فجر دو طرح کی ہوتی ہے: ایک وہ جو بھیڑیے کی دم کی طرح (اوپر اٹھی) ہوتی ہے۔ اس میں نماز (فجر) پڑھنا جائز نہیں…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- مستدرک حاکمAl-Mustadrak (Hakim)Original wording: اسے امام حاکم نے روایت کیا ہے۔
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #10609Al-Mustadrak (Hakim) (HadeethEnc 10609)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
حکم کے اعتبار سے نبی ﷺ نے فجر کو دو قسموں میں تقسیم کیا:
پہلی فجر: اسے فجر کاذب بھی کہا جاتا ہے۔ یہ آسمان میں ستون کی طرح بلند ہوتی ہے اور ایسے لگتا ہے جیسے بھیڑیے کی دُم ہو کیونکہ بھیڑیے کی دُم اوپر کی طرف اٹھی ہوتی ہے۔ چنانچہ صبحِ کاذب اُفق کے اوپری جانب لمبائی کے رُخ پھیلے ہونے میں بھیڑیے کی دُم جیسی ہوتی ہے۔ پھر یہ غائب ہوجاتی ہے اور اس کے بعد تاریکی چھا جاتی ہے۔ اس فجر میں نماز جائز نہیں ہے یعنی نمازِ فجر پڑھنا درست نہیں ہے تاہم اس میں روزہ دار کے لیے کھانا پینا جائز ہے۔ یعنی جو شخص رات سے ہی روزے کی نیت کرے۔ کیونکہ یہ وہ حقیقی فجر نہیں ہوتی جس کے طلوع ہونے پر نماز فجر پڑھنا جائز ہو جاتا ہے اور روزے دار کے لیے کھانا پینا ممنوع ہوجاتا ہے۔
دوسری فجر: اسے فجرِ صادق بھی کہا جاتا ہے۔ یہ وہ ہوتی ہے جو لمبائی میں پھیلی ہوتی ہے یعنی اُفق پر شمال جنوب میں پھیلی ہوتی ہے اور اس کے بعد تاریکی نہیں آتی بلکہ روشنی میں درجہ بدرجہ اضافہ ہی ہوتا جاتا ہے یہاں تک کہ افق پر پوری طرح پھیل جاتی ہے۔ یہ وہ فجر ہے جس کے طلوع ہونے کے ساتھ نماز فجر پڑھنا جائز ہو جاتا ہے اور اس کے بعد روزہ دار کے لیے کھانا پینا ممنوع ہوتا ہے۔
دونوں اقسام کی فجر کے مابین وقت کے اعتبار سے جو فرق ہوتا ہے وہ مختلف ہوتا ہے۔ کبھی تو یہ لمبا ہوتا ہے اور کبھی مختصر اور کبھی فجر کاذب کا ظہور ہی نہیں ہوتا۔
دونوں اقسام کی فجر کے مابین جو فرق پائے جاتے ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے کہ:
اول: فجرِ صادق شمال سے جنوب کی طرف پھیلی ہوتی ہے جب کہ فجر کاذب اس کے برعکس ہوتی ہے۔
دوم: فجرِ صادق کے بعد تاریکی نہیں آتی جب کہ فجر کاذب کے بعد تاریکی آتی ہے۔
سوم: فجرِ صادق کی روشنی افق کے ساتھ ملی ہوتی ہے جب کہ فجرِ کاذب کی روشنی اس سے الگ ہوتی ہے۔
یہ تین فرق تو وہ ہیں جو کائناتی اور تقدیری اعتبار سے ہیں۔ شرعی اور عملی اعتبار سے ان دونوں میں فرق یہ ہے کہ فجرِ کاذب میں نماز یعنی نماز فجر جائز نہیں ہوتی اور اس میں اس روزہ دار کے لیے کھانا پینا جائز ہوتا ہے جس نے روزہ کی نیت کر رکھی ہو۔ جب کہ فجرِ صادق کے طلوع ہونے پر معاملہ برعکس ہوتا ہے یعنی اس میں نماز یعنی نماز فجر پڑھنا جائز ہو جاتا ہے جب کہ روزہ دار کے لیے کھانا پینا حرام ہوجاتا ہے۔
Explanation
The Messenger (may Allah's peace and blessings be upon him) divided the 'Fajr' into two types: 1. The false 'Fajr': It goes up in the sky like a vertical light that resembles the tale of a wolf. The tale of a wolf moves upwards. Then, the false 'Fajr' disappears and the sky becomes dark again. So, this 'Fajr' does not make the Fajr prayer due or render food impermissible in case of a person intending to fast. This is because it is not the real 'Fajr' at which the Fajr prayer becomes due and a fasting person should abstain from food and drink. 2. The true 'Fajr': It is rectangular in shape as it stretches in the horizon from the north to the south. No darkness follows it. Rather, the sky gradually becomes brighter and brighter until light spreads all over the horizon. This is the 'Fajr' at which the prayer becomes due and food and drink become impermissible to a fasting person. The difference in time between the two 'Fajrs' varies, with the time becoming longer and shorter occasionally. And the false 'Fajr' does not appear sometimes. The essential distinction between the two 'Fajrs' lies in the following points: 1. The true 'Fajr' stretches from the north to the south, while the false one does the opposite. 2. The true 'Fajr' is not followed by darkness in the sky, unlike the false 'Fajr'. 3. The light of the true 'Fajr' is connected to the horizon, while that of the false one is disconnected. These three are physical and natural differences. In terms of the Shariah, the false 'Fajr' does not render prayer due or food and drink impermissible to a person intending to fast. The true 'Fajr', on the other hand, indicates that the time of the prayer has come and that it is now impermissible for a fasting Muslim to eat or drink.