doer to admit what he said. Hittān denied that and said: I was afraid you might indict me for thinking I said that. Thereupon, one among the people said: I said it and intended nothing but good by saying it. Abu Mūsa, by way of teaching him, said: Do you not know what you have to say in your prayers?! He meant to show disapproval. Then, Abu Mūsa informed that the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) addressed them one day, explaining to them their Shariah and teaching them their prayer, and said:
When you pray, straighten your rows, stand upright, and let one of the people lead them in prayer. When the Imām says the takbīr of ihrām, say takbīr like him, and when he recites Al-Fātihah and reaches {Not of those who incurred Your Wrath, or of those who went astray} [Surat al-Fātihah: 7], say 'amen'. If you do this, Allah will answer your supplication. When he says takbīr and bows, say takbīr and bow, for the Imām bows before you and rises before you; so, do not get ahead of him. This is because the moment in which the Imām bows before you is redressed by the moment you delay while bowing after he rises from Rukū '. This moment is equivalent to this one, and thus your Rukū 'is equal to his Rukū '. And when the Imām says, "Allah hears he who praises Him", say: "O Allah, our Lord, praise be to You." If the worshipers say that, Allah Almighty will hear their supplication and statement, for Allah Almighty said through the tongue of His Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him): Allah hears he who praises Him.
Then, when the Imām says takbīr and prostrates, those praying behind him should say takbīr and prostrate, for the Imām prostrates before them and rises before them. This moment is equivalent to this moment. Thus, the prostration of the worshipers is equal to that of the Imām. And when he sits for tashahhud, the first words of the worshipers should be: "All greetings, good things, and prayers are due to Allah." The dominion, eternal existence, and greatness are all due to Allah Almighty; likewise, the five prayers are all for Allah. "Peace be upon you, O Prophet, and Allah's mercy and blessings. Peace be upon us and the righteous servants of Allah." Supplicate Allah for safety from every defect, deficiency, imperfection, and corruption. We give a particular greeting to our Prophet Muhammad (may Allah's peace and blessings be upon him), and then we greet ourselves. Then we greet the pious servants of Allah who fulfill their duties, including the rights of Allah Almighty and the rights of His servants. Then, we testify that there is no god but Allah and that Muhammad is His servant and Messenger.