اللہ کی قسم! تمھارے ذریعے سے کسی ایک آدمی کا ہدایت یافتہ ہو جانا تمھارے لیے (بیش قیمت) سرخ اونٹوں سے بہتر…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق عليه
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #3409Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 3409)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے صحابہ کو بتایا کہ آئندہ کل مسلمانوں کو خیبر کے یہودیوں پر فتح نصیب ہو جائے گی۔ فتح ایسے شخص کے ہاتھوں نصیب ہوگی، جسے آپ جھنڈا عطا کریں گے۔ یہاں آئے ہوئے عربی لفظ "الراية" کے معنی اس جھنڈے کے ہيں، جسے فوج نشان کے طور پر استعمال کرتی ہے۔ جھنڈا حاصل کرنے والے اس شخص کے اوصاف بتاتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے محبت رکھتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت رکھتے ہيں۔ چنانچہ صحابہ نے رات اس بات پر چرچا کرتے ہوئے گزاری کہ صبح جھنڈا کسے ملے گا؟ ہر شخص کی خواہش تھی کہ یہ عظیم شرف اسے ملے۔ صبح ہوئی، تو سب لوگ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہو گئے۔ سب کے دل میں آرزو تھی کہ جھنڈا اٹھانے کی سعادت حاصل ہو جائے۔
لیکن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے علی بن ابى طالب رضی اللہ عنہ کے بارے میں دریافت فرمایا:
عرض کیا گیا کہ وہ بیمار ہیں اور ان کی آنکھوں میں پریشانی ہے۔
آپ نے ان کو بلا بھیجا۔ وہ لائے گئے، تو ان کی آنکھوں پراپنا لعاب دہن لگا دیا اور ان کے لیے دعا فرمائی۔ چنانچہ ایسے ٹھیک ہو گئے، جیسے کوئی پریشانی تھی ہی نہیں۔ اب ان کو جھنڈا عطا فرمایا اور حکم دیا کہ آرام سے چلتے رہيں۔ دشمنوں کے قلعے کے قریب پہنچ جائيں، تو ان کو اسلام قبول کر نے کی پیش کش کریں اور قبول کر لیں تو ان کو اسلام کے فرائض سکھائيں۔
اس کے بعد اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے علی بن ابى طالب رضی اللہ عنہ کو دعوت الی اللہ کی فضیلت سمجھائی اور بتایا کہ کسی داعی کے ہاتھ پر ایک شخص بھی ہدایت یاب ہو جائے، تو یہ اس کے حق میں سرخ اونٹوں سے بہتر ہے، جن کا مالک بننے کے بعد وہ چاہے تو انہیں پاس رکھے اور چاہے تو صدقہ کر دے۔ واضح رہے کہ عربوں کے یہاں سرخ اونٹ نفیس اور بیش قیمت اموال میں شمار ہوتے تھے۔
حدیث کے فوائد
- علی بن ابى طالب رضی اللہ عنہ کی فضیلت اور ان کے حق میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی یہ گواہی کہ اللہ اور اس کے رسول کو ان سے محبت ہے اور ان کو اللہ اور اس کے رسول سے محبت ہے۔
- صحابہ خیر کے حریص تھے اور اسے حاصل کرنے میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے تھے۔
- جنگ وقتال کے وقت بھی ادب کو ملحوظ خاطر رکھنا اور بغیر ضرورت کے تکلیف دہ آوازیں نکالنے اور طیش میں آنے سے گریز کرنا مشروع ہے۔
- یہ بھی آپ کے برحق بنی ہونے کی دلیل ہے کہ آپ نے یہودیوں پر فتح یاب ہونے کی اطلاع پہلے ہی دے دی اور آپ کے ہاتھوں پر اللہ کے حکم سے علی بن ابى طالب رضی اللہ عنہ کی آنکھیں ٹھیک ہو گئيں۔
- جہاد کا سب سے بڑا مقصد ہے، لوگوں کا مذہب اسلام میں داخل ہونا۔
- دعوت تدریجی طور پر دی جائے گی۔ چنانچہ پہلے کافر سے کہا جائے گا کہ وہ شہادتین کا اقرار کرکے اسلام میں داخل ہوجائے اور اس کے بعد اسے اسلامی فرائض کا حکم دیا جائے گا۔
- اسلام کی دعوت دینے کی فضیلت اور یہ کہ اس میں داعی اور مدعو دونوں کے لیے خیر و بھلائی مضمر ہے۔ چنانچہ ممکن ہے کہ مدعو کو ہدایت مل جائے اور داعی اجر عظیم سے بہرہ ور ہو۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) informed the Companions that Muslims would win victory over the Jews of Khaybar the following day at the hands of a man to whom he would give the banner, which is the flag the army takes as its slogan. Among the traits of this man is that he loves Allah and His Messenger and Allah and His Messenger love him. So, the Companions spent their night conversing and talking about the one who would be given the banner, hoping to win that great honor. In the morning, they went to the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him), each wishing to be the one who would win that honor.
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) asked about ‘Ali ibn Abi Tālib.
It was said: He is sick suffering from sore eyes.
So, he (may Allah's peace and blessings be upon him) sent for him, and when they brought him, he spat his honorable saliva into ‘Ali's eyes and supplicated for him. ‘Ali thus recovered from his sickness as if he had suffered no pain at all. Then he gave him the banner and ordered him to proceed gently until approaching the enemy's fortress, and he should then invite them to Islam. In case they respond to him, he should inform them of what is obligatory upon them.
Then, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) clarified to ‘Ali the merit of calling people to Allah and the fact that if the preacher succeeds in guiding one single person, that will be better for him than having red camels, which represent the Arabs' most precious property, to possess or give out in charity.