کچھ لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ انہوں نے اس اس طرح کى باتیں کى ہیں؟ میں تو نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں،…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق عليه
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #6078Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 6078)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے کچھ صحابہ آپ کی بیویوں کے گھروں میں آئے۔ ان کا مقصد یہ جاننا تھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم گھر کے اندر کس طرح عبادت کرتے ہيں؟ جب ان کو آپ کی عبادت کے بارے میں بتایا گیا، تو گویا انھوں نے اسے کم سمجھا اور کہنے لگے: اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا مقام کہاں اور ہم کہاں؟ آپ کے تو اگلے اور پچھلے تمام گناہ بخش دیے گئے ہیں۔ اس کے برخلاف جسے معلوم نہ ہو کہ اسے بخشا جائے گا یا نہيں، اسے زیادہ سے زیادہ عبادت کی ضرورت ہے، تاکہ بخشش کا سامان ہو جائے۔ اس کے بعد ان میں سے کسی نے کہا کہ میں شادی نہیں کروں گا۔ کسی نے کہا کہ میں گوشت نہيں کھاؤں گا۔ جب کہ کسی نے کہا کہ میں بستر پر نہیں سوؤں گا۔ اس کی اطلاع جب اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو ملی، تو آپ نے ناراضگی ظاہر کی۔ لوگوں سے خطاب کیا۔ اللہ کی حمد و ثنا کی اور فرمایا: کچھ لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ اس اور اس طرح کی بات کر رہے ہیں؟ اللہ کی قسم، میں تمھارے درمیان اللہ کى خشیت سے سب سے زیادہ متصف اور اس کا سب سے زیادہ تقوى رکھنے والا انسان ہوں۔ لیکن اس کے باوجود میں سوتا ہوں، تاکہ پورے نشاط کے ساتھ تہجد کی نماز پڑھ سکوں، روزے کے بغیر رہتا ہوں، تاکہ روزے کی طاقت حاصل کر سکوں اور عورتوں سے شادی بھی کرتا ہوں۔ لہذا جس نے میرے طریقے سے منہ موڑا، کسی اور طریقے کو کامل طریقہ جانا اور میرے علاوہ کسى اور کى راہ کو اختیار کیا، وہ مجھ میں سے نہیں ہے۔
حدیث کے فوائد
- صحابہ رضی الله عنہم خیر کے کاموں سے محبت کرتے تھے، اس کی رغبت رکھتے تھے اور اپنے نبی صلى الله عليہ وسلم کى اقتدا کى چاہت ان کے اندر بھرى ہوئى تھى۔
- اسلامی شریعت ایک کشادہ اور آسان شریعت ہے۔ اس کی یہ خوبی اس کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے عمل اور طریقے سے ظاہر وباہر ہے۔
- خیر و برکت اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کى اقتدا اور اتباع میں پنہاں ہے۔
- اپنے نفس پر طاقت سے بڑھ کر عبادت کا بوجھ ڈالنے کی ممانعت اور یہ وضاحت کہ یہ اہل بدعت کی روش ہے۔
- ابن حجر کہتے ہيں: عبادت میں شدت پسند رویہ اکتاہٹ کا سبب بنتا ہے، جو عبادت سے کنارہ کشی کی جانب لے جاتی ہے۔ جب کہ فرائض پر اکتفا اور نوافل سے احتراز سستی اور عبادت میں عدم نشاط کا سبب بنتا ہے۔ بہتر راستہ اعتدال کا راستہ ہے۔
- اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے اکابر کے حالات، ان کے نقش قدم پر چلنے کے لیے، معلوم کیے جا سکتے ہيں۔ اگر مردوں سے معلوم کرنا دشوار ہو تو عورتوں سے بھی دریافت کیا جا سکتا ہے۔
- اس حدیث سے وعظ، علمی مسائل بیان کرنے، مکلفین کے آگے شرعی احکام بیان کرنے اور مجتہدین کے شبہات کو دور کرنے کی تعلیم ملتی ہے۔
- عبادت، بطور خاص فرائض ونوافل کی پابندی کے ساتھ اس میں میانہ روی اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے، تاکہ دوسروں کے حقوق بھی ادا کیے جا سکیں۔
- یہ حدیث نکاح کی فضیلت اور اس کی ترغیب پر دلالت کرتی ہے۔
Explanation
A group of the Companions (may Allah be pleased with them) came to the houses of the wives of the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) asking about his private acts of worship inside his home. When they were informed, it seemed as though they considered it little, so they said: Where are we in comparison to the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him)? His past and future sins have been forgiven, unlike those who do not know if they have attained forgiveness, so they need to exaggerate in worship in the hope of attaining it. Then some of them said: I will not marry women. Others said: I will not eat meat. Some others said: I will not sleep on a bed. When this reached the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him), he became angry and gave a sermon to the people. He praised Allah and commended Him and said: What is the matter with people who said such-and-such? By Allah, I am the most fearful of Allah among you and the most conscious of Him, but I sleep to strengthen myself for standing in prayer, I break my fast to strengthen myself for fasting, and I marry women. Whoever turns away from my way, sees perfection in something else, and follows a path other than that of mine does not belong to me.