میری رعب کے ساتھ مدد کی گئی، مجھے زمین کے خزانوں کی کنجیاں دی گئیں، میرا نام احمد رکھا گیا، مٹی کو میرے لیے…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- مسند احمدMusnad AhmadOriginal wording: اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #10025Musnad Ahmad (HadeethEnc 10025)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے وہ کچھ دیا گیا جو مجھ سے پہلے انبیاء میں سے کسی کو نہیں دیا گیا“ بظاہر تو یہی معلوم ہوتا ہے وہ تمام باتیں جو ذکر ہوئیں ان میں سے کوئی بھی آپ ﷺ سے پہلے کسی نبی کو حاصل نہیں تھی۔ فرمایا: ”میری رعب کی ساتھ مدد کی گئی“ یعنی دشمن کو مجھ سے خوفزدہ کر کے۔ جس نے دشمنوں کے دلوں کو چیر کر رکھ دیا، ان کی شان و شوکت کو ختم کر دیا اوران کے اتحاد کو پارہ پارہ کر دیا‘‘۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وأعطيت مفاتيح“ یہ مفتاح کی جمع ہے جو ایک ایسے آلے کا نام ہے جس کے ساتھ (تالا وغیرہ) کھولا جاتا ہے۔ دراصل اس سے مراد وہ شے ہے جس کے ذریعے ان تالہ بند اشیاء کو نکالا جاتا ہے جن تک اس کے بغیر رسائی حاصل کرنا ناممکن ہوتا ہے۔ ”زمین کے خزانے“ یہ اللہ کی طرف سے ممالک کے فتح ہونے کے وعدے کا استعارہ ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرا نام احمد رکھا گیا“ آپ سے پہلے کسی کا یہ نام نہیں رکھا گیا تھا۔ یہ اللہ کی طرف سے بطور حفاظت تھا تاکہ اس نام سے موسوم شخص کے متعلق کمزور دل والے التباس اور شک میں مبتلا نہ ہوں کہ سابقہ کتابوں میں احمد کی صفت کے ساتھ موصوف شخص یہی ہے۔ ”وجعل لي التراب طهوراً“ یعنی مٹی کو مطَہِّرْ ( پاک کرنے والی شے) بنادیا گیا ہے جس وقت کہ پانی کا ملنا دشوار ہو۔
Explanation
The apparent meaning of his statement "I have been given what no other prophet before me was given", is that none of those things were given to anyone before him. "I have been granted victory by means of awe", meaning: my enemies fear me. It was an awe that struck the hearts of his enemies, extinguished their power, and caused their multitudes to disperse. His statement "I have been given the keys of the earth", means: the keys originally stands for anything that is used in extracting and finding access to far off things. His saying: "the earth", is a metaphor for Allah's promise to him to conquer the lands. He said: "I have been named Ahmad". In fact, no one before him was given that name, as a preventative measure from Allah, the Almighty, so the weak-hearted would not be affected by any doubt or illusion that he was the one given the name Ahmad in the previous scriptures. His saying: "The earth was made for me a means of purification", means: it is a purifying substance that can be used in the absence of water.