ہمیں رسول اللہ ﷺ نے رمضان میں آٹھ رکعات (نمازِ تراویح) اور وتر پڑھائی۔ اگلے دن ہم پھر مسجد میں اکٹھے ہوئے اور…
Hasan (حسن) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح ابن خزیمہSahih Ibn KhuzaymahOriginal wording: اسے ابنِ خزیمہ نے روایت کیا ہے۔
- 2Grade درجہ
- Hasan حسنGood: acceptable, slightly below Sahihقابلِ قبول: صحیح سے کچھ کم درجہGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #11264Sahih Ibn Khuzaymah (HadeethEnc 11264)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
حدیث کا مفہوم: ”ہمیں رسول اللہﷺ نے رمضان میں آٹھ رکعات اور وتر ( نماز) پڑھائی“ یعنی نبی کریم ﷺ نے صحابہ کو رمضان میں مسجد کے اندر آٹھ رکعات نماز اور وتر پڑھائی۔
”جب اگلی رات آئی“ یعنی اس کے بعد دوسری رات۔
”ہم مسجد میں جمع ہو ئے“ یعنی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس امید پر پھر مسجد میں حاضر ہو ئے کہ نبی کریم ﷺ آج پھر آئیں گے اور جیسے ہم نے کل نماز پڑھی تھی ویسے آج پھر پڑھائیں گے۔ اس لیے انھوں نے کہا ”ہمیں امید تھی کہ آپ ﷺ باہر ہمارے پاس تشریف لائیں گے“ یعنی ان کو رات کی نماز پڑھائیں گے۔
”ہم مسجد میں رہے یہاں تک کہ صبح ہو گئی“ یعنی صحابہ مسجد میں انتظار ہی کرتے رہے یہاں تک کہ فجر طلوع ہو گئی۔
”ہم نبی کریمﷺ کے پاس گیے“ یعنی وہ نبی کریمﷺ کے پاس آئے تاکہ آپ ﷺ سے پوچھ سکیں کہ آج آپ ﷺ نماز پڑھانے کے لیے تشریف کیوں نہیں لائے؟
”ہم نے کہا اے اللہ کے رسولﷺ!ہم یہ امید لگائے بیٹھے تھے کہ آپ باہر تشریف لائیں گے اور ہمیں نماز پڑھائیں گے“ یعنی ہم یہ تمنا اور امید لگائے بیٹھے تھے کہ آپ کل رات کی طرح آج پھر آئیں گے اور ہمیں (باجماعت) نماز پڑھائیں گے۔
آپﷺ نے فرمایا: كَرِهت أن يُكتب عليكم الوِتر (میں نے اس بات کو پسند نہیں کیا کہ یہ وتر تم پر فرض کر دی جائے)۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے نہ آنے کی وجہ یہ بیان فرمائی کہ آپ ﷺ کو یہ بات اچھی نہیں لگی کہ کہیں وتر بھی ان پر فرض نہ کر دی جائے۔ ایک روایت میں ہے: ”میں اس بات سے ڈرا کہ کہیں یہ تم پر فرض نہ کر دی جائے“ اور ایک روایت میں ہے ”اس بات سے ڈر ا کہ کہیں قیام اللیل تم پر فرض نہ کر دیا جائے“، یہ وہ سبب تھا جس کی وجہ سے آپ ﷺ ان کے پاس تشریف نہیں لائے اور آپ ﷺ کی امت کے ساتھ یہی وہ رحمت و شفقت ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے ان اوصاف کے ساتھ بیان فرمایا ہے: ﴿لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ﴾ } ”لوگو! تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک پیغمبر آئے ہیں۔ تمہاری تکلیف ان کو گراں معلوم ہوتی ہے اور تمہاری بھلائی کے بہت خواہشمند ہیں۔ اور مومنوں پر نہایت شفقت کرنے والے (اور) مہربان ہیں“ (سورہ توبہ: 128)۔
اس حدیث کی اصل صحیحین میں عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے رسول اللہ ﷺ ایک مرتبہ (رمضان کی) نصف شب میں مسجد تشریف لے گیے اور وہاں تراویح کی نماز پڑھی۔ کچھ صحابہ رضی اللہ عنہم بھی آپ کے ساتھ نماز میں شریک ہو گیے۔ صبح ہوئی تو انھوں نے اس کا چرچا کیا۔ چنانچہ دوسری رات میں لوگ پہلے سے بھی زیادہ جمع ہو گیے اور آپ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی۔دوسری صبح کو اور زیادہ چرچا ہوا اور تیسری رات اس سے بھی زیادہ لوگ جمع ہو گیے۔ آپ ﷺ نے (اس رات بھی) نماز پڑھی اور لوگوں نے آپ ﷺ کی اقتداء کی۔ چوتھی رات کو یہ عالم تھا کہ مسجد میں نماز پڑھنے آنے والوں کے لیے جگہ بھی باقی نہیں رہی تھی۔(لیکن اس رات آپ باہر نکلے ہی نہیں) بلکہ صبح کی نماز کے لیے باہر تشریف لائے۔ جب نماز پڑھ لی تو لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر (کلماتِ) شہادت کے بعد فرمایا۔ امابعد! تمہارے یہاں جمع ہونے کا مجھے علم تھا، لیکن مجھے خوف اس کا ہوا کہ کہیں یہ نماز تم پر فرض نہ کر دی جائے اور پھر تم اس کی ادائیگی سے عاجز ہو جاؤ۔
Explanation
The Messenger of Allah (may Allah’s peace and blessings be upon him) led his Companions in offering eight Rak‘ahs and the Witr during the month of Ramadan. The next night, the Companions (may Allah be pleased with him) gathered in the mosque, thinking that the Messenger would do the same as he had done the night before. So they waited for him until the morning. Then they went to the Messenger (may Allah's peace and blessings be upon him) and asked him why he had not attended to lead them in prayer.
In response, he clarified that he feared the possibility of this prayer becoming obligatory upon them. That is why he did not join them in the mosque – out of mercy and compassion towards his followers. Speaking about this noble Prophet, Allah, the Almighty, says: {There has certainly come to you a Messenger from among yourselves. Grievous to him is what you suffer; [he is] concerned over you and to the believers is kind and merciful.} [Sūrat At-Tawbah: 128]
The original version of this Hadīth was narrated by Al-Bukhāri and Muslim on the authority of ‘Ā’ishah (may Allah be pleased with her) who reported: “The Messenger of Allah (may Allah’s peace and blessings be upon him) went out in the middle of the night and prayed in the mosque once, and some men prayed with him. The people spoke about it the next morning, and so more people gathered and prayed with him. They circulated the news the following morning, and so, on the third night, the number of people increased greatly. The Messenger (may Allah's peace and blessings be upon him) came out, and they prayed behind him. On the fourth night, the mosque was overwhelmed by people beyond its capacity. However, the Messenger (may Allah's peace and blessings be upon him) came out for the Fajr prayer only. Upon finishing the prayer, he faced the people, uttered the testimony of faith, and then said: ‘To proceed: Verily, your gathering was not hidden to me, but I was afraid that this prayer might be enjoined upon you and you might not be able to perform it.’”