صحیح مسلم
Sahih Muslim

اے اللہ! میں تیری نعمت کے زائل ہونے سے، تیری دی ہوئی عافیت کے پھر جانے سے، تیرى ناگہانی گرفت سے، اور تیری ہر…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
5488Sahih صحیح
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رضي الله عنهما قَالَ: كَانَ مِنْ دُعَاءِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ زَوَالِ نِعْمَتِكَ، وَتَحَوُّلِ عَافِيَتِكَ، وَفُجَاءَةِ نِقْمَتِكَ، وَجَمِيعِ سَخَطِكَ».
عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جو دعائيں کیا کرتے تھے، ان میں سے ایک یہ ہے: "اے اللہ! میں تیری نعمت کے زائل ہونے سے، تیری دی ہوئی عافیت کے پھر جانے سے، تیرى ناگہانی گرفت سے، اور تیری ہر قسم کی ناراضگی سے تيری پناہ مانگتا ہوں۔"
— HadeethEnc اردو ترجمہ
‘Abdullah ibn ‘Umar (may Allah be pleased with him and his father) reported: The Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) used to supplicate, saying: "O Allah, I seek refuge with You from the removal of Your favor, the change of Your well-being, the suddenness of Your calamity, and all of Your wrath."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: رواه مسلم
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #5488

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے چار چيزوں سے پناہ مانگی ہے :

پہلی : "اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ زَوَالِ نِعْمَتِكَ۔" یعنی اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں تیری دینی اور دنیوی نعمت کے زائل ہونے سے۔ تجھ سے دعا ہے کہ میں اسلام پر ثابت قدم رہوں اور ایسے گناہوں میں ملوث ہونے سے دور رہوں، جو نعمتوں کو زائل کر دیتے ہيں۔

دوسری : "وَتَحَوُّلِ عَافِيَتِكَ"۔ اور اس بات سے کہ تیری جانب سے ملی ہوئی عافیت ابتلا و آزمائش میں بدل جائے۔ دعا ہے کہ مجھے دائمی عافیت اور دکھوں اور بیماریوں سے سلامتی عطا فرما۔

تیسری : "وَفُجَاءَةِ نِقْمَتِكَ۔" اس بات سے کہ اچانک تیری بلا یا مصیبت آن پڑے۔ کیوں کہ مصیبت اور سزا جب اچانک آن پڑتی ہے، تو انسان کو توبہ اور اپنی اصلاح کا موقع نہيں مل پاتا۔ لہذا مصیبت زیادہ بڑی اور زیادہ سخت ہو جاتی ہے۔

چوتھی : "وَجَمِيعِ سَخَطِكَ"۔ تیری ناراضگی کا سبب بننے والی تمام چيزوں سے۔ کیوں کہ جس سے تو ناراض ہوگیا، اس کی قسمت پھوٹ گئی۔

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے لفظ "جمیع" کا استعمال اس لیے کیا ہے، تاکہ اس کی ناراضگی کا سبب بننے والے تمام اقوال، اعمال اور اعتقادات شامل ہو جائيں۔

حدیث کے فوائد

  • نبی صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے محتاج تھے۔
  • یہ مبارک استعاذہ، اللہ کی نعمتوں کے شکر اور گناہوں میں پڑنے سے حفاظت پر مشتمل ہے، کیوں کہ گناہوں سے نعمتیں چھن جاتی ہیں۔
  • اللہ کی ناراضگی کی جگہوں سے دور رہنے کا اہتمام۔
  • اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اچانک مصیبت آن پڑنے سے اللہ کی پناہ مانگی ہے۔ کیوں کہ اللہ جب کسی بندے سے انتقام لینا چاہتا ہے، تو اس پر ایسی مصیبت ڈال دیتا ہے، جسے وہ اکیلے تو کجا ساری مخلوقات مل کر بھی ہٹا نہیں سکتیں۔
  • اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اللہ کی دی ہوئی عافیت کے پلٹ جانے سے اللہ کی پناہ مانگی ہے۔ کیوں کہ اللہ کی عافیت نصیب ہو جانے کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے پاس دونوں جہانوں کی خیر موجود ہے اور اس کے پھر جانے کا مطلب یہ ہے کہ اس کے سامنے دونوں جہانوں کا شر باہیں پھیلائے کھڑا ہے۔ دراصل عافیت ہی سے دین و دنیا کی درستگی ہے۔

Explanation

The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) sought refuge from four things:

First: (O Allah, I seek refuge with You from the removal of Your favor), the religious and the worldly, and to remain steadfast on Islam and keep away from falling into sins that eliminate blessings.

Second: (The change of Your well-being) by replacing it with misfortune. So, I ask You to grant me continuous well-being and freedom from agonies and diseases.

Third: (The suddenness of Your calamity) in the form of misfortune or affliction, as when affliction and punishment come all of a sudden and unexpectedly, there is no time for repentance and making amends, and this makes the adversity graver and more intense.

Fourth: (And all of Your wrath) and the causes that incur Your wrath, as the one whom You are displeased with is, indeed, doomed and ruined.

The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) used the word "all" to include all the causes; words, deeds, and beliefs that lead to His wrath.

Topics موضوعات