جو آدمی سنے کہ کوئی شخص مسجد میں کسی گم شدہ چیز کا اعلان کرکر کے ڈھونڈتا پھرتا ہے تو اسے کہے کہ: اللہ کرے یہ…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #10890Sahih Muslim (HadeethEnc 10890)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی اِس حدیث سے یہ رہنمائی حاصل ہوتی ہے کہ جو شخص مسجد میں کسی گم شدہ چوپائے کے متعلق پوچھ رہا ہو تو اُسے یوں کہنا چاہیے کہ ’’اللہ تیری طرف اُسے نہ لوٹائے‘‘ یا پھر کہنا چاہیے کہ: تجھے وہ نہ ملے۔ جیسا کہ ایک اور حدیث میں آیا ہے۔ یہ اس شخص کے لیے مسجد کی تعظیم کو ترک کرنے پرا ایک قسم کی ڈانٹ ہے۔
پھر آپ ﷺ نے اس ڈانٹ کی علت بیان کی جو اس شخص کو کی جاتی ہے جو اپنی گم شدہ شے کا اعلان مسجد میں کر رہا ہو۔ یہ علت آپ ﷺ کے اس فرمان میں ہے کہ "مساجد اس کام کے لیے تو نہیں بنائی گئیں۔" یعنی انہیں اللہ کے ذکر، نماز، علم اور اچھائی کی باتیں کرنے وغیرہ کے لیے بنایا گیا ہے۔ چوں کہ یہ اعلان کرنے والا مسجد کو وہ مقام نہیں دے رہا جو اسے دینا چاہیے تھا چنانچہ مناسب ہے کے اس کے لیے اس کی گم شدہ شے نہ ملنے کی دعا کی جائے تاکہ وہ جو چاہتا ہے اس کی ضد کا اسے سزا ملے اور اس کی طرح کا کام کرنے سے (دیگر لوگوں کو) ڈرایا اور دور رکھا جا سکے۔
مختصر یہ ہے کہ یہ حدیث امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے قبیل سے ہے اور اس کی کچھ شرائط ہیں۔ جب کوئی شخص اس کے خلاف یہ دعا کرے تو اگر وہ شخص ڈر کر رک جائے تو ٹھیک ورنہ دوبارہ وہ اسے یہ بد دعا دے۔
Explanation
This Hadīth teaches us that if we find someone asking in the mosque about something he has lost, we should say to him: "May Allah not restore it to you" or "May you not find it", according to another narration. This aims at scolding such a person for his lack of reverence for the mosque. Then, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) clarified the reason for this rebuke, saying: "Indeed, mosques were not built for this." In fact, mosques are built for remembering Allah, the Almighty; prayer; knowledge; good discussions; and so on. Therefore, as the seeker of a lost item in the mosque has used this sacred place for a purpose not befitting it, he deserves supplication against him that he may not find his lost property. This is to punish him by giving him the opposite of what he seeks and also to intimidate others and repel them from doing the same. Overall, the Hadīth falls under commanding the right and forbidding the wrong, with the relevant conditions. If the supplication deters such a person and makes him stop, that is good; otherwise, it should be repeated.