سنن ابو داؤد · مسند احمد
Sunan Abi Dawud · Musnad Ahmad

وہاں پہنچ کر ہم نے کہا : آپ ہمارے سید ہیں۔ لہذا آپ نے کہا : “سید تو اللہ ہے۔” ہم نے عرض کیا : آپ ﷺہم میں سب…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
3389Sahih صحیح
عَن عَبدِ الله بنِ الشِّخِّير رضي الله عنه قَالَ: انْطَلَقْتُ في وَفدِ بَنِي عَامِرٍ إِلى رَسُولِ الله صلى الله عليه وسلم، فَقُلنا: أَنتَ سيّدُنَا، فقال: «السَّيدُ اللهُ»، قُلنا: وَأَفْضَلُنا فَضْلاً، وأعظَمُنا طَوْلاً، فقال: «قُولُوا بِقَولِكُم، أَو بَعضِ قولِكُم، وَلَا يَسْتَجْرِيَنَّكُم الشَّيطَانُ».
عبد اللہ بن شخیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں : میں بنی عامر کے ایک وفد کے ساتھ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ وہاں پہنچ کر ہم نے کہا : آپ ہمارے سید ہیں۔ لہذا آپ نے کہا : "سید تو اللہ ہے۔" ہم نے عرض کیا : آپ ﷺہم میں سب سے فضیلت والے اور صاحب جود و سخا ہیں۔ تو آپ ﷺنے فرمایا: ” تم اس طرح کی بات یا اس طرح کی کچھ بات کہہ سکتے ہو۔ مگر کہیں شیطان تمھیں اپنا وکیل نہ بنا لے ( کہ کوئی ایسی بات کہہ گزرو، جو میری شان کے مطابق نہ ہو)۔"
— HadeethEnc اردو ترجمہ
‘Abdullah ibn ash-Shikhkhīr (may Allah be pleased with him) reported: I set out with the delegation of Banu ‘Āmir to meet the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him). We said: You are our master. He said: "The Master is Allah." We said: And the best of us in superiority and the greatest among us in bounty. He said: "Say what you have to say, or part of what you have to say, but do not let the devil deviate you (in praising me)."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
سنن ابو داؤدSunan Abi Dawudمسند احمدMusnad Ahmad
Original wording: رواه أبو داود وأحمد
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #3389

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس کچھ لوگ پہنچے۔ پہنچنے کے بعد انھوں نے آپ کی تعریف میں کچھ باتیں کہیں، جو آپ کو پسند نہيں آئیں۔ انھوں نے کہا : "آپ ہمارے سید ہیں"۔ چنانچہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ان سے کہا: "سید تو اللہ ہے"۔ اسی کے پاس مخلوقات کی مکمل سرداری ہے۔ سب اس کے غلام ہیں۔ اس کے بعد انھوں نے کہا : "آپ ہم میں سب سے فضیلت والے" یعنی سب سے اونچے مرتبے، شرف و منزلت اور امتیازی شان والے ہیں۔ "اور آپ ہم میں سب سے صاحب جود و سخا" یعنی داد و دہش کرنے والے اور اونچی شان کے حامل ہيں۔ اس کے بعد اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ہدایت کی کہ آپ کو سادہ الفاظ میں مخاطب کریں اور بھاری بھرکم الفاظ تلاش نہ کریں۔ ایسا نہ ہو کہ شیطان انہیں مبالغہ آرائی کی راہ پر لے جائے، جو شرک اور اس کے اسباب کی طرف لے جاتا ہے۔

حدیث کے فوائد

  • اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ کے دل میں آپ کا احترام۔
  • الفاظ کے انتخاب میں تکلف سے کام لینے کی ممانعت اور گفتگو میں میانہ روی کا حکم۔
  • توحید کو ایسے اقوال و افعال سے محفوظ رکھنا، جو اس میں خلل انداز ہوتے ہيں۔
  • تعریف میں غلو سے کام لینے کی ممانعت۔ کیوں کہ یہ شیطان کا چور دروازہ ہے۔
  • اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اولاد آدم کے سردار ہيں۔ اس حدیث میں جو بات کہی گئی ہے، وہ تواضع کے طور پر اور اس خوف سے کہی گئی ہے کہ لوگ آپ کے بارے میں غلو نہ کرنے لگيں۔

Explanation

A group of people came to the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) and on reaching him, they said – praising him – some words that he (may Allah's peace and blessings be upon him) disliked. They said: "You are our master." But the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said to them: "The Master is Allah," Who possesses full sovereignty over His creation and they are His slaves. They also said: You are "the best of us in superiority" and the highest among us in rank, honor, and in merit. And you are "the greatest among us in bounteousness" and the most giving, the loftiest, and the most prestigious among us. The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) then advised them to say what they would typically say without affectation and not to be dragged by the devil to exaggeration and flattery that lead to committing what is prohibited of Shirk (polytheism) and its means.

Topics موضوعات