میں سعید بن زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، تو انھوں نے پوچھا: تم میں سے کس نے اس تارے کو دیکھا، جو کل رات…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
"عُرضت عليّ الأُمم، فرأيتُ النبي ومعه الرَّهط والنبي ومعه الرجل والرجلان، والنبي وليس معه أحد، إذ رُفع لي سواد عظيم فظننتُ أنهم أمَّتي، فقيل لي: هذا موسى وقومه، فنظرتُ فإذا سواد عظيم، فقيل لي: هذه أمَّتك، ومعهم سبعون ألفا يدخلون الجنة بغير حساب ولا عذاب، ثم نهض فدخل منْزله، فخاض الناس في أولئك؛ فقال بعضهم: فلعلهم الذين صحِبوا رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال بعضهم: فلعلهم الذين وُلِدُوا في الإسلام فلم يشركوا بالله شيئا، وذكروا أشياء، فخرج عليهم رسول الله صلى الله عليه وسلم فأخبروه، فقال: هم الذين لا يَسْتَرقون، ولا يَكْتَوُون، ولا يَتَطَيَّرون، وعلى ربهم يتوكلون، فقام عُكاشة بن مِحصَن فقال: ادع الله أن يجعلني منهم، قال: أنت منهم، ثم قام جل آخر فقال: ادع الله أن يجعلني منهم، فقال: سَبَقَك بها عكاشة".
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق علیہ
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #3396Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 3396)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
حصین بن عبد الرحمٰن رحمہ اللہ نے جھاڑ پھونک سے متعلق اپنے اور سعید بن جبیر رحمہ اللہ کے مابین ہونے والی گفتگو کو بیان کیا ہے۔ واقعہ یوں ہے کہ حصین کو بچھو نے ڈس لیا اور انھوں نے مشروع رقیہ کے ذریعے جھاڑ پھونک کیا۔ جب سعید نے ان سے دلیل طلب کی، تو انھوں نے شعبی کی وہ حدیث بیان کی، جو نظر بد اور زہر کے لیے جھاڑ پھونک کو مباح قرار دیتی ہے۔ سعید نے اس پر ان کی تعریف کی، لیکن اس کے ساتھ ان کے لیے ترکِ رقیہ کو بہتر قرار دینے والی حدیث بیان کی۔ وہ حدیث ابن عباس سے مروی ہے، جس میں چار صفات سے متصف لوگوں کو حساب و عذاب کے بغیر جنت کا مستحق بتایا گیا ہے، جو درج ذیل ہیں:جھاڑ پھونک سے اجتناب کرنا، داغنے کے علاج سے پرہیز کرنا، بد فالی سے دور رہنا اور اللہ تعالیٰ پر سچا بھروسہ کرنا۔ جب عکاشہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے اس جماعت میں شامل ہونے کے لیے دعا کی درخواست کی، تو آپ نے بتایا کہ تم انھیں میں سے ہو۔ لیکن جب یہی گزارش دوسرے صحابی نے کی، تو آپ نے ان کے ساتھ نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے منع کر دیا؛ تاکہ اس سلسلے کا سد باب کیا جا سکے۔
Explanation
Husayn ibn ‘Abdur-Rahmān (may Allah have mercy on him) informs us about his conversation with Sa‘īd ibn Jubayr (may Allah have mercy on him) regarding Ruqyah. Husayn had been stung by a scorpion and performed the Shariah-approved Ruqyah. After Sa‘īd asked him about his proof for such practice, so he related the Hadīth that he heard from Ash-Sha‘bi which indicates the permissibility of Ruqyah [to resist] the evil influence of the evil eye and poison. Sa‘īd, in return, praised him for it, yet, he narrated to him a Hadīth that recommends leaving it. It is the Hadīth narrated by Ibn ‘Abbās which includes the four characteristics of those who will enter Paradise without account or torment. They do not ask others to perform Ruqyah for them, do not cauterize, refrain from believing in bad omens, and rely sincerely upon Allah, the Exalted. ‘Ukkāshah immediately asked the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) to supplicate Allah to include him among them. Another man stood up, asking the same thing, but the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) gently told him that it was not possible in order to stop further requests.