”پہلے کے انبیا علیہم السلام کے کلام سے جو باتیں لوگوں نے حاصل کیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ جب تیرے اندر شرم و…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-BukhariOriginal wording: رواه البخاري
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #4559Sahih al-Bukhari (HadeethEnc 4559)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ پچھلے انبیا کی کی ہوئی جو وصیتیں لوگوں میں رائج رہی ہیں اور نسل در نسل منتقل ہوتی ہوئی اس امت کی پہلی نسل تک آئی ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ: جو کام تم کرنا چاہتے ہو، پہلے اسے دیکھ لو، کام اگر ایسا ہو کہ اسے کرنے میں حیا نہیں کی جاتی ہے، تو کر ڈالو۔ لیکن کام اگر ایسا ہو کہ اسے کرتے ہوئے حیا کی جاتی ہے، تو چھوڑ دو۔ کیوں کہ برے کاموں سے روکنے والی چيز حیا ہی ہے۔ جس کے اندر حیا نہ ہو، وہ ہر فحش اور غلط کام میں ملوث ہو جائے گا۔
حدیث کے فوائد
- حیا اچھے اخلاق کی اساس ہے۔
- حیا انبیا کے اوصاف میں سے ایک وصف اور انھیں سے منقول ہے۔
- حیا ایسی چيز ہے، جو ایک مسلمان کو ایسے کاموں پر آمادہ کرتی ہے، جو اس کی شخصیت کو خوب صورت بناتی اور ایسے کاموں سے دور رکھتی ہے جو اس کی شخصیت کو مجروح کرتے ہوں۔
- نووی کہتے ہيں : یہاں حکم اباحت پر محمول ہے۔ مطلب یہ ہےکہ جب تم کوئی کام کرنے کا ارادہ کرو، تو کام اگر ایسا ہو کہ اسے کرتے وقت اللہ اور لوگوں سے حیا نہ آتی ہو، تو کر ڈالو۔ لیکن اگر حیا آتی ہو، تو مت کرو۔ اسی پر اسلام کا دار و مدار ہے۔ اسے اس طرح سمجھیں کہ جن واجب اور مستحب کاموں کا حکم ہو، انھیں چھوڑنے میں حیا کی جاتی ہے اور جن حرام اور مکروہ چیزوں سے منع کیا گیا ہو، انھیں کرنے میں حیا کی جاتی ہے۔ جب کہ مباح کام کو کرنے میں حیا کرنا بھی جائز ہے اور چھوڑنے میں حیا کرنا بھی جائز ہے۔ اس طرح اس حدیث کے دائرے میں پانچوں احکام آ گئے۔ جب کہ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس حدیث میں دیا گیا حکم تہدید آمیز ہے اور اس کے معنی یہ ہیں کہ جب تم سے حیا کی دولت چھن جائے، تو جو جی میں آئے کرو، اللہ تم کو ضرور اس پر سزا دے گا۔ کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہاں حکم خبر کے معنی میں ہے۔ یعنی جسے حیا مانع نہ ہو، وہ جو چاہتا ہے، کرتا پھرتا ہے۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) informed that among the teachings of the early prophets that were circulated among people and passed from one generation to another until reaching the early generation of this Ummah: Consider what you want to do and do it if it is not something to feel ashamed of; but leave it if it is something you feel ashamed of. Modesty prevents committing villainous deeds, and one who has no share of modesty will indulge in all types of immoral and evil deeds.