صحیح بخاری · صحیح مسلم
Sahih al-Bukhari · Sahih Muslim

جب میرا بندہ کسی برائی کے ارتکاب کا ارادہ کرے تو اسے اس وقت تک نہ لکھو جب تک کہ وہ اس کا ارتکاب نہ کر لے۔ اگر…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
8314Sahih صحیح
عن أبي هريرة رضي الله عنه مرفوعاً: «يقول اللهُ: إذا أراد عبدي أنْ يعملَ سيئةً، فلا تكتبوها عليه حتى يعملَها، فإنْ عَمِلها فاكتبوها بمثلِها، وإنْ تركها مِن أجلي فاكتبوها له حسنةً، وإذا أراد أنْ يعملَ حسنةً فلم يعملها فاكتبوها له حسنةً، فإنْ عملها فاكتبوها له بعشر أمثالها إلى سبعِ مائة ضِعْفٍ».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالی فرماتا ہے: جب میرا بندہ کسی برائی کے ارتکاب کا ارادہ کرے تو اسے اس وقت تک نہ لکھو جب تک کہ وہ اس کا ارتکاب نہ کر لے۔ اگر وہ اسے کر لے تو اسے ایک ہی برائی لکھو اور اگر وہ اسے میری وجہ سے چھوڑ دے تو اسے اس کے لیے ایک نیکی لکھ دو۔ اور اگر وہ کوئی نیکی کرنے کا ارادہ کرے لیکن اسے کر نہ سکے تو اسے اس کے لیے ایک نیکی لکھ دو۔ اگر وہ اسے کر لے تو پھر اسے اس کے لیے دس سے سات سو گنا تک نیکیاں لکھ دو“۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) reported that the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said: “Allah says: 'If My slave intends to do an evil deed, do not write it down until he does it. If he does it, then write it as it is. If he does not do it for My Sake, then write it as a good deed for him. If he intends to do a good deed, but does not do it, then write it as a good deed for him (in reward). If he does it, then write it for him ten times up to seven hundred times (in reward).’”
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: متفق علیہ
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #8314

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

اللہ تعالی کا یہ ارشاد ان فرشتوں سے ہے جو انسان کے اعمال کو محفوظ کرنے اور ان کے لکھنے پر متعین ہیں۔ اس میں انسان پر اللہ کے فضل اور اللہ کی طرف سے اس سے درگزر کرنے کی دلیل ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان: ”جب میرا بندہ کوئی برائی کرنے کا ارادہ کرے تو اسے اس وقت تک نہ لکھو جب تک کہ وہ اس کا ارتکاب نہ کر لے۔“ عمل سے کبھی دل اور اعضاء کاعمل مراد ہوتا ہے اور یہی معنی راجح ہے۔ کیونکہ ا س بات کی دلیل موجود ہے کہ دل کے عمل پر مواخذہ ہو گا اور اس پر انسان کو جزا ملے گی۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَمَن يُرِدْ فِيهِ بِإِلْحَادٍ بِظُلْمٍ نُذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ﴾ ”جو بھی ظلم کے ساتھ وہاں الحاد کا اراده کرے ہم اسے درد ناک عذاب چکھائیں گے“۔ اور صحیح حدیث میں آیا ہے: ”جب دو مسلمان اپنی تلواروں کے ساتھ (لڑنے کے لئے) ایک دوسرے کے آمنے سامنے آئیں تو قاتل و مقتول دونوں جہنم میں ہیں“۔ لوگوں نے یہ دریافت کیا کہ يہ تو قاتل ہے، ليكن مقتول کا کیا قصور ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ بھی اپنے بھائی کو قتل کرنا چاہتا تھا۔“ ان نصوص کے ذریعہ اللہ تعالی کے اس قول کے عموم کی تخصیص کرنا درست ہے: ”جب وہ کسی برائی کا ارادہ کرے تو اسے اس وقت تک نہ لکھو جب تک کہ وہ اس کا ارتکاب نہ کر لے۔“ یہ تخصیص برائی کے بارے میں اللہ کے اس قول کے مخالف نہیں کہ ”اسے اس کے کھاتے میں نہ لکھو۔“ کیونکہ دل کا پکا اور مصمم ارادہ کر لینا ایک عمل ہے۔
اللہ تعالی نے فرمایا: ”اگر وہ اسے کر لے تو اسے اسی کے مثل لکھو“۔ یعنی ایک برائی (لکھو)۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے: ﴿مَن جَاء بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا وَمَن جَاء بِالسَّيِّئَةِ فَلاَ يُجْزَى إِلاَّ مِثْلَهَا وَهُمْ لاَ يُظْلَمُونَ﴾ ”جو شخص نیک کام کرے گا اس کو اس کے دس گنا ملیں گے اور جو شخص برا کام کرے گا اس کو اس کے برابر ہی سزا ملے گی اور ان لوگوں پر ظلم نہ ہوگا“۔ اور فرمایا: ﴿مَنْ عَمِلَ سَيِّئَةً فَلا يُجْزَى إِلاَّ مِثْلَهَا وَمَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُوْلَئِكَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ يُرْزَقُونَ فِيهَا بِغَيْرِ حِسَابٍ﴾ ”جس نے گناه کیا ہے اسے تو برابر برابر کا بدلہ ديا جائے گا اور جس نے نیکی کی ہے خواه وه مرد ہو یا عورت اور وه ایمان والا ہو تو یہ لوگ جنت میں جائیں گے اور وہاں بےشمار روزی پائیں گے“۔
الله تعالی کا قول: ”اگر وہ میرے لیے اس برائی کو چھوڑ دے تو اس کے لیے ایک نیکی لکھ دو“۔ اس کے چھوڑنے کو اللہ کی خاطر چھوڑنے سے مشروط کیا گیا ہے، یعنی اگر وہ اللہ کے خوف سے اور اس سے حیا کی وجہ سے چھوڑ دے۔ تاہم اگر وہ اس سے عاجز آنے کی وجہ سے چھوڑ ے یا پھر مخلوق کے خوف کے وجہ سے یا کسی اور عارض کی وجہ سے ترک کرے تو اس صورت میں اس کے لیے نیکی نہیں لکھی جاتی بلکہ بسا اوقات برائی لکھی جاتی ہے۔
اللہ تعالی کا یہ قول: اور اگر وہ کسی نیکی کا اراده کرے لیکن اسے کر نہ سکے تو اس کے لیے ایک نیکی لکھ دو اگر وہ اسے کر لے تو پھر اس کے لیے دس سے سات سو گنا تک نیکیاں لکھ دو۔ یہ اللہ کی کریم ذات کا اپنے بندوں پر فضل ہے جو بہت زیادہ احسان کرنے والا ہے۔ تمام تعریفیں اور تمام احسانات اللہ ہی کے لیے ہیں۔ اس سے بڑی کرم نوازی اور کیا ہو سکتی ہے کہ نیکی کے ارادے کو پوری نیکی لکھ دیا جائے اور نیکی کرنے کو دس سے سات سو گنا تک بڑھا کر لکھا جائے۔
اس حدیث میں نبی کريم ﷺ نے اس بات کو اللہ کی طرف منسوب کرتے ہوئے فرمايا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: جب میرا بندہ ارادہ کرے۔ آپ ﷺ نے یہ بیان کیا ہے کہ یہ اللہ کا فرمان ہے۔ اللہ کا یہ قول اس کی شریعت ہی کا حصہ ہے جس میں اس کی طرف سے اپنے بندوں کے لیے وعدہ اور ان پر اس كے فضل و کرم کا بیان ہے۔ اور یہ قرآن کے علاوہ ہے اور یہ مخلوق نھیں ہے۔ پس اللہ تعالی کا قول اس کی مخلوق کے علاوہ ہے۔ (یعنی اللہ کا کلام مخلوق نہیں ہے)

Explanation

This is Allah, the Almighty, addressing His angels, who are in charge of keeping records of human deeds. This discourse indicates divine generosity and forgiveness toward humans. For example, Allah says: “If My slave intends to do an evil deed, do not write it down until he does it.” Action could be an action of the heart, as it is normally an action of the organs. This is indicated in reports showing that actions of the heart are accounted for. One could be rewarded or punished for them. In this respect, Allah says: {Whoever intends [a deed] therein of deviation [in religion] or wrongdoing – We will make him taste of a painful punishment} [Sūrat al-Hajj: 25]. In an authentic Hadīth, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said: "If two Muslims meet with their swords, the killer and the one killed are both in Hellfire." The Companions said: "That is (understood regarding) the killer. What about the killed one?" He replied: "He was also eager to kill his brother." These texts specify the general indication of “If he intends to do an evil deed, do not write it down until he does it.” This understanding does not contradict the evil deed being not written against one who commits it, because intention of the heart is an act. The angels' writing of an evil deed “as it is” means as one sin. Allah says: {Whoever comes [on the Day of Judgment] with a good deed will have ten times the like thereof [to his credit], and whoever comes with an evil deed will not be recompensed except the like thereof; and they will not be wronged} [Sūrat al-An‘ām: 160]. He also says: {And whoever does righteous deeds, whether male or female, while being a believer – those will enter Paradise and will not be wronged, [even as much as] the speck on a date seed} [Sūrat An-Nisā': 124]. Not doing an evil deed for fearing Allah yields one reward. Not doing it for inability, or fear of people, or any other reason does not bring a reward but may rather bring one misdeed in one's account. Intending to do a good deed but failing to undertake it brings one reward. This is generosity from Allah, the Almighty. Mere intention to do a good deed brings one reward; doing it brings ten up to seven hundred rewards. In this Hadīth, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) attributed the saying to Allah, the Almighty. The saying of Allah is legislation that involves divine promises and merits. It is different from the Qur'an. It is not created; the speech of Allah is different from Allah's creation.

Topics موضوعات