سنن ابو داؤد · جامع ترمذی · مسند احمد
Sunan Abi Dawud · Jami' at-Tirmidhi · Musnad Ahmad

تم میں سے جو موجود ہیں، وہ ان لوگوں کو بتا دیں، جو موجود نہیں ہیں کہ فجر کے طلوع ہونے کے بعد دو رکعت (سنت) کے…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
10612Sahih صحیح
عن يسار مَولى ابن عمر قال: رَآني ابن عمر وأنا أصلِّي، بعد طلوع الفَجر، فقال: يا يَسار، إن رسول الله صلى الله عليه وسلم خرج علينا ونحن نُصلِّي هذه الصلاة، فقال: «لِيُبَلِّغْ شِاهِدُكُم غَائِبَكم، لا تُصلُّوا بعد الفجر إلا سَجْدَتَيْن».
یسار جو ابن عمر رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام ہیں، سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے طلوع فجر کے بعد (نفل) نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، تو کہا: اے یسار! ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس آئے، تو ہم ایسی ہی نماز پڑھ رہے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے جو موجود ہیں، وہ ان لوگوں کو بتا دیں، جو موجود نہیں ہیں کہ فجر کے طلوع ہونے کے بعد دو رکعت (سنت) کے علاوہ کوئی اور (نفل) نماز نہ پڑھیں“۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Yasār, the freed slave of Ibn ‘Umar, reported: Ibn ‘Umar saw me praying after the break of dawn. He said: "O Yasār, the Messenger of Allah (may Allah’s peace and blessings be upon him) came to us while we were offering this prayer. He said: ‘Those who are present should inform those who are absent: Do not offer any prayer after (the break of) dawn except two Rak‘ahs.'"
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
سنن ابو داؤدSunan Abi Dawudجامع ترمذیJami' at-Tirmidhiمسند احمدMusnad Ahmad
Original wording: اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #10612

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے مولی یعنی اپنے آزاد کردہ غلام یسار کو دیکھا کہ وہ طلوع فجر کے بعد فجر کی نماز سے پہلے نفل نماز پڑھ رہے ہیں۔ شاید انھوں نے دو رکعت سے زیادہ نماز پڑھی۔ اس پر انھوں نے ان سے مخاطب ہو کر فرمایا: ”اے یسار! ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے، جب کہ ہم یہی (نفل) نماز پڑھ رہے تھے“ یعنی نبی ﷺ نے انھیں طلوع فجر (صادق) کے بعد نماز فجر سے پہلے سنت فجر سے زائد نفل نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، تو فرمایا: ”لِيُبَلِّغْ شِاهدكم غَائِبَكم“ یعنی نبی ﷺ نے فرمایا کہ جو مجلس میں موجود ہیں، وہ ان لوگوں تک یہ بات پہنچا دیں کہ: ”لا تُصلُّوا بعد الفجر“ یعنی طلوع فجر کے بعد (نفل) نماز نہ پڑھو۔ اس کی تایید مسند احمد کی ایک اور حدیث سے ہوتی ہے، جس میں ہے کہ: "طلوع فجر کے بعد فجر کی دو رکعت کے علاوہ کوئی نماز نہیں ہے۔" یعنی طلوع فجر کے بعد دو رکعت سنت کے علاوہ کوئی نفل نماز پڑھنا جائز نہیں ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”إلا سَجْدَتَيْن“، یہاں دو سجدوں سے مراد دو مکمل رکعتیں ہیں اور یہ جز بول کر کل مراد لینے کے قبیل سے ہے، جیسا کہ اس کی وضاحت سابق الذکر روایت میں کی گئی ہے۔ یہی آپ ﷺ کی سنت کے موافق بھی ہے۔ آپ ﷺ طلوع فجر کے بعد دو ہلکی سی رکعتیں پڑھنے کے علاوہ کوئی اور نماز نہیں پڑھا کرتے تھے۔
چنانچہ جب فجر طلوع ہو جائے تو مسلمان کے لیے نماز فجر کی دو رکعت (سنت) کے علاوہ جائز نہیں کہ کوئی اور نفل نماز پڑھے، جیسا کہ نبی ﷺ کا طریقہ تھا اور سب سے بہتر طریقہ محمد ﷺ کا طریقہ ہی ہے۔
جب یہ بات ثابت ہو گئی کہ طلوع فجر کے بعد سوائے سنتوں کے کوئی نفل نماز نہیں ہے، تو یہ وقت ان اوقات میں شمار کیا جائے گا، جن میں نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے۔

Explanation

‘Abdullāh ibn ‘Umar (may Allah be pleased with him) saw his freed slave, Yasār, pray a voluntary prayer after the break of dawn and before the Fajr prayer. He said to him: "O Yasār, the Messenger of Allah (may Allah’s peace and blessings be upon him) came to us while we were offering this prayer," meaning: he saw them pray a voluntary prayer after the break of dawn and before the Fajr prayer.
He then said to them: "Those who are present should inform those who are absent." He asked those who were present to inform those who were not there. He then said to them: "Do not offer any prayer after (the break of) dawn." This narration is supported by another related by Ahmad that reads: "No prayer is to be offered after the break of dawn except two Rak‘ahs." These Rak‘ahs are the voluntary ones that are prayed before the Fajr prayer.
This corresponds with the way of the Messenger (may Allah's peace and blessings be upon him) as he had never prayed anything after the rise of dawn except for two short Rak‘ahs.
Therefore, a Muslim is not permitted to pray voluntary prayers after the rise of dawn, which is according to the guidance of the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) which is the best guidance. Accordingly, praying after the break of dawn other than its respective supererogatory prayer is thereby impermissible, as this time has become prohibited to pray in.

Topics موضوعات