اگر وہ میری ربیبہ نہ ہوتی (یعنی میری بیوی کی بیٹی نہ ہوتی) جب بھی میرے لیے حلال نہ ہوتی۔ وہ تو میری رضاعی…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
قال عروة: وثويبة مولاة لأبي لهب أعتقها، فأرضعت النبي صلى الله عليه وسلم ، فلما مات أبو لهب رآه بعض أهله بشرِّ حِيبة، فقال له: ماذا لقيت؟ قال أبو لهب: لم ألق بعدكم خيرًا، غير أني سقيت في هذه بعتاقتي ثويبة.
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق علیہ
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #6077Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 6077)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہا امہات المومنین رضی اللہ عنہن میں سے ہیں۔ وہ اس حوالے سے خوش قسمت اور نیک بخت تھیں کہ ان کی شادی رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہوئی تھی اور وہ اس سعادت کی سزاوار بھی تھیں۔ انہوں نے نبی ﷺ سے التماس کیا کہ آپ ﷺ ان کی بہن سے شادی کر لیں۔
نبی ﷺ کو اس پرحیرت ہوئی کہ انہوں نے کیسے اس بات کی اجازت دے دی کہ آپ ﷺ ان پر ایک سوکن کو بیاہ کر لے آئیں۔ کیوںکہ عورتیں تو اس معاملے میں بہت غیرت والی ہوتی ہیں۔ اسی وجہ سے آپ ﷺ نے تعجب بھرے انداز میں ان سے دریافت کیا کہ کیا تمہیں یہ پسند ہے؟ انہوں نے اثبات میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہاں مجھے پسند ہے۔
پھر ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے وہ سبب بیان کیا، جس کی وجہ سے انہیں یہ پسند تھا کہ آپ ﷺ کی شادی ان کی بہن سے ہو جائے۔ در اصل وہ جانتی تھی کہ آپ ﷺ کی ذات میں ان کے ساتھ عورتوں کا شریک رہنا ناگزیر ہے۔ وہ تنہا آپ ﷺ کی بیوی ہو نہیں سکتیں۔ تو پھر کیوں نہ اس خیر عظیم میں ان کی بہن ان کی شریک بن جائے؟
گویا انہیں اس بات کا علم نہیں تھا کہ دو بہنوں کا ایک شخص کے نکاح میں ایک ساتھ رہنا جائز نہیں ہے۔ اسی وجہ سے نبی ﷺ نے انہیں بتایا کہ ان کی بہن آپ ﷺ کے لیے حلال نہیں ہے۔
پھر انہوں نے نبی ﷺ کو بتایا کہ انہیں خبر پہنچی ہے کہ آپ ﷺ ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی سے شادی کر رہے ہیں!
آپ ﷺ نے اس افواہ کے جھوٹے پن کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ام سلمہ کی بیٹی سے نکاح دو وجوہات کی بنا پر ان کے لیے جائز نہیں ہے:
پہلی وجہ: یہ کہ وہ میری ربیبہ ہے۔ وہ میری پرورش میں ہے اور میں اس کے مصالح کا خیال رکھتا ہوں۔ وہ میری بیوی کی بیٹی ہے۔
دوسری وجہ: وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے۔ مجھے اور اس کے والد یعنی ابو سلمہ کو ثویبہ نے دودھ پلایا تھا، جو ابو لہب کی آزاد کردہ باندی تھیں۔ چنانچہ میں اس کا چچا بھی ہوتا ہوں۔ اس لیے تم مجھ پر اپنی بیٹیاں اور بہنیں نکاح کے لیے پیش نہ کیا کرو۔ اس طرح کے امور میں مجھے کیا کرنا ہے، اسے میں تم سے زیادہ بہتر جانتا ہوں۔
Explanation
Umm Habībah, the daughter of Abu Sufyān, is one of the Mothers of the Believers (may Allah be pleased with them all), and she was ecstatic about her marriage to the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him). So she asked the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) to marry her sister. The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) expressed wonder at her request, due to women’s extreme jealousy regarding the matter, as she would allow herself to have a co-wife. Hence, he asked her in astonishment: Would you like that? And she replied in the affirmative. Then, she explained to him the reason why she wanted him to marry her sister. It was inevitable that she would have to share him with other women and that she would not be his only wife, so she wanted her sister to be the one who would share this great goodness with her . It was as if she was not aware of the prohibition of being married to two sisters at the same time. That is why the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) informed her that her sister was not lawful for him. Then, she told him that she heard that he would marry the daughter of Abu Salamah. So to be sure, he asked her: Do you mean the daughter of Umm Salamah? She said: Yes. Then, in order to clarify the falsehood of this rumor, he told her that the daughter of Umm Salamah was not lawful for him for two reasons: First: she is his stepdaughter whom he has brought up, because she is his wife’s daughter. Second: she is his niece through suckling, because Thuwaybah, the ex-slave girl of Abu Lahab, had breastfed him and her father Abu Salamah. So, he is her paternal uncle as well. So, he instructed them not offer him their daughters or sisters in marriage, for he knows better how to manage his affairs in this regard.