اللہ تعالیٰ قیامت کے دن میری امت کے ایک شخص کو چھانٹ کر نکالے گا اور سارے لوگوں کے سامنے لائے گا
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- جامع ترمذیJami' at-Tirmidhiسنن ابن ماجہSunan Ibn MajahOriginal wording: رواه الترمذي وابن ماجه
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #65033Jami' at-Tirmidhi & Sunan Ibn Majah (HadeethEnc 65033)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بتایا ہے کہ اللہ تعالی قیامت کے دن ایک شخص کو منتخب کرکے تمام مخلوقات کے سامنے لائے گا۔ اسے دراصل حساب و کتاب کے لیے پکارا جائے گا۔ چناں چہ اللہ تعالی اس کے سامنے ننانوے دفتر پھیلا دے گا، جوکہ اس کی ان بد اعمالیوں کے صحیفے ہوں گے، جو وہ دنیا میں کیا کرتا تھا۔ ہر دفتر تا حد نگاہ پھیلا ہوگا۔ پھر اللہ عز وجل اس شخص سے کہے گا: کیا تم ان دفتروں میں تحریر کردہ کسی چیز کا انکار کرتے ہو؟ کیا میرے محافظ اور کاتب فرشتوں نے تمہارے اوپر ظلم کیا ہے؟ وہ شخص جواب دے گا: نہیں، اے میرے رب! ایسا نہیں ہے۔ اللہ عز وجل عرض فرمائے گا: کیا تمہارے پاس کوئی عذر ہے، جسے تم دنیا میں کیے ہوئے اپنے ان برے کاموں کے بدلے میں پیش کر سکو؟ مثلا یہ کہ یہ گناہ بھول چوک میں یا غلطی سے یا جہالت کی بنا پر انجام پاگئے۔ وہ شخص کہے گا: نہیں، اے میرے رب! میرے پاس کوئی عذر نہیں ہے۔ اللہ عز وجل فرمائے گا: (کوئی بات نہیں) ہمارے پاس تمہاری ایک نیکی ہے۔ آج کے دن تجھ پر کوئی ظلم و زیادتی نہیں ہوگی۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : پھر ایک پرچہ نکالا جائے گا جس میں لکھا ہوگا : میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور یہ گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اس کے بعد اللہ عز وجل اس شخص سے کہے گا : جاؤ اپنے اعمال کے وزن کی جگہ پر حاضر ہو جاؤ۔ وہ شخص فرط تعجب سے کہے گا: اے میرے پروردگار! ان دفتروں کے سامنے اس پرچہ کی کیا حیثیت؟! اللہ عز وجل فرمائے گا: آج تمہارے اوپر کوئی ظلم وزیادتی نہیں ہوگی۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: چنانچہ تمام دفتروں کو ایک پلڑے میں رکھ دیا جائے گا اور اس پرچی کو دوسرے پلڑے میں۔ بالآخر وہ پلڑا اوپر اٹھ جائے گا، جس میں سارے دفتر ہوں گے اور وہ پلڑا جھک جائے گا، جس میں وہ پرچی رکھی ہوگی۔ اس طرح اللہ تعالی اس شخص کو اپنی مغفرت سے نوازے گا۔
حدیث کے فوائد
- اس حدیث سے کلمۂ توحید (شہادۃ إلا إلہ إلا اللہ) کی عظمت معلوم ہوتی ہے اور پتہ چلتا ہے کہ ترازو میں وہ کس قدر وزنی ہوگا۔
- صرف زبان سے لا الہ الا اللہ کہنا کافی نہیں ہے، بلکہ اس کے معانی کو جاننا اور اس کے تقاضوں پر عمل کرنا بھی ضروری ہے۔
- اخلاص اور توحید کی قوت گناہوں کی معافی کا ذریعہ ہے۔
- دلوں میں جس قدر اخلاص ہوتا ہے، اسی کے مطابق ایمان میں کمی اور بیشی ہوتی رہتی ہے۔ چنانچہ کچھ لوگ اس کلمہ کا اقرار تو کرتے ہیں، لیکن ان کے گناہوں کے بقدر انہیں عذاب بھی دیا جائے گا۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) reported that Allah will select a man from his Ummah before all the creation on the Day of Judgment. He will be summoned for reckoning. Ninety-nine scrolls, the records of his bad deeds which he did in worldly life will be presented to him, with each scroll being as long as the eye can see. Then, Allah Almighty will say to this the person: Do you deny any of what is written in these scrolls? Have My scribe angels wronged you? The person will say: No, O Lord. Then, Allah Almighty will say: Do you have an excuse that may be accepted regarding the deeds you did in worldly life, like doing them out of forgetfulness or ignorance or by mistake? The man will say: No, Lord, I have no excuse. Allah Almighty will say: Rather, you have a good deed with us, and you will not be wronged today. He said: He will bring out a card, in which it is written, I testify that there is no god but Allah and I testify that Muhammad is His servant and Messenger. Then, Allah Almighty will say to this man: Bring your scale. The man will say in wonder: O Lord, what weight can this card have next to these scrolls?! Allah Almighty will say: You will not be subject to injustice. He said: The scrolls will be put on one pan, and the card on the other pan. The pan of the scrolls will be light, and the pan of the card will be heavier, so Allah will forgive him.