بنی اسرائیل میں تین شخص تھے، ایک کوڑھی، ایک گنجا اور ایک نابینا۔ اللہ تعالیٰ نے ان تینوں بندوں کو آزمانا…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
قال: لون حسن، وجلد حسن، ويذهب عني الذي قد قَذِرَني النَّاس به.
قال: فمسحه فذهب عنه قَذَرُه، فأُعْطِيَ لوناً حسناً وجلداً حسناً.
قال: فأي المال أحب إليك؟
قال: الإبل أو البقر -شك إسحاق-. فأُعْطي ناقة عُشَرَاءَ، وقال: بارك الله لك فيها.
قال: فأتى الأقرع؛ فقال: أي شيء أحب إليك؟
قال شعر حسن، ويذهب عني الذي قد قَذِرَني الناس به. فمسحه فذهب عنه، وأُعْطِيَ شعراً حسناً.
فقال: أي المال أحب إليك؟
قال: البقر أو الإبل. فأُعْطِيَ بقرة حاملاً، قال: بارك الله لك فيها.
فأتى الأعمى؛ فقال: أي شيء أحب إليك؟ قال: أن يَرُدَّ الله إليَّ بصري فأبصر به الناس. فمسحه فردَّ الله إليه بصره.
قال: فأي المال أحب إليك؟
قال: الغنَم، فأُعْطِي شاة والدًا.
فأُنْتِجَ هذان، ووَلَّد هذا، فكان لهذا وادٍ مِن الإبل، ولهذا وادٍ مِن البقر، ولهذا وادٍ من الغنم.
قال: ثم إنه أتى الأبرص في صورته وهيئته، فقال: رجل مسكين قد انقطعت بي الحِبال في سفري، فلا بلوغ لي اليوم إلا بالله ثم بك، أسألك بالذي أعطاك اللون الحسن والجلد الحسن والمال بعيرا أَتَبَلَّغُ به في سفري.
فقال: الحقوق كثيرة.
فقال: كأني أعرفك، ألم تكن أبرص يَقْذَرُك الناس، فقيرًا فأعطاك الله المال؟
فقال: إنما ورثت هذا المال كابرًا عن كابرٍ.
فقال: إن كنت كاذباً فصيَّرك الله إلى ما كنت.
وأتى الأقرعَ في صورته فقال له مثل ما قال لهذا، وردَّ عليه مثل ما ردَّ عليه هذا.
فقال: إن كنت كاذباً فصيّرك الله إلى ما كنت.
قال: وأتى الأعمى في صورته، فقال: رجل مسكين وابن سبيل قد انقطعت بي الحِبال في سفري، فلا بلاغ لي اليوم إلا بالله ثم بك، أسألك بالذي ردَّ عليك بصرك شاة أَتَبَلَّغُ بها في سفري.
فقال: قد كنت أعمى فردَّ الله إليَّ بصري، فخُذْ ما شِئْت ودَعْ ما شِئْت، فوالله لا أَجْهَدُك اليوم بشيء أخذته لله.
فقال: أَمْسِكْ مالك؛ فإنما ابتُلِيتُم؛ فقد رضِيَ الله عنك، وسَخِط على صاحبيك".
آپ ﷺ کہتے ہیں کہ فرشتے نے اس پر اپنا ہاتھ پھیرا تو اس کی بیماری جاتی رہی، اس کا رنگ خوبصورت ہوگیا اور جلد بھی اچھی ہوگئی۔فرشتے نے پوچھا: کس طرح کا مال تم زیادہ پسند کرتے ہو؟۔ اس نے جواب دیا اونٹ یا پھر اس نے کہا گائے، اس بارے میں راوی اسحاق کو شک ہے۔ اُسے دس ماہ کی حاملہ اونٹنی دے دی گئی اور فرشتے نے اسے کہا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں اس میں برکت دے۔
پھر فرشہ گنجے کے پاس آیا اور اس سے پوچھا کہ تمہیں کیا چیز پسند ہے؟ اس نے کہا عمدہ بال اور یہ کہ میرا یہ عیب ختم ہوجائے جس کی وجہ سے لوگ مجھے ناپسند کرتے ہیں۔
فرشتے نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا جس سے اس کا یہ عیب جاتا رہا اور اس کے عمدہ بال آگئے۔
فرشتے نے پوچھا کہ کس طرح کا مال تمہیں زیادہ پسند ہے؟ اس نے کہا کہ گائے یا اونٹ۔ چنانچہ اُسے حاملہ گائے دے دی گئی اور فرشتے نے اس سےکہا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں اس میں برکت دے۔
پھر فرشتہ اندھے کے پاس گیا اور پوچھا کہ تمہیں کیا چیز پسند ہے؟ اندھے شخص نے کہا کہ اللہ تعالیٰ مجھے میری بینائی لوٹا دے تاکہ میں لوگوں کو دیکھ سکوں۔ فرشتے نے ہاتھ پھیرا اور اللہ تعالیٰ نے اس کی بینائی لوٹادی۔
فرشتے نے پوچھا کہ کس طرح کا مال تمہیں زیادہ پسند ہے؟ اس نے کہا کہ بکریاں۔ فرشتے نے اسے ایک حاملہ بکری دے دی۔
کوڑھی اور گنجے نے (اونٹ اور گائے کی) افزائش نسل کی اور اندھے نے بھی بکری کے بچے جنوائے۔ کوڑھی کے اونٹوں سے ایک وادی بھر گئی، گنجے کے گائے بیل سے ایک وادی بھر گئی اور اندھے کی بکریوں سے ایک وادی بھر گئی۔
آپ ﷺ نے فرمایا کہ فرشتہ دوبارہ اپنی اُسی شکل وصورت میں کوڑھی کے یہاں گیا اور کہا کہ میں ایک نہایت مسکین آدمی ہوں، سفر کا تمام سامان واسباب ختم ہو چکا ہے اور اللہ تعالیٰ کی ذات پھر تمہاری مدد کے بنا میں اپنی منزل تک نہیں پہنچ سکتا، میں تم سے اسی ذات کا واسطہ دے کر جس نے تمہیں اچھا رنگ، اچھی جلد اور مال عطا کیا، ایک اونٹ کا سوال کرتا ہوں جس پر میں اپنا سفر طے کر سکوں۔ اس نے فرشتے سے کہا کہ حقوق بہت زیادہ ہیں ( اس لیے تمہارے لیے گنجائش نہیں)۔ فرشتے نے کہا غالباً میں تمہیں پہچانتا ہوں، کیا تمہیں کوڑھ کی بیماری نہیں تھی جس کی وجہ سے لوگ تم سے نفرت کیا کرتے تھے اور کیا تم فقیر نہیں تھے اور پھر تمہیں اللہ نے مال عطا کیا۔ اس نے کہا کہ یہ سارا مال و دولت تو مجھے اپنے آباء اجداد سے وراثت میں ملا ہے۔ اس پر فرشتے نے کہا کہ اگر تم جھوٹے ہو تو اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی پہلی حالت پر لوٹا دے۔
پھر فرشتہ اپنی اُسی شکل وصورت میں گنجے کے پاس گیا اور اس سے بھی وہی کچھ کہا جو کوڑھی سے کہا تھا۔ اس گنجے نے بھی وہی جواب دیا جو کوڑھی نے دیا تھا۔ فرشتے نے کہا کہ اگر تم جھوٹے ہو تو اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی پہلی حالت پر لوٹا دے۔
آپ ﷺ کہتے ہیں کہ اس کے بعد فرشتہ اپنی اُسی شکل وصورت میں اندھے کے پاس گیا اور کہا کہ میں ایک نہایت مسکین اور مسافر آدمی ہوں، سفر کے تمام اسباب ووسائل ختم ہوچکے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی ذات پھر تمہاری مدد کے بنا میں اپنی منزل تک نہیں پہنچ سکتا۔ میں تم سے اسی ذات کا واسطہ دے کر جس نے تمہیں بینائی دی، ایک بکری مانگتا ہوں جس سے اپنے سفر کی ضروریات پوری کرسکوں۔اندھے نے جواب دیا کہ واقعی میں اندھا تھا اور اللہ تعالیٰ نے مجھے بینائی عطا فرمائی۔ جتنی چاہو بکریاں لے لو اور جتنی چاہو چھوڑ دو۔اللہ کی قسم! آج اللہ کے لیے جو چیز بھی تم لو گے اسے لینے سے میں تمہیں نہیں روکوں گا۔ اس پر فرشتے نے کہا کہ اپنا مال اپنے پاس رکھو۔ یہ تو صرف تم لوگوں کا امتحان تھا اور اللہ تعالیٰ تم سے راضی اور خوش ہے اور تمہارے دونوں ساتھیوں سے ناراض ہے۔
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق علیہ
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #5926Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 5926)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
نبی ﷺ بنی اسرائیل کے تین اشخاص کے بارے میں بتا رہے ہیں جن میں ہر ایک کو کوئی نہ کوئی جسمانی بیماری لاحق تھی اور وہ مالی طور پر تھی دست تھا۔ ان میں سے ایک کوڑھی تھا جو ایک بیماری میں مبتلا تھا اور اس کی جلد کا رنگ بدل چکا تھا۔ دوسرا گنجا تھا جس کے سر کے سارے یا کچھ بال اڑ چکے تھے اور تیسرا اندھا تھا ۔ اللہ تعالی نے انہیں پرکھنا چاہا اور ان کے ایمان اور شکر کا امتحان لینے کا ارادہ فرمایا۔ چنانچہ انسانی صورت میں ان کی طرف ایک فرشتہ بھیج دیا۔
فرشتہ کوڑھی کے پاس آیا ۔ وہ سب سے پہلے کوڑھی کے پاس اس لیے آیا کیونکہ اس کی بیماری زیادہ قبیح، گندی اور بڑی تھی۔ فرشتے نے اس کوڑھی سے پوچھا کہ اسے کون سی شے زیادہ پسند ہے؟ اس نے جواب دیا کہ اچھی رنگت اور خوبصورت جلد اور یہ کہ میری یہ بیماری جاتی رہے جس کی وجہ سے لوگ مجھ سے دور رہتے ہیں۔ اس نے صرف اچھے رنگ پر ہی اکتفاء نہیں کیا کیونکہ کوڑھ زدہ جلد سکڑ اور اینٹھ جاتی ہے اور اس میں کھردرا پن آ جاتا ہے جس سے اس بیماری میں مبتلا شخص کی بد صورتی اور عیب میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ فرشتے نے پوچھا تمہیں کون سا مال زیادہ پسند ہے؟۔ اس نے جواب دیا: اونٹ یا پھر اس نے کہا کہ گائے۔ اس میں راوی کو شک ہے کہ آیا اس نے اونٹ سنا تھا یا گائے۔ راجح یہ ہے کہ یہ اونٹ ہی ہو کیونکہ اپنے اس قول میں اس نے صر ف اونٹنی کا ہی ذکر کیا ہے کہ: فأعطى ناقة حاملًا یعنی اُسے ایک ایسی حاملہ اونٹنی دے دی گئی جس کے حمل کو دس ماہ ہو چکے تھی۔ اونٹوں میں اس قسم کی اونٹنی سب سے قیمتی ہوتی ہے۔ پھر فرشتے نے دعا کی کہ اللہ تمہارے لیے اس میں برکت دے۔ فرشتے کی دعا قبول ہو ئی جیسا کہ بقیہ حدیث میں ہے۔
آپ ﷺ نے فرمایا کہ پھر فرشتہ گنجے کے پاس آیا اور پوچھا: تمہیں کون سی شے سب سے زیادہ پسند ہے؟۔ اس نے جواب دیا: اچھے بال اور یہ کہ میرا یہ گنجا پن دور ہو جائے جس کی وجہ سے لوگ مجھے ناپسند کرتے ہیں۔ آپ ﷺ کہتے ہیں کہ فرشتے نے اس پر ہاتھ پھیرا۔ یا تو صرف اس جگہ پر ہاتھ پھیرا جو بیماری زدہ تھا اور اسی کا زیادہ احتمال ہے یا پھر اس کے سارے بدن پر ہاتھ پھیرا تاکہ برکت اس کے سارے بدن کو عام ہو جائے۔ چنانچہ اس کا گنجا پن ختم ہوگیا اور اسے خوبصورت بال دے دیے گئے۔ پھر فرشتے نے اس سے پوچھا کہ کون سا مال تمہیں زیادہ محبوب ہے؟ ۔ اس نے جواب دیا کہ گائے۔ اس پر اسے ایک حاملہ گائے دے دی گئی اور فرشتے نے اسے دعا دی اللہ تعالی تمہارے لیےاس میں برکت دے۔ فرشتے کی دعا قبول ہوئی جیسا کہ بقیہ حدیث میں ہے۔
آپ ﷺ نے فرمایا پھر وہ فرشتہ اندھے کے پاس آیا اور اس سے پوچھا تمہیں کون سی شے زیادہ پسند ہے؟۔ اس نے جواب دیا یہ کہ اللہ تعالی مجھے میری بینائی واپس لوٹا دے اور میں لوگوں کو دیکھنا شروع کر دوں۔ آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ فرشتے نے اپنا ہاتھ اس کی آنکھوں پر پھیرا ۔ اس بات کا بھی احتمال ہے کہ اس کے سارے بدن پر ہاتھ پھیرا ہو تاہم پہلی بات کا زیادہ امکان ہے جیسا کہ گزر چکا ہے۔ اس پر اللہ تعالی نے اسے اس کی بینائی لوٹا دی۔ پھر فرشتے نے دریافت کیا کہ تمہیں کون سا مال زیادہ پسند ہے؟ ۔اس نے جواب دیا بھیڑ بکریاں۔ اسے بچے والی ایک بکری دے دی گئی اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ایک حاملہ بکری دے دی گئی۔ اونٹ اور گائے والے دونوں اشخاص نے ان کی افزائش نسل کی اور اسی طرح بکری والے نے بھی اس کی نسل آگے بڑھائی۔
چنانچہ کوڑھی کے اونٹوں سے پوری ایک وادی بھر گئی، گنجے کی گایوں سے ایک وادی بھر گئی نیز اندھے کی بھیڑ بکریوں سے بھی پوری ایک وادی بھر گئی۔
آپ ﷺ نے فرمایا: پھر فرشتہ کوڑھی کے پاس اس کی سابقہ شکل اور ہیئت میں آیا بایں طور کہ اس نے گھٹیا قسم کے کپڑے پہن رکھے تھے وغیرہ ۔ صحت مند اور امیر ہو جانے کے بعد وہ فرشتہ اس کے پاس اسی شکل میں آیا جس شکل میں وہ پہلی دفعہ آیا تھا اور کہنے لگا کہ میں مسکین اور ضرورت مند آدمی ہوں، اپنے اس سفر کے دوران حصول رزق کی تلاش میں میرے تمام اسباب و وسائل منقطع ہو چکے ہیں ۔ میں آج اپنی منزل مقصود تک صرف اللہ کے سہارے اور اس کے بعد تمہارے تعاون سے پہنچ سکتا ہوں کیونکہ تم بھلے آدمی دکھائی دیتے ہو اور امیر ہو۔ فرشتے کی طرف سے یہ محض ایک توریہ تھا جس کا مقصد بات سمجھانا ہوتا ہے، ان باتوں کا حقیقی مفہوم مراد نہیں تھا۔ فرشتے نے کہا کہ میں اس ذات کی قسم دے کر تم سے رحم کی درخواست کرتا ہوں جس نے فقر وبیماری میں مبتلا رکھنے کے بعد تجھے خوش نما رنگ، خوبصورت جلد اور مال عطا کیا کہ مجھے ایک اونٹ دے دو جس سے میں اپنے سفر کی ضروریات پوری کر سکوں۔کوڑھی نے جواب دیا: میرے اوپر بہت سے حقوق ہیں۔ زائد از ضرورت کچھ ہے ہی نہیں کہ وہ میں تمہیں دے دوں ا س لیے میرے علاوہ کسی اور کو ڈھونڈو۔ اس پر فرشتے نے کہا کہ غالباً میں تمہیں پہچانتا ہوں۔ کیا تم کوڑھی نہیں تھے جس سے لوگ گھن کھاتے تھے اور بعدازاں اللہ تعالیٰ نے تجھے صحت عطا فرمائی اور کیا تم فقیر نہیں تھے اور پھر اللہ عزّ و جلّ نے تمہیں مال سے نوازا؟۔ اس نے جواب دیا کہ مجھے تو یہ مال اپنے آباء و اجداد سے وراثت میں ملا ہے۔ خلاصہ یہ کہ اس نے اپنی اس خستہ حالی کا بالکل انکار کر دیا اور دعویٰ کیا کہ وہ تو اچھے حالات ہی میں پلا بڑھا ہے اور یہ اس کے لیے نئے نہیں ہیں۔ یہ نعمت کا انکار اور اس ذاتِ منعم کی ناشکری تھی جس پر اسے بخل نے آمادہ کیا۔ اس پر فرشتے نے کہا کہ اگر تم اپنے دعوے میں جھوٹے ہو تو اللہ تعالیٰ تمہیں تمہاری اسی حالت پر لوٹا دے جس پر تم پہلے تھے۔
آپ ﷺ نے فرمایا کہ پھر فرشتہ گنجے کے پاس اس کی اس شکل و ہیئت میں آیا جس سے لوگ نفرت کھاتے تھے اور اس کی خستہ حالی کی وجہ سے اسے حقارت کی نظر سے دیکھتے تھے۔ باجود اس کے کہ وہ اس کے پاس وہ اسی شکل و ہیئت میں آیا تھا جس پر وہ پہلی دفعہ آیا تھا اور جب اس کو صحت اور مال و دولت ملا تھا لیکن وہ اسے پہچاننے سے انکار کر بیٹھا اور اس سے انجان بن گیا اور یہ کہہ کر اس پر اظہار فخر بھی کیا کہ اسے تو یہ مال اس کے باپ کی طرف سے ملا ہے۔ اس نے اپنے جھوٹ کے ساتھ بہت سی دیگر بری باتوں کو بھی ملا لیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ گھٹیاپن اور حماقت میں ایسی انتہاء کو پہنچ چکا تھا جہاں تک کوئی دوسرا نہیں پہنچا تھا۔فرشتے نے اس سے بھی وہی کچھ کہا جو کوڑھی سے کہا تھا اور گنجے نے اسے وہی جواب دیا جو کوڑھی نے دیا تھا۔ اس پر فرشتے نے کہا کہ اگر تم جھوٹے ہو تو اللہ تعالیٰ تمہیں پھر سے گنجا اور فقیر کر دے۔
آپ ﷺ نے فرمایا کہ پھر وہ فرشتہ ایک اندھے آدمی کا روپ دھار کر پہلی والی ہیئت میں اس اندھے کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں ایک مسکین اور مسافر آدمی ہوں ۔ دورانِ سفر میرے تمام وسائل منقطع ہو چکے ہیں اور اب اللہ کے بعد تمہارے ہی ذریعے میں اپنی منزل مقصود تک پہنچ سکتا ہوں۔ میں اس ذات کا واسطہ دے کر تم سے ایک بکری مانگتا ہوں جس نے تمہیں تمہاری بینائی لوٹائی تاکہ اس سے میں اپنی ضروریاتِ سفر پوری کر سکوں۔ اس آدمی نے اپنے اوپر ہو نے والی اللہ کی نعمت اور بد حالی کے بعد ملنے والی اپنی خوشحالی کو یاد کر تے ہوئے کہا کہ میں اندھا تھا پھر اللہ تعالی نے میری بینائی واپس لوٹا دی۔ تم جتنا مال چاہو لے لو اور جتنا چاہو چھوڑ دو۔ اللہ کی قسم! آج تم جو کچھ بھی لو گے اس کے سلسلے میں میں تجھے بالکل بھی تنگ نہیں کروں گا۔ فرشتے نے کہا کہ اپنا مال اپنے پاس رکھو۔ تم لوگوں کو پرکھا گیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے جو تمام امور سے باخبر ہے تمہارا امتحان لیا تھا، تا کہ تمہارے عمل پر اس کا اثر مرتب ہو سکے کیونکہ عمل کی جزا اسی شے پر مرتب ہوتی ہے جو عالم شہود میں ظہور پذیر ہو نہ کہ اللہ کے پیشگی علم پر۔ اللہ تعالیٰ تجھ سے راضی ہوا اور تیرے دونوں ساتھیوں یعنی کوڑھی اور گنجے سے ناراض۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) tells the story of three men from the Children of Israel. They were poor and each had a physical defect: one was a leper with bad skin and abnormal skin color, the second was bald-headed with all or most of the hair on his head gone, and the third was blind. Allah, the Almighty, wanted to test their faith and gratitude so He sent to them an angel in the form of a man. The angel went to the leper first, for his condition was the most loathsome, repulsive, and serious. He asked him which thing he liked most. The leper said: good color and good skin and to be rid of what made people avoid me. He did not only ask for good color but wanted his leprosy to be gone completely, for with this disease one has very rough and wrinkled skin, which makes it uglier and makes him feel more ashamed of it. Then, the angel asked him which wealth he liked most. The leper said: camels or cows. The sub-narrator was uncertain if he had heard it 'camels' or 'cows'. However, it is most probable that it was 'camels,' for the text later mentions that the leper was given a she-camel that was ten-months pregnant. A gift like this was very precious. The angel prayed that Allah bless the she-camel for the leper. The prayer was answered, as shown later in the Hadīth. Then the angel went to the bald man and asked him what thing he liked most. The bald man said that he liked to have good hair and that his baldness be cured, for people detested him because of it. The angel wiped over his head or his whole body (the first is more likely), so the baldness was gone. The man was given good hair. The angel then asked him which wealth he liked most, and he said that it was cows. So, he was given a pregnant cow. The angel prayed that the cow be blessed for him. The prayer was answered, as shown later in the Hadīth. Then the angel went to the blind man and asked him which thing he liked most. The blind man said: it is that Allah would restore to me my eyesight. So, the angel passed his hand over the man's eyes or over his whole body (the first is more likely). So, Allah restored to the man his eyesight. Then the angel asked him which wealth he liked most, and he said that it was sheep. So he was given a ewe with a little lamb, or a pregnant ewe (as per another narration). The three men took care of their animal gifts, which produced many offspring. The first had a valley filled with camels, the second had a valley filled with cows, and the third had a valley filled with sheep. Later on, the angel came to the leper in his past image, wearing worn-out clothes. He told him that he was a poor man who ran out of provision in his travel, and that he could not reach his destination except with the help of Allah, then with the man's favor. The angel was implicitly referring to the man's wealth, as it was apparent that he was rich. He asked him by Allah who gave him a good color, fine skin, and wealth after his past miserable condition of poverty and illness, for a he-camel to ride in his travel. The leper said: I have many debts to settle, and I do not have anything extra to give you, so go ask someone else. The angel said: It seems to me that I know you. Were you not a leper whom people found detestable but Allah granted you recovery, and you were poor but Allah gave you wealth? The man said that he inherited his wealth from his father and grandfather. In other words, he denied his miserable past and claimed that he grew up in good conditions, which is absolute denial of Allah's favors upon Him and ungratefulness to Him, prompted by his miserliness. Thereupon, the angel prayed that if the man was lying that Allah restores him to his former condition. Then the angel went to the bald man in the image in which people used to detest him for. The bald man responded to the angel in the same way the leper had done. Although the angel went to him looking like him before recovery and wealth, and although he received such recovery and wealth at his hands, he denied knowing him and even boasted that he inherited the wealth from his father. So, in addition to being a liar, he reached an extent of wickedness and foolishness that others have not reached. Therefore, the angel prayed that if the man was lying that Allah restores him to his former condition. Then the angel went to the blind man in the form of a blind man. He told him that he was a poor man and a wayfarer who was on a journey and ran out of provision. He also told him that he could not reach his destination except with the help of Allah then with his help. He asked him by Allah Who restored to him his eyesight to give him one sheep as a provision for his journey. The man, aware of Allah's favor upon him and his transformation from misery to a good life, said: Indeed I was blind and Allah restored my eyesight. So, take from his sheep whatever you wish to take and leave whatever you wish to leave, and I will not ask you to return anything that you take. The angel told him: Keep your property. The three of you were being tested. Allah, the All-Knowing of all matters, was testing you so that you would be rewarded based on what you did, not based on His foreknowledge of your actions and fate. Verily, you have earned Allah's pleasure, while your companions; the leper and the bald man, have incurred His wrath.