”نہ چھوت لگنا ہے اور نہ بدشگونی، نہ الو کی نحوست ہے اور نہ ماہ صفر کی۔ تم کوڑھ کے مریض سے اسی طرح بھاگو، جس…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق عليه
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #3407Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 3407)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے دور جاہلیت کی کچھ چيزوں کا ذکر، ان سے خبردار رکھنے اور یہ بتانے کے لیے فرمایا کہ سب کچھ اللہ کے ہاتھ میں ہے اور کچھ بھی اس کے فیصلے اور تقدیر سے ہٹ کر نہيں ہوتا۔ اور وہ چیزیں درج ذیل ہیں:
1- دور جاہلیت کے لوگ سمجھتے تھے کہ مرض بذات خود متعدی ہوا کرتی ہے۔ لہذا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتا دیا کہ کوئی بیماری طبعی طور پر ایک شخص سے دوسرے شخص میں منتقل نہیں ہوتی۔ اس کائنات کا تصرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ وہی بیماری اتارتا اور اٹھاتا ہے۔ یہ سب اس کے ارادے اور فیصلے کے مطابق ہوا کرتا ہے۔
2- دور جاہلیت کے لوگ جب سفر یا تجارت کے ارادے سے نکلتے، تو کسی پرندے کو بھگاتے۔ وہ اڑ کر دائيں طرف جاتا، تو خوش ہو جاتے۔ لیکن اگر بائیں طرف جاتا، تو برا شگون لیتے اور لوٹ جاتے۔ چنانچہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اس طرح پرندہ اڑا کر برا شگون لینے سے منع فرمایا اور بتایا کہ یہ ایک غلط عقیدہ ہے۔
3- دور جاہلیت کے لوگ کہتے تھے: کسی گھر پر الو بیٹھ جائے، تو اہل خانہ مصیبت میں پڑ جاتے ہیں۔ لیکن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اس طرح برا شگون لینے سے منع فرمایا۔
4- آپ نے صفر مہینے سے برا شگون لینے سے منع فرمایا۔ صفر قمری سال کا دوسرا مہینہ ہے۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ صفر ایک کیڑا ہے، جو جانور یا انسان کے پیٹ میں پیدا ہو جاتا ہے۔ عربوں کا عقیدہ تھا کہ یہ خارش کی بیماری سے بھی زیادہ متعدی بیماری ہے۔ چنانچہ آپ نے اس عقیدے کی نفی کر دی۔
5- آپ نے کوڑھ کے مرض کے شکار انسان سے اسی طرح بھاگنے کا حکم دیا ہے، جس طرح شیر سے بھاگا جاتا ہے۔ دراصل یہ حکم اپنے لیے احتیاط، طلب عافیت اور اللہ کے حکم کردہ اسباب پر عمل کرنے کے قبیل سے ہے۔ کوڑھ ایک بیماری ہے، جس کا شکار ہونے والے انسان کے جسم کے اعضا گلنے لگتے ہيں۔
حدیث کے فوائد
- اللہ پر توکل و اعتماد اور مشروع اسباب اختیار کرنا واجب ہے۔
- قضا و قدر اور اس بات پر ایمان رکھنا واجب ہے کہ اسباب اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ وہی ان کو مؤثر بناتا اور وہی انہیں بے اثر بناتا ہے۔
- جو لوگ سیاہ و سرخ وغیرہ رنگوں، بعض ارقام، ناموں، اشخاص اور معذور افراد سے بد شگونی لیتے ہیں، ان کا یہ عمل باطل و بے بنیاد ہے۔
- مجذوم اور اسی طرح متعدی امراض کے شکار لوگوں کے قریب جانے کی ممانعت دراصل ان اسباب میں سے ہے، جن کے بطن سے عموماً اللہ کے حکم سے مسببات پیدا ہوا کرتے ہيں۔ دیکھا جائے تو اسباب کا اپنا مستقل وجود نہيں ہوتا، بلکہ اللہ چاہے تو ان کی تاثیر ختم کر کے بے اثر بنا دے اور چاہے تو ان کے اثر کو باقی رکھ کر ان کو مؤثر رہنے دے۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) clarified some of the practices of Jāhliyyah (the pre-Islamic era of ignorance) by way of warning and stressing the fact that all matters are in the Hand of Allah and nothing occurs except with His command and decree. These practices are:
First: The people of Jāhliyyah used to think that a disease was contagious by itself. However, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) forbade such a belief that a disease could be naturally transmitted from one sick person to another, as Allah is the Disposer of the universe and the One Who sends down the disease and lifts it, and this only occurs according to His will and decree.
Second: The people of Jāhliyyah used to make a bird fly when setting out on a journey or for trade. If the bird flew towards the right, they would take that as a good omen, but if it flew towards the left, they would consider this an evil omen and would return. The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) forbade such an act of taking birds as a bad omen and made it clear that it is a false belief.
Third: The people of Jāhiliyyah used to say that if an owl fell on a house, its dwellers would be stricken by a disaster, but again the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) forbade taking this as an evil omen.
Fourth: He forbade taking the month of Safar, which is the second month in the lunar calendar, as a bad omen. It is said that "Safar" is: a snake in the stomach that affects cattle and people, claiming that it is more contagious than scabies; however, he negated such a belief.
Fifth: He commanded that one should move far from the leper as he would move far from the lion as a precaution and to seek one's safety and utilize the available means as commanded by Allah. Leprosy: a disease that eats away a man's organs.