تم اہلِ کتاب کی ایک قوم کے پاس جارہے ہو۔ تم انہیں سب سے پہلے اس بات کی طرف دعوت دینا کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق عليه
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #3390Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 3390)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
جب اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو داعی اور معلم کی حیثیت سے یمن کی جانب بھیجا، تو ان سے کہا کہ ان کو ایک عیسائی قوم کا سامنا کرنا ہے، تاکہ وہ اس کے لیے تیار رہيں اور اس کے بعد بتایا کہ ان کو دعوت کے کام کا آغاز کرتے وقت اہم ترین سے اہم کی طرف رخ کرنے کے قاعدے کا دھیان رکھنا چاہیے۔ چنانچہ سب سے پہلے عقیدے کی اصلاح کی دعوت دینی چاہیے یعنی اس بات کی گواہی کہ اللہ کے علاوہ کوئی سچا معبود نہيں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے رسول ہیں۔ اسی گواہی کے ذریعے وہ اسلام میں داخل ہو سکتے ہیں۔ جب وہ یہ گواہی دے دیں، تو ان کو نماز قائم کرنے کا حکم دیں، کیوں کہ نماز توحید کے بعد سب سے بڑا فریضہ ہے۔ جب نماز قائم کر لیں، تو اس قوم کے مال داروں کو حکم دیں کہ اپنے فقیروں کو اپنے اموال کی زکاۃ دیں۔ اس کے بعد ان کو افضل ترین مال لینے سے منع کیا، کیوں کہ (زکاۃ میں) درمیانے قسم کا مال لینا ہی واجب ہوتا ہے۔ پھر ان کو ظلم سے بچنے کی وصیت کی، تاکہ مظلوم کی بد دعا کا شکار نہ ہونا پڑے، کیوں کہ مظلوم کی بد دعا قبولیت سے سرفراز ہو جاتی ہے۔
حدیث کے فوائد
- اللہ کے علاوہ کسی کے سچے معبود نہ ہونے کی گواہی دینے کے معنی ہیں: ہر قسم کی عبادت کو صرف اللہ کے لیے خاص کرنا اور اس کے علاوہ دوسروں کی عبادت کو مکمل چھوڑ دینا۔
- محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے اللہ کے رسول ہونے کی گواہی دینے کے معنی ہیں، ان پر اور ان کے لائے ہوئے پیغام پر ایمان لانا، ان کی تصدیق کرنا اور اس بات کو ماننا کہ وہ انسانوں کی جانب بھیجے جانے والے آخری رسول ہیں۔
- علم رکھنے والے اور شبہات کے شکار شخص کو دعوت دینا جاہل کو دعوت دینے کی طرح نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے معاذ رضی اللہ عنہ کو تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا : "تم اہل کتاب کی ایک قوم کے پاس جا رہے ہو۔"
- اس بات کی اہمیت کہ ایک مسلمان کو اپنے دین کے سلسلے میں بصیرت کا حامل ہونا چاہیے، تاکہ شبہات پیدا کرنے والوں کے شبہات سے بچ سکے۔ اس کے لیے علم طلب کرنا ضروری ہے۔
- اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی بعثت کے بعد یہودیوں اور عیسائیوں کا دین باطل ہو گیا اور اپنے دین پر قائم رہتے ہوئے ان کو قیامت کے دن نجات نہیں مل سکتی۔ نجات پانے کے لیے اسلام میں داخل ہونا اور آخری نبی محمد صلی اللہ علیہ و سلم پر ایمان لانا ضروری ہے۔
Explanation
When the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) sent Mu‘ādh ibn Jabal (may Allah be pleased with him) to Yemen to call its people to Allah and teach them, he clarified to him that he would meet Christian people and that he should first call them to what is more important and then to what is less important, and so on. He should first call them to reform their creed by testifying that none is worthy of worship except Allah and that Muhammad is the Messenger of Allah. This is because they enter Islam with this testimony. If they complied with that, he should then enjoin them to establish the prayer, for it is the most important obligation after the testimony of Tawhīd (monotheistic belief). If they established the prayer, he should then order the rich amongst them to pay Zakah on their property to the poor amongst them. Thereafter, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) warned him not to take their best property; instead, it is required to adopt a moderate approach in this regard. Then, he (may Allah's peace and blessings be upon him) instructed him to avoid oppression, lest an oppressed person might supplicate to Allah against him, as his supplication is readily answered.