جامع ترمذی · سنن ابن ماجہ
Jami' at-Tirmidhi · Sunan Ibn Majah

{ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ} (پھر تم اس دن نعمتوں کے بارے میں ضرور پوچھے جاؤگے۔) [سورہ…

Hasan (حسن) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
65075Hasan حسن
عَنْ ‌الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ: {ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ} [التكاثر: 8]، قَالَ الزُّبَيْرُ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَأَيُّ النَّعِيمِ نُسْأَلُ عَنْهُ، وَإِنَّمَا هُمَا الْأَسْوَدَانِ التَّمْرُ وَالْمَاءُ؟ قَالَ: «أَمَا إِنَّهُ سَيَكُونُ».
زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں : جب آیت کریمہ {ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ} (پھر تم اس دن نعمتوں کے بارے میں ضرور پوچھے جاؤگے۔) [سورہ تکاثر : 8] نازل ہوئی، تو زبیر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول! ہم سے بھلا کس نعمت کے بارے میں پوچھا جائے گا، ہمارے پاس تو بس دو کالی چیزيں: کھجور اور پانی ہی ہیں؟ یہ سن کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "دیکھو، تم سے سوال تو کیا ہی جائے گا۔"
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Az-Zubayr ibn al-‘Awwām reported: When the following verse was revealed {Then, on that Day, you will definitely be questioned about your worldly pleasures.} [Surat at-Takāthur: 8], Az-Zubayr said: "O Messenger of Allah, which pleasures will we be asked about; there are only the two black things: dates and water?" He said: "This will certainly come."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
جامع ترمذیJami' at-Tirmidhiسنن ابن ماجہSunan Ibn Majah
Original wording: رواه الترمذي وابن ماجه
2Grade درجہ
Hasan حسن
Good: acceptable, slightly below Sahih
قابلِ قبول: صحیح سے کچھ کم درجہ
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #65075

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی : {ثم لتسألن يومئذ عن النعيم} یعنی اللہ نے تم کو جو نعمتیں دے رکھی ہیں، تم سے ان کا شکر ادا کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں ضرور پوچھا جائے گا، تو زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول! ہم لوگوں سے بھلا کس نعمت کے بارے میں پوچھا جائے گا؟ ہمارے پاس تو دو ہی نعمتیں ہیں، جو اس لائق نہيں ہيں کہ ان کے بارے میں پوچھا جائے۔ ہمارے پاس تو بس کھجور اور پانی ہی ہیں۔

اس کے جواب میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : تم جس حالت میں ہو، وہ اپنی جگہ پر، لیکن اس کے باوجود تم سے نعمتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ کیوں کہ یہ دونوں نعمتیں بھی اللہ کی دو بڑی نعمتیں ہیں۔

حدیث کے فوائد

  • اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کی تاکید۔
  • نعمت چاہے چھوٹی ہو یا بڑی، قیامت کے دن اس کے بارے میں پوچھا جائے گا۔

Explanation

When the following verse was revealed: {Then on that Day, you will indeed be asked about your worldly pleasures} i.e., You will be asked about the gratitude you showed for the pleasures Allah has bestowed upon you – Az-Zubayr ibn al-‘Awwām (may Allah be pleased with him) said: O Messenger of Allah, which pleasures will we be asked about?! Only two blessings are not among the things that deserve to be asked about, namely dates and water!

Thereupon, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said: Verily, you will be asked about the worldly pleasures despite the state you are in, for these two are great blessings from among the blessings of Allah Almighty.

Topics موضوعات