وہاں پہنچ کر ہم نے کہا : آپ ہمارے سید ہیں۔ لہذا آپ نے کہا : “سید تو اللہ ہے۔” ہم نے عرض کیا : آپ ﷺہم میں سب…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- سنن ابو داؤدSunan Abi Dawudمسند احمدMusnad AhmadOriginal wording: رواه أبو داود وأحمد
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #3389Sunan Abi Dawud & Musnad Ahmad (HadeethEnc 3389)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس کچھ لوگ پہنچے۔ پہنچنے کے بعد انھوں نے آپ کی تعریف میں کچھ باتیں کہیں، جو آپ کو پسند نہيں آئیں۔ انھوں نے کہا : "آپ ہمارے سید ہیں"۔ چنانچہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ان سے کہا: "سید تو اللہ ہے"۔ اسی کے پاس مخلوقات کی مکمل سرداری ہے۔ سب اس کے غلام ہیں۔ اس کے بعد انھوں نے کہا : "آپ ہم میں سب سے فضیلت والے" یعنی سب سے اونچے مرتبے، شرف و منزلت اور امتیازی شان والے ہیں۔ "اور آپ ہم میں سب سے صاحب جود و سخا" یعنی داد و دہش کرنے والے اور اونچی شان کے حامل ہيں۔ اس کے بعد اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ہدایت کی کہ آپ کو سادہ الفاظ میں مخاطب کریں اور بھاری بھرکم الفاظ تلاش نہ کریں۔ ایسا نہ ہو کہ شیطان انہیں مبالغہ آرائی کی راہ پر لے جائے، جو شرک اور اس کے اسباب کی طرف لے جاتا ہے۔
حدیث کے فوائد
- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ کے دل میں آپ کا احترام۔
- الفاظ کے انتخاب میں تکلف سے کام لینے کی ممانعت اور گفتگو میں میانہ روی کا حکم۔
- توحید کو ایسے اقوال و افعال سے محفوظ رکھنا، جو اس میں خلل انداز ہوتے ہيں۔
- تعریف میں غلو سے کام لینے کی ممانعت۔ کیوں کہ یہ شیطان کا چور دروازہ ہے۔
- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اولاد آدم کے سردار ہيں۔ اس حدیث میں جو بات کہی گئی ہے، وہ تواضع کے طور پر اور اس خوف سے کہی گئی ہے کہ لوگ آپ کے بارے میں غلو نہ کرنے لگيں۔
Explanation
A group of people came to the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) and on reaching him, they said – praising him – some words that he (may Allah's peace and blessings be upon him) disliked. They said: "You are our master." But the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said to them: "The Master is Allah," Who possesses full sovereignty over His creation and they are His slaves. They also said: You are "the best of us in superiority" and the highest among us in rank, honor, and in merit. And you are "the greatest among us in bounteousness" and the most giving, the loftiest, and the most prestigious among us. The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) then advised them to say what they would typically say without affectation and not to be dragged by the devil to exaggeration and flattery that lead to committing what is prohibited of Shirk (polytheism) and its means.