Sahih Muslim صحیح مسلم

’’اہلِ جہنم کی دو قسمیں ایسی ہیں جو میں نے نہیں دیکھیں: ایک وہ قوم جن کے پاس کوڑے ہوں گے، جو گائے کی دموں…

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صِنْفَانِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ لَمْ أَرَهُمَا، قَوْمٌ مَعَهُمْ سِيَاطٌ كَأَذْنَابِ الْبَقَرِ يَضْرِبُونَ بِهَا النَّاسَ، وَنِسَاءٌ كَاسِيَاتٌ عَارِيَاتٌ مُمِيلَاتٌ مَائِلَاتٌ، رُؤُوسُهُنَّ كَأَسْنِمَةِ الْبُخْتِ الْمَائِلَةِ، لَا يَدْخُلْنَ الْجَنَّةَ، وَلَا يَجِدْنَ رِيحَهَا، وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ كَذَا وَكَذَا».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’اہلِ جہنم کی دو قسمیں ایسی ہیں جو میں نے نہیں دیکھیں: ایک وہ قوم جن کے پاس کوڑے ہوں گے، جو گائے کی دموں جیسے ہوں گے، جن سے وہ لوگوں کو ماریں گے اور دوسری قسم بظاہر کپڑوں میں ملبوس مگر حقیقتاً ننگی عورتوں کی ہے، جو سیدھی راہ سے بہکنے والی اور دوسروں کو بہکانے والی ہوں گی، جن کے سر بختی اونٹوں کی کوہانوں کے طرح ہوں گے۔ وہ جنت میں داخل نہ ہوں گی اور نہ ہی اس کی خوشبو پائیں گی، حالاں کہ اس کی خوشبو تو اتنے اور اتنے دور سے پائی جاتی ہے‘‘۔
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) said: "There are two types of the dwellers of Hellfire whom I have not seen: people with whips like the tails of cows with which they beat people, and women who will be dressed yet naked, inviting to evil, and they themselves are inclined to it. Their heads will appear like the humps of the Bactrian camels, inclined to one side. They will not enter Paradise nor will they smell its fragrance; the fragrance that is smelled from such-and-such a distance."

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: رواه مسلم
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #8903

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم دو قسم کے جہنمی لوگوں سے خبردار کر رہے ہيں، جن کو آپ نے دیکھا نہيں ہے اور جو آپ کے زمانے میں موجود نہيں تھے۔ اس طرح کے لوگ آپ کے بعد ظاہر ہوں گے:

پہلی قسم: ایسے لوگ جن کے پاس گائے کی دموں کی طرح لمبے لمبے کوڑے ہوں گے، جن سے وہ لوگوں کی پٹائی کریں گے۔ دراصل ان سے مراد ایسے پولس والے اور ظالموں کے پیروکار ہیں، جو ناحق لوگوں کی پٹائی کریں گے۔

دوسری قسم : ایسی عورتیں، جو عفت و حیا کا لباس اتار پھینکیں گی، جو ایک عورت کا فطری زیور ہے۔

آپ نے بتایا کہ وہ عورتیں حقیقت میں کپڑے پہنی ہوئی ہوں گی، لیکن معنوی طور پر ننگی ہوں گی کہ ایسے باریک کپڑے پہنی ہوں گی، جن سے جسم جھلک رہا ہوگا۔ وہ بدن کے کچھ حصے کو ڈھانپیں گی اور حسن و جمال کے اظہار کے لیے کچھ حصے کو کھلا چھوڑ دیں گی۔ وہ اپنے پہناوے اور چال ڈھال سے مردوں کے دلوں کو اپنی طرف مائل کریں گی، گردن اور کندھے مٹکا مٹکا کر چلیں گی اور دوسروں کو اسی انحراف اور گمراہی کى طرف مائل کرنا چاہیں گی، جس میں وہ خود پڑی ہوئی ہيں۔ ان کی ایک صفت یہ ہے کہ ان کے سر اونٹ کے جھکے ہوئے کوہان کی طرح ہوں گے۔ وہ سر پر کوئی پگڑی وغیرہ باندھ کر اس کے حجم کو بڑا کر لیں گی۔ یہاں بختی اونٹوں کے کوہانوں سے تشبیہ اس بنا پر دی گئی ہے کہ مذکورہ عورتوں کے سر پر بال اور چوٹیاں اوپر کی جانب اٹھی ہوئی ہوں گی اور اونٹ کے کوہانوں کی طرح ایک جانب جھکی ہوئی ہوں گی۔ جو عورتیں ان اوصاف کی حامل ہوں گی، ان کے بارے میں وعید یہ ہے کہ وہ جنت میں داخل نہیں ہوں گی، ان کی خوش بو تک نہیں پا سکیں گی اور اس کے قریب نہیں جا سکیں گی۔ جب کہ جنت کی خوش بو دور سے محسوس کی جا سکتی ہے۔

حدیث کے فوائد

  • لوگوں کو بنا کسی گناہ یا جرم کے مارنا اور تکلیف دینا حرام ہے۔
  • ظلم کرنے والوں کی ان کے ظلم پر مدد کرنے کی ممانعت۔
  • عورتوں کو بے پردہ ہوکر باہر نکلنے اور ایسے تنگ وشفاف کپڑے پہننے سے خبردار کیا گیا ہے جس سے کہ جسم کے چھپانے لائق حصے دکھتے ہوں یا جسم کے نشیب وفراز دکھائی دیتے ہوں۔
  • مسلمان عورت کو اللہ کے اوامر کی بجا آوری اور ایسے کاموں سے دور رہنے کی ترغیب دینا، جو اللہ کو ناراض کرتے ہوں یا انسان کو آخرت کے دائمی دردناک عذاب کے مستحق ٹھہراتے ہوں۔
  • یہ حدیث محمد عربی صلی اللہ علیہ و سلم کے اللہ کے نبی ہونے کی ایک دلیل ہے۔ کیوں کہ آپ نے کچھ ایسے امور کی اطلاع دی، جو سامنے نہیں آئے تھے اور بعد میں آپ کى دی ہوئى خبر کے مطابق ہو بہو سامنے آ گئے۔

Explanation

The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) warns against two types of people from the dwellers of Hellfire whom he did not see and who did not exist during his time; rather, they will come to exist afterwards.

First type: They are people who have whips like the long tails of cows with which they beat people, and those are the policemen and the oppressors' soldiers who beat people wrongfully.

Second type: They are women who have abandoned chastity and modesty, which usually constitute part of the woman's nature.

Their description: Dressed in reality but naked in meaning because they wear transparent clothes that reveal the color of their skin; and they cover parts of their body and expose other parts to show their beauty. They cause men's hearts to be inclined to them by their clothes and swaggering gait. They walk while inclining their shoulders and invite others to deviation and aberration that they indulge in. Moreover, their heads are like the inclined hump of a camel, as they make their heads look larger and bigger by wrapping a scarf and the like around it. Their heads are likened to the humps of the Bactrian camels given the fact that they raise their hair and braids on top of their heads and these braids are inclined to one side of the head just like the camel's hump. Women who fit such a description are subject to this severe threat of not entering Paradise, or smelling its fragrance, or even approaching it although the fragrance of Paradise could be smelled from a far distance.

Topics موضوعات