جب تم میں سے کوئی نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو رحمت اس کی طرف متوجہ ہوتی ہے۔ پس وہ کنکریوں پر ہاتھ نہ پھیرے۔
Da'if (ضعیف) · Urdu & English translation by HadeethEnc
وعن معيقيب رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: في الرجل يُسَوِّي التُّراب حيث يسجُد، قال: «إِنْ كُنْت فاعِلا فَوَاحِدة».
مُعَیقیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص سے جو ہر مرتبہ سجدہ کرتے ہوئے کنکریاں برابر کرتا تھا فرمایا: ”اگر ایسا کرنا ناگزیر ہو تو صرف ایک ہی بار کرو“۔
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-BukhariOriginal wording: اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔
- 2Grade درجہ
- Da'if ضعیفWeak: chain has a defect, not used as proofکمزور: سند میں کمزوری، دلیل نہیںGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #10877Sahih al-Bukhari (HadeethEnc 10877)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
ابوذر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں درج ذیل باتوں کا بیان ہے:
”جب تم میں سے کوئی شخص نماز کے لیے کھڑا ہو“ یعنی جب وہ نماز شروع کر دے۔ مطلب تکبیرِ تحریمہ سے پہلے کنکریاں صاف کرنا ممنوع نہیں ہے۔
”وہ کنکریوں پر ہاتھ نہ پھیرے“ یعنی کسی معمولی چیز کی وجہ سے نماز سے رو گردانی نہ کرے کیوں کہ اس سے نماز سے توجہ ہٹتی ہے اور اس کی وجہ سے وہ اس رحمت سے محروم ہو جاتا ہے جو نماز کی طرف متوجہ ہونے کی وجہ سے ملا کرتی ہے۔ یہ اس وقت کے لیے ہے جب ایسا سجدے کے مقام کو درست کرنے کے لیے نہ کیا جائے وگرنہ بقدر ضرورت ایک دفعہ ایسا کرنے کی اجازت ہے۔
یہ بات معلوم ہے کہ "حصی" چھوٹی چھوٹی کنکریاں ہوتی ہیں۔ یہاں کنکریوں کا ذکر تغلیبا ہوا ہے کیوں کہ مساجد کے فرش پر عموما یہی ہوتی ہیں۔ اس مسئلے میں کنکریوں، مٹی اور ریت کےمابین کوئی فرق نہیں۔
معیقیب رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ نے اس شخص کے بارے میں بیان فرمایا ہے جو سجدے میں جاتے وقت مٹی برابر کرتا تھا کہ اگر تمہیں کرنا ہی ہے تو ایک دفعہ کرلو۔
”آپ ﷺ نے اس شخص کے بارے میں کہا“ یعنی جس نے آپ ﷺ سے اپنے متعلق پوچھا تھا، کہ وہ جہاں سجدہ کرتا ہے اس جگہ کی مٹی کو برابر کرتا ہے۔ یعنی سجدے کی جگہ کو برابر کرتا ہے یا اس پر سجدہ کرنے کے لیے اسے برابر کرتا ہے۔ (کہ اس کا کیا حکم ہے؟)
آپ ﷺ نے اسے جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ اگر تمہیں ایسا کرنا ہی ہو اورؤتمہیں اس کی ضرورت ہو تو پھر ایک دفعہ کرلیا کرو، ایک سے زیادہ بار نہ کرو۔ چنانچہ کنکریوں کو صاف کرنا مکروہ ہے اِلاّ یہ کہ کنکریوں کی وجہ سے سجدہ کرنا ممکن نہ ہو یعنی یہ بہت زیادہ اوپر نیچے ہوں اور پیشانی اس پر اتنی دیر نہ ٹھہر سکتی ہو جس سے فرض پورا ہو سکے۔ اس صورت میں ایک یا دو دفعہ انھیں برابر کر سکتا ہے۔ کیوں کہ اس سلسلے میں دو روایات ہیں۔ ایک روایت میں ایک دفعہ برابر کرنے کا ذکر ہے اور دوسری روایت میں دو بار برابر کرنے کا ذکر ہے۔ دونوں میں سے جو روایت زیادہ صحیح ہے اس کے مطابق ایک ہی دفعہ برابر کرے، اس سے زیادہ دفعہ نہیں۔
”رحمت اس کی طرف متوجہ ہوتی ہے“ میں نہی کی علت یہ بیان کی گئی ہے کہ (نماز میں) اس پر رحمت کا نزول ہو رہا ہوتا اور وہ اس کی طرف متوجہ ہوتی ہے۔ یہ نہی کی علت ہے۔ یعنی کسی عقل مند کے لیے یہ روا نہیں کہ وہ اتنے ہیچ کام میں لگ کر اتنی عظیم الشان نعمت کو وصول کرے۔ یہ بات علامہ طیبی رحمہ اللہ سے منقول ہے۔ امام شوکانی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ علت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ کنکریاں صاف کرنے سے ممانعت اس لیے وارد ہے کہ نمازی اپنے دل کو کسی ایسے کام میں مشغول نہ کرے جو اسے اس کی طرف آنے والی اللہ کی رحمت سے غافل کر دے اور یوں وہ اس سے اپنا حصہ پانے سے محروم رہ جائے۔
Explanation
In the Hadīth of Abu Dharr, the statement: "When anyone of stands in prayer," means when one starts to pray, and thus it is not forbidden to remove the pebbles before starting the prayer. Removing the pebbles is forbidden in this Hadīth so that insignificant things should not distract the Muslim from the prayer or interrupt his devotion to it. In fact, doing so causes the Muslim to miss out the mercy resulting from focusing on the prayer. This applies to the case in which the praying person does not need to fix the place of prostration; otherwise, it is permissible to do it one time only as required. Pebbles in specific are mentioned in the Hadīth because they were commonly found on the ground of their mosques back then. Otherwise, there is no difference between pebbles, dust, and sand in this regard. The Hadīth of Mu‘ayqīb states that the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said about a man who was leveling the earth where he is prostrating: "If you must do so, then do it only once." A man asked the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) about his case in which he used to level the earth where he prostrates or for prostrating on it. As this was done during the prayer, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) instructed the man to level the earth only one time if there is a need for it. Smoothing the pebble in prayer is disliked except in the case where the pebbles do not allow the person to do prostration properly because they are too uneven to place the required part of the forehead on them. In this case, therefore, one may smooth the pebbles once or twice. In fact, there are two narrations reported on this issue. One narration says that removal of the pebble should be done once, and the other narration says it should be twice. The more apparent meaning of the two narrations implies that one may wipe the pebbles once and not more. The cause for the prohibition of smoothing the pebbles during the prayer is that mercy descends upon and showers the praying person. So, it is not appropriate for a sensible person to react to this significant blessing by such an insignificant action, as stated by At-Tībi. Ash-Shawkāni also said: "This justification highlights that the wisdom behind the prohibition of smoothing the pebbles is that one should not busy his mind with something, which distracts him from the mercy facing him, and thus missing out his share of it."