اے اللہ! میرے گناہ، میری نادانی، میرے تمام کاموں میں میرے حد سے تجاوز کرنے کو اور ہر اس بات کو، جسے تو مجھ سے…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق عليه
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #5483Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 5483)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی ایک جامع ترین دعا یہ ہے :
"رب اغفر لي خطيئتي" اے اللہ! میرے گناہوں کى مغفرت فرما۔ "وجهلي" انجانے میں ہونے والی کوتاہیاں کى بھی مغفرت فرما۔
"وإسرافي في أمري كله" اپنے تمام کاموں میں رہ جانے والی کوتاہیاں اور حد سے گزرنے کی کیفیتوں کى بھی مغفرت فرما۔
"وما أنت أعلم به مني" ان گناہوں کى بھی مغفرت فرما، جن کو تو جانتا ہے اور میں بھول چکا ہوں۔
"اللهم اغفر لي خطاياي وعمدي" ان گناہوں کى بھی مغفرت فرما، جن کو میں نے جان بوجھ کر کیا ہے۔
وہ گناہ بھی، جن کو میں نے سنجیدگی کے ساتھ اور مذاق مذاق میں کیا ہے۔
"وكل ذلك عندي" مجھے پتہ ہے کہ اس طرح کے سارے گناہ میں نے کیے ہیں۔
"اللهم اغفر لي ما قدمت" اے اللہ! میرے پچھلے گناہوں کى مغفرت کردے۔ "وما أخرت" آنے والے وقت میں ہونے والے گناہوں کى بھی مغفرت معاف کر دے۔
"وما أسررت" جن گناہوں کو رازداری کے ساتھ کیے ہيں، ان کى بھی مغفرت کردے۔ "وما أعلنت" جو گناہ علانیہ کیے ہيں، ان کى مغفرت کردے۔
تو اپنی جس مخلوق کو چاہتا ہے، اپنی پسندیدہ چیزوں کی توفیق دے کر اپنی رحمت کی جانب آگے بڑھا دیتا ہے اور جس مخلوق کو چاہتا ہے، اکیلا چھوڑ کر اس سے پیچھے رکھ دیتا ہے۔ جسے تو پیچھے کر دے، اسے کوئی آگے بڑھا نہيں سکتا اور جسے تو آگے بڑھا دے، اسے کوئی پیچھے کر نہیں سکتا۔
"وأنت على كل شيء قدير" تو کامل قدرت والا، مکمل ارادے والا اور جو چاہے کرنے والا ہے۔
حدیث کے فوائد
- اس دعا کی فضیلت وارد ہوئی ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا کرتے ہوئے اس دعا کا اہتمام کرنا چاہیے۔
- حد سے تجاوز کرنے سے منع کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ حد سے تجاوز کرنے والا سزا سے دوچار ہوسکتا ہے۔
- اللہ تعالی انسان کے بارے میں خود اس سے بھی زیادہ جانتا ہے۔ اس لیے انسان کو چاہیے کہ اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کردے، کیوں کہ انسان سے نادانی میں غلطی بھی ہوسکتی ہے۔
- جس طرح انسان سے سنجیدگی سے ہونے والے گناہوں کا مؤاخذہ ہوگا، اسی طرح اس سے مذاق مذاق میں ہونے والے گناہ کا بھی محاسبہ ہو سکتا ہے۔ اس لیے انسان کو ہنسی مذاق میں بھی محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔
- ابن حجر عسقلانی کہتے ہيں : میں نے اس کے کسی بھی طریق میں اس دعا کا محل نہیں دیکھا ہے۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی روایت کے بیش تر طرق کے آخر میں آیا ہے کہ آپ اسے رات کی نماز میں پڑھا کرتے تھے۔ یہ بھی آیا ہے کہ آپ اسے نماز کے آخر میں پڑھا کرتے تھے۔ روایتوں میں اس سلسلے میں اختلاف ہے کہ آپ اسے سلام سے پہلے پڑھا کرتے تھے یا سلام کے بعد۔
- کیا اللہ کے نبی صلی اللہ مغفرت طلب کرنے کے لیے خطا کرتے تھے؟ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ: یہ بات آپ نے تواضع اور خاک ساری کی بنیاد پر کہی ہے۔ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ آپ نے فوت کمال اور ترک اولی کو گناہ شمار کر لیا۔ ایسا بھی ہو سکتا ہے اس سے مراد ایسى چیزوں کو لیا ہو جو بھول کى بنیاد پر ہوئى ہوں یا اس سے آپ نے نبوت سے پہلے کے سرزد گناہ کو لیا ہو۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ: مغفرت طلب کرنا ایک عبادت ہے، جسے کرنا واجب ہے۔ مغفرت طلب اس لیے نہيں کی جاتی کہ مغفرت کی ہی جائے۔ جب کہ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ: یہ تنبیہ کرنے اور تعلیم دینے کا ایک طریقہ ہے کہ تاکہ لوگ بے فکر ہوکر استغفار کو ترک نہ کردیں۔
Explanation
The following is among the comprehensive supplications of the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him):
"O Lord, forgive me my sin" and my misdeed, and "my ignorant sins" and what I committed unknowingly.
"My excess in all of my affairs", my negligence, and my transgression.
"And whatever You are better aware of than me," You know it, O Allah, whereas I forgot it.
"O Allah, forgive me my sins, my deliberate sins," and the sins I committed deliberately and knowingly.
"My seriousness, my humor," and what was done by way of joking and what I committed in both cases.
"And all this I have committed," as it collected the mentioned sins and defects.
"O Allah, forgive what I have done" in the past "and what I have left undone" in the future.
"What I have committed secretly" and stealthily, "and what I have committed openly" and publicly.
"You are the Advancer and You are the Delayer." You make whomever You will of Your creation proceed to Your mercy through Your guidance to what pleases You, and You delay whomever You will from this through forsaking him. None can bring forward what You have delayed, and none can delay what You have put forward.
"And You have absolute power over everything", possessing the absolute ability and the perfect will, You do whatever You will.