اے اللہ! میرے لیے میرے دین کو درست کردے، جو میرے حالات کے تحفظ کا ضامن ہے
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: رواه مسلم
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #5482Sahih Muslim (HadeethEnc 5482)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک ایسی دعا فرمائی، جس میں تمام بنیادی مکارم اخلاق کو جمع کر دیا، جن کے اتمام کے لیے آپ کو مبعوث کیا گيا تھا۔ یہ مکارم اخلاق ہیں؛ دین، دنیا اور آخرت کی درستگی۔ آپ نے مختصر الفاظ میں تینوں چیزوں کی درستگی کی دعا مانگنے کا طریقہ سکھا دیا۔ اس میں بھی آغاز دین کی درستگی سے کیا، کیوں کہ اسی سے دونوں جہانوں کی درستگی اور فلاح وابستہ ہے۔ فرمایا :
"اللهم أصلح لي ديني"۔ یعنی اے اللہ! میرے لیے میرے دین کو درست کر دے، بایں طور کہ اس کے آداب کو پورے طور پر بجا لانے کی توفیق دے۔
"الذي هو عصمة أمري"۔ جس سے میرے تمام امور کی حفاظت وابستہ ہے۔ میرا دین بگڑ گیا، تو میرے سارے امور بگڑ جائيں گے اور میری نیا ڈوب جائے گی۔ ساتھ ہی یہ کہ مطلوبہ طور پر دین کی درستگی بھی دنیا کی درستگی کے بغیر انجام پذیر نہیں ہو سکتی، اس لیے آپ نے فرمایا:
"وأصلح لي دنياي۔" میرے لیے میری دنیا کو درست کر دے، بایں طور کہ مجھے صحت و تندرستی، امن، روزی، نیک بیوی، صالح اولاد اور ضرورت کی چیزیں عطا کر۔ یہ ساری چیزیں حلال ہوں اور ان سے تیری عبادت میں مدد ملے۔ پھر دنیا کی درستگی کی دعا مانگنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرمایا :
"التي فيها معاشي۔" جس میں مجھے جینا ہے اور زندگی گزارنی ہے۔
"وأصلح لي آخرتي التي فيها معادي"۔ میرے لیے میری آخرت کو درست کر دے، جہاں لوٹ کر مجھے جانا ہے اور تجھ سے ملنا ہے۔ لیکن یہ اسی وقت ہو پائے گا، جب اعمال اچھے ہوں اور اللہ کی جانب سے بندے کو عبادت، اخلاص اور حسن خاتمہ کی توفیق ملے۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے آخرت کے بعد دنیا کا ذکر اس لیے کیا کہ دنیا کی درستگی آخرت کی درستگی کا زینہ ہے۔ جس نے دنیا کی زندگی اللہ کی مرضی کے مطابق گزار لی، اس کی آخرت سنور گئی۔
"واجعل الحياة زيادة لي في كل خير"۔ دنیا کی زندگی کو میرے لیے ہر خیر میں اضافے کا باعث بنا کہ میں اس میں زیادہ سے زیادہ نیکی کے کام کر سکوں۔ "واجعل الموت راحة لي من كل شرٍّ"۔ موت اور اس میں جلدی کو میرے لیے ہر برائی یعنی فتنہ، آزمائش، معصیت اور غفلت سے راحت، حصول آرام اور دنیا اور اس کی الجھنوں سے چھٹکارے کا سبب بنا۔
حدیث کے فوائد
- دین سب سے اہم چيز ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اسی سے دعا کا آغاز کیا۔
- دین انسان کے تحفظ کا ضامن ہے۔ اسے ہر برائی سے روکتا ہے۔
- دین اور آخرت کی درستگی کے لیے دنیوی چیزوں کی دعا کی جا سکتی ہے۔
- دین کے فتنے کے ڈر سے موت کی تمنا کرنا یا اللہ سے شہادت کی موت مانگنا ناپسندیدہ امر نہيں ہے۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) invoked Allah with a supplication in which he combined the principles of the noble morals that he was sent to perfect, namely the soundness of the religion, the worldly life, and the Hereafter. With such brief wording, he sought the soundness of these three comprehensive meanings. He started with the soundness of the religion that guarantees the soundness of the conditions of both abodes, as he said:
(O Allah, set right for me my religion) by guiding me to fulfill its manners most perfectly and completely.
(That is the safeguard of my affairs) and the protector of all my matters. If my religion is corrupted, my affairs will be corrupted, and I shall fail and lose. Given that the required soundness of the religion cannot be fulfilled except through the soundness of this worldly life, he said:
(And set right for me my world) by granting me physical health, security, sustenance, a righteous wife, a virtuous offspring, and whatever I need, making it lawful and support for obeying You. Then he mentioned the reason behind asking Him to set it right, saying:
(Wherein my living is), my residence, and my lifetime.
(And set right for me my Hereafter, wherein my return is) to meet You, and this could be attained through righteous deeds and Allah's guidance of His slave to worship, sincerity, and a good end.
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) mentioned the Hereafter after the world, since the first is the means of reforming the second. In other words, whoever remains upright in his worldly life in compliance with Allah's wish, his Hereafter will be set right for him, and he will be happy therein.
(And make life) and longevity (an increase for me in every good) to increase my righteous deeds; (and make death) and hastening it (a relief for me from every evil), trial, adversity, and affliction caused by sins and negligence, a release from worldly hardships and sorrows, and attainment of comfort.