جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی سے ملے، تو اسے سلام کرے۔ پھر اگر ان دونوں کے درمیان درخت ، دیوار یا پتھر حائل ہو…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- سنن ابو داؤدSunan Abi DawudOriginal wording: رواه أبو داود
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #3552Sunan Abi Dawud (HadeethEnc 3552)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اس بات کی ترغیب دے رہے ہیں کہ ایک مسلمان جب بھی اپنے بھائی سے ملے تو اسے سلام کرے۔ حتی کہ اگر دونوں ساتھ چل رہے ہوں اور اسی دوران بیچ میں پیڑ، دیوار اور کوئی بڑا پتھر وغیرہ آ جائے، تو دوبارہ ملتے وقت پھر سے اسے سلام کرے۔
حدیث کے فوائد
- سلام کو عام کرنا اور ہر تغیر حال کے وقت پھر سے سلام کرنا مستحب ہے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، سلام کی سنت کو عام کرنے کا بے حد اہتمام کیا کرتے تھے، کیوں کہ اس سے مسلمانوں کے درمیان محبت والفت پیدا ہوتی ہے۔
- سلام کرنے سے مراد "السلام علیکم" یا "السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ" کہنا ہے۔ اس کے اندر مصافحہ، جو پہلی بار ملتے وقت کیا جاتا ہے، شامل نہيں ہے۔
- سلام دعا ہے اور ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان ایک دوسرے کے لیے دعا کریں۔ خواہ بار بار ہی کیوں نہ ملاقات ہو۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) urges the Muslim to greet his fellow Muslim with peace whenever he meets him; even if they are walking together and something separates between them, like a tree, a wall, or a big rock, and then he meets him, he should greet him with peace once again.