صحیح بخاری · صحیح مسلم
Sahih al-Bukhari · Sahih Muslim

میں سعید بن زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، تو انھوں نے پوچھا: تم میں سے کس نے اس تارے کو دیکھا، جو کل رات…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
3396Sahih صحیح
عن حُصين بن عبد الرحمن قال: كنتُ عند سعيد بن جُبير فقال: أيكم رأى الكوكب الذي انقَضَّ البارحة؟ فقلتُ: أنا، ثم قلتُ: أما إني لم أكن في صلاة، ولكني لُدغْتُ، قال: فما صنعتَ؟ قلت: ارتقيتُ، قال: فما حَمَلك على ذلك؟ قلت: حديث حدَّثَناه الشعبي، قال: وما حدَّثَكم؟ قلتُ حدثنا عن بريدة بن الحُصيب أنه قال: "لا رُقْية إلا مِن عَيْن أو حُمَة"، قال: قد أحسَن مَن انتهى إلى ما سمع، ولكن حدثنا ابن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال:
"عُرضت عليّ الأُمم، فرأيتُ النبي ومعه الرَّهط والنبي ومعه الرجل والرجلان، والنبي وليس معه أحد، إذ رُفع لي سواد عظيم فظننتُ أنهم أمَّتي، فقيل لي: هذا موسى وقومه، فنظرتُ فإذا سواد عظيم، فقيل لي: هذه أمَّتك، ومعهم سبعون ألفا يدخلون الجنة بغير حساب ولا عذاب، ثم نهض فدخل منْزله، فخاض الناس في أولئك؛ فقال بعضهم: فلعلهم الذين صحِبوا رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال بعضهم: فلعلهم الذين وُلِدُوا في الإسلام فلم يشركوا بالله شيئا، وذكروا أشياء، فخرج عليهم رسول الله صلى الله عليه وسلم فأخبروه، فقال: هم الذين لا يَسْتَرقون، ولا يَكْتَوُون، ولا يَتَطَيَّرون، وعلى ربهم يتوكلون، فقام عُكاشة بن مِحصَن فقال: ادع الله أن يجعلني منهم، قال: أنت منهم، ثم قام جل آخر فقال: ادع الله أن يجعلني منهم، فقال: سَبَقَك بها عكاشة".
حصین بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ: میں سعید بن زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس تھا تو انہوں نے پوچھا: تم میں سے کس نے اس تارے کو دیکھا جو کل رات ٹوٹا؟ میں نے کہا: میں نے دیکھا، پھر میں نے کہا: میں اس وقت نماز میں نہیں تھا کیونکہ میں (کسی زہریلے بچھو کے ذریعہ) ڈس لیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا: تم نے کیا کیا؟ میں نے کہا: جھاڑ پھونک کیا۔ انہوں نے کہا: تمہیں کس چیز نے اس بات پر ابھارا؟ میں نے کہا: شعبی کی بیان کردہ ایک حدیث نے۔ انہوں نے کہا: شعبی نے کیا بیان کیا؟ میں نے کہا: ہم سے انہوں نے بریدہ بن حُصیب سے بیان کیا کہ انہوں نے کہا: ”نظر بد اور زہریلے جانور کے کاٹ کھانے کے سوا اور کسی چیز پر جھاڑ پھونک صحیح نہیں“۔ انہوں نے کہا: جو کچھ تم نے سنا ٹھیک سنا۔ لیکن مجھ سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے روایت کردہ حدیث بیان کی کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ”میرے سامنے تمام امتیں پیش کی گئیں میں نے ایک نبی کو دیکھا، ان کے ساتھ ایک چھوٹا سا (دس سے کم کا) گروہ تھا، کسی (اور) نبی کو دیکھا کہ اس کے ساتھ ایک یا دو امتی تھے، کوئی نبی ایسا بھی تھا کہ اس کے ساتھ کوئی امتی نہ تھا، آخر میرے سامنے ایک بڑی بھاری جماعت آئی۔ میں نے پوچھا یہ کون ہیں، کیا یہ میری امت کے لوگ ہیں؟ مجھ سے کہا گیا کہ: یہ موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم ہے، میں نے دیکھا کہ ایک بہت ہی عظیم جماعت ہے، پھر مجھ سے کہا گیا : یہ آپ کی امت ہے اور اس میں سے ستر ہزار حساب اور عذاب کے بغیر جنت میں داخل کر دیئے جائیں گے۔ پھر آپ اٹھے اور اپنے حجرہ میں تشریف لے گئے، لوگ ان جنتیوں کے بارے میں بحث کرنے لگے، اور کچھ لوگ کہنے لگے: شاید کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی صحبت پائی ہے۔ اور کچھ لوگوں نے کہا: شاید یہ وہ لوگ ہیں جن کی ولادت اسلام میں ہوئی اور انہوں نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کیا۔ اور بہت سی باتیں لوگوں نے کہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم باہر تشریف لائے اور آپ کو اس بات کی خبر دی گئی تو آپ نے فرمایا : یہ وہ لوگ ہوں گے جو جھاڑ پھونک نہیں کراتے، داغ کر علاج نہیں کرتے اور بد شگونی و فال نہیں لیتے بلکہ اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں۔ اس پر عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا :آپ اللہ سے دعا کیجیے کہ اللہ مجھے انہیں میں کردے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم انہیں میں سے ہو۔ پھر ایک دوسرے صحابی کھڑے ہوئے اور عرض کیا : آپ اللہ سے دعا کیجیے کہ اللہ مجھے انہیں میں کردے۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : عکاشہ تم سے بازی لے گئے“۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Husayn ibn ‘Abdur-Rahmān reported: I was with Sa‘īd ibn Jubayr when he said: "Who among you saw a shooting star last night?" I said: "It was I." Then I said: "In fact, I was not (busy) in prayer, but I was stung by a scorpion (and that is the reason why I was awake and had a glimpse of the shooting star)." He said: "Then what did you do?" I said: "I performed Ruqyah (healing through Qur’an recitation and supplication)." He said: "What urged you to do this?" I said: "I did it in compliance with a Hadīth which Ash-Sha‘bi narrated to us." Sa‘īd said: "What did Ash-Sha‘bi narrate to you?" I said: "He narrated that Buraydah ibn al-Husayb al-Aslami said: ‘Ruqyah is of no avail except in case of the (evil influence) of an eye or the sting of a scorpion.'" He said: "The one who acted according to what he heard (from the Prophet) acted rightly, but Ibn ‘Abbās narrated to us from the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) that he said: 'The nations were presented before me, and I saw a prophet and a small group (of his followers) along with him, another (prophet) and one or two persons (along with him), and (yet another) prophet having no one with him. When a very large group was brought to me, I thought it to be my Ummah (nation). Then it was said to me: 'It is Moses and his nation. You should look at the horizon,' and I saw a very huge group. It was again said to me: 'See the other side of the horizon,' and there was (also) a very huge group. It was said to me: 'This is your Ummah,' and among them, there were seventy thousand people who will enter Paradise without being called to account and without (suffering) any torment.’ He then stood up and went to his house. Then the people began to talk about the people who would be admitted to Paradise without Judgment and without (suffering) any torment. Some of them said: ‘They may be those who (have had the good fortune of living) in the company of the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him).’ And some of them said: ‘Perhaps they are those who were born in Islam and did not associate anything with Allah.’ Some people mentioned other things. Thereupon the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) came out before them and said: ‘What was that which you were talking about?’ They informed him of it. He said: ‘They are those persons who neither ask others to do Ruqyah for them, nor do they cauterize, and they rely upon their Lord.’ Upon this, ‘Ukkāshah ibn Mihsan stood up and said: ‘Supplicate Allah for me that He should make me one among them.’ Upon this, he said: ‘You are one among them.’ Then another man stood up and said: ‘Supplicate Allah that He should make me one among them.’ Upon this, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said: 'Ukkāshah has preceded you.'"
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: متفق علیہ
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #3396

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

حصین بن عبد الرحمٰن رحمہ اللہ نے جھاڑ پھونک سے متعلق اپنے اور سعید بن جبیر رحمہ اللہ کے مابین ہونے والی گفتگو کو بیان کیا ہے۔ واقعہ یوں ہے کہ حصین کو بچھو نے ڈس لیا اور انھوں نے مشروع رقیہ کے ذریعے جھاڑ پھونک کیا۔ جب سعید نے ان سے دلیل طلب کی، تو انھوں نے شعبی کی وہ حدیث بیان کی، جو نظر بد اور زہر کے لیے جھاڑ پھونک کو مباح قرار دیتی ہے۔ سعید نے اس پر ان کی تعریف کی، لیکن اس کے ساتھ ان کے لیے ترکِ رقیہ کو بہتر قرار دینے والی حدیث بیان کی۔ وہ حدیث ابن عباس سے مروی ہے، جس میں چار صفات سے متصف لوگوں کو حساب و عذاب کے بغیر جنت کا مستحق بتایا گیا ہے، جو درج ذیل ہیں:جھاڑ پھونک سے اجتناب کرنا، داغنے کے علاج سے پرہیز کرنا، بد فالی سے دور رہنا اور اللہ تعالیٰ پر سچا بھروسہ کرنا۔ جب عکاشہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے اس جماعت میں شامل ہونے کے لیے دعا کی درخواست کی، تو آپ نے بتایا کہ تم انھیں میں سے ہو۔ لیکن جب یہی گزارش دوسرے صحابی نے کی، تو آپ نے ان کے ساتھ نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے منع کر دیا؛ تاکہ اس سلسلے کا سد باب کیا جا سکے۔

Explanation

Husayn ibn ‘Abdur-Rahmān (may Allah have mercy on him) informs us about his conversation with Sa‘īd ibn Jubayr (may Allah have mercy on him) regarding Ruqyah. Husayn had been stung by a scorpion and performed the Shariah-approved Ruqyah. After Sa‘īd asked him about his proof for such practice, so he related the Hadīth that he heard from Ash-Sha‘bi which indicates the permissibility of Ruqyah [to resist] the evil influence of the evil eye and poison. Sa‘īd, in return, praised him for it, yet, he narrated to him a Hadīth that recommends leaving it. It is the Hadīth narrated by Ibn ‘Abbās which includes the four characteristics of those who will enter Paradise without account or torment. They do not ask others to perform Ruqyah for them, do not cauterize, refrain from believing in bad omens, and rely sincerely upon Allah, the Exalted. ‘Ukkāshah immediately asked the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) to supplicate Allah to include him among them. Another man stood up, asking the same thing, but the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) gently told him that it was not possible in order to stop further requests.

Topics موضوعات