سنن ابو داؤد · جامع ترمذی · سنن نسائی · مسند احمد
Sunan Abi Dawud · Jami' at-Tirmidhi · Sunan an-Nasa'i · Musnad Ahmad

پاک مٹی مسلمان کے لیے وضو ہے، اگرچہ دس برس تک پانی نہ پائے۔ جب تم پانی پا جاؤ، تو اس کو اپنے بدن پر بہا لو؛…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
10023Sahih صحیح
عن أبي ذر جندب بن جنادة رضي الله عنه قال: اجتمعت غنيمة عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: «يا أبا ذر اُبْدُ فيها» فبَدَوْتُ إلى الرَّبذَة فكانت تُصيبني الجنابة فأمكث الخَمْسَ والسِّتَّ، فأتيتُ النبي صلى الله عليه وسلم فقال: «أبو ذر» فَسَكَتُّ فقال: «ثَكِلَتْكَ أمك أبا ذر لأمِّكَ الوَيْلُ» فدعا لي بجارية سوداء فجاءت بِعُسٍّ فيه ماء فستَرتْنِي بثَوب واستَتَرْتُ بالرَّاحلة، واغتسلتُ فكأني أَلقَيْتُ عني جَبَلًا فقال «الصعيدُ الطيِّبُ وُضُوءُ المسلم ولو إلى عشر سنين، فإذا وجدتَ الماء فأَمِسَّهُ جِلدَكَ فإن ذلك خَيرٌ».
ابو ذر جندب بن جنادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ رسول اللہ ﷺ کے پاس کچھ مال غنیمت جمع ہو گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابو ذر! انھیں لے کر دیہات کی طرف چلے جاؤ“۔ چنانچہ میں مقام ربذہ کی طرف آ گیا۔ وہاں مجھے جنابت لاحق ہوتی اور میں پانچ چھے دن ویسے ہی رہ جایا کرتا تھا۔ پھر میں نبی ﷺ کی خدمت میں آیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ابو ذر ہو؟ میں چپ رہا۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: تیری ماں تجھے گم کرے، تیری ماں کے لیے خرابی ہے۔ پھر آپ ﷺ نے میرے لیے ایک سیاہ فام باندی کو بلایا، جو ایک بڑے برتن میں پانی لے آئی۔ پھر ایک کپڑے کے ذریعے میرے لیے پردہ کیا۔ میں نے سواری کی اوٹ لی اور غسل کیا۔ مجھے ایسا محسوس ہو رہا تھا میں نے کوئی پہاڑ اتار دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پاک مٹی مسلمان کے لیے وضو ہے، اگرچہ دس برس تک پانی نہ پائے۔ پھر جب تم پانی پا جاؤ، تو اس کو اپنے بدن پر بہا لو۔ اس لیے کہ یہ بہتر ہے۔“
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Abu Dharr Jundub ibn Junādah (may Allah be pleased with him) reported: A few goats were in the possession of the Messenger of Allah (may Allah’s peace and blessings be upon him) so he said: "O Abu Dharr, take them to the desert." I took them to the desert of Rabadhah, and I would sometimes be in a state of Janābah and stay for five or six days (without bathing). I came to the Prophet, may Allah’s peace and blessings be upon, and he said: "Abu Dharr?" I kept silent. He said: "May your mother lose you, Abu Dharr! Woe to your mother!" He then called a black maid and she brought me a big pot of water. She concealed me with a garment and I hid behind a camel and washed. It was as if I removed a mountain off myself. He then said: "Clean earth is ablution for the Muslim, even up to ten years. Then when you find water, wash your skin with it, for that is better."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
سنن ابو داؤدSunan Abi Dawudجامع ترمذیJami' at-Tirmidhiسنن نسائیSunan an-Nasa'iمسند احمدMusnad Ahmad
Original wording: اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #10023

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

یہ حدیث شریعت اسلامیہ کے امتیازات میں سے ایک امتیاز کی نشان دہی کرتی ہے۔ وہ ہے پانی کی غیر موجودگی میں تیمم کے ذریعے پاکی حاصل کرنے کی طرف رہ نمائی۔
”الصعيد الطيب“: یعنی زمین کی پاک مٹی یا اس طرح کی کوئی اور شے جو زمین کے اوپر ہو اور اسی کی جنس سے ہو۔ اسے صعید کا نام اس لیے دیا گیا، کیوں کہ لوگ اس پر چلتے اور چڑھتے ہیں۔
”وَضوء المسلم“: ان الفاظ میں پاک مٹی کو طہارت کے حصول میں پانی کے ساتھ تشبیہہ دی گئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے تیمم پر وُضو کے پانی کا اطلاق کیا؛ کیوں کہ یہ اس کا قائم مقام ہے۔ پانی کے بدلے میں تیمم کرنے کے سلسلے میں یہ فراہم کردہ آسانی تب تک جاری رہتی ہے، جب تک عذر باقی رہے۔ اسی لیے نبی ﷺ نے فرمایا:
”اگرچہ اسے دس سال تک پانی نہ ملے“ یا بیس یا تیس یا اس سے بھی زیادہ سال نہ ملے۔ یہاں دس سے مراد کثرت کا بیان ہے نہ کہ تحدید۔ اسی طرح اگر اسے پانی تو مل رہا ہو، لیکن (پانی کے استعمال میں) کوئی حسی یا شرعی مانع ہو، تو اس کا حکم بھی یہی ہے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تیمم وضو کے قائم مقام ہے، اگرچہ اس سے حاصل شدہ طہارت ہلکی ہوتی ہے، لیکن یہ ضرورت کی وجہ سے طہارت ہے؛ تاکہ نماز کا وقت نکلنے سے پہلے اس کی ادائیگی ممکن ہو سکے۔
اس کے باجود جب پانی مل جائے اور اس کی استعمال پر قدرت حاصل ہو جائے، تو تیمم ختم ہو جاتا ہے۔ اسی لیے نبی ﷺ نے ابو ذر رضی اللہ عنہ کی اس بات کی طرف راہ نمائی فرمائی کہ حصول طہارت میں جو شے اصل ہے -یعنی پانی کا استعمال-، اس کی طرف رجوع کریں۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
”جب تمھیں پانی مل جائے، تو اسے اپنے جسم پر بہاؤ“ یعنی حصول طہارت کے لیے وضو یا غسل کرتے ہوئے جسم تک اسے پہنچاؤ اور اس پر اسے انڈیلو۔ ترمذی شریف کی ایک روایت میں ہے: ”جب اسے پانی مل جائے، تو وہ اسے اپنی جلد پر بہائے، یہ اس کے لیے زیادہ اچھا ہے“ آپ ﷺ نے بتایا کہ پانی کو دیکھتے ہی تیمم ختم ہو جاتا ہے، بشرطے کہ اسے پانی کے استعمال کی قدرت بھی ہو؛ کیوں کہ موجودگی سے مراد قدرت ہی ہے۔

Explanation

This Hadīth sheds light on one of the aspects of facilitation that Islamic Shariah brings to people, which is making Tayammum when water is not available. Clean dust serves in place of water, which is used in regular ablution.
The exact number of years mentioned in the Hadīth is not intended per se; rather, it means that Tayammum is valid so long as water is unavailable, regardless of the time interval whether it is ten or twenty or thirty or more. This is also true when water is available but it cannot be used for religious or medical reasons.
Although purification by Tayammum is weaker, it substitutes ablution with water as a necessity to perform prayer before the time of prayer ends.
The concession to make Tayammum expires the moment water becomes available and one is able to use it. Therefore, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) guided Abu Dharr to go back to the original option – which is using water – when it is available. One has then to let water touch his skin; i.e. make water run over his skin in ablution or take a ritual bath. Tayammum expires when one sees water and is able to use it. The ability to use water is what is intended by the 'availability' of water.

Topics موضوعات