لوگو! اللہ تعالیٰ نے تم سے جاہلیت کا فخر وغرور اور خاندانی تکبر ختم کر دیا ہے
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- جامع ترمذیJami' at-Tirmidhiصحیح ابن حبانSahih Ibn HibbanOriginal wording: رواه الترمذي وابن حبان
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #65074Jami' at-Tirmidhi & Sahih Ibn Hibban (HadeethEnc 65074)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فتح مکہ کے دن لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: لوگو! اللہ نے تم سے جاہلی دور کے کبر و نخوت اور آبا و اجداد پر فخر کرنے کے طور طریقے کو دور کر دیا ہے۔ اب لوگ دو طرح کے ہیں :
یا تو نیکوکار، پرہیزگار، فرماں بردار اور اللہ عز و جل کی عبادت کرنے والا مؤمن ہے، جو کہ اللہ تعالی کی نظر میں قابل احترام ہے، چاہے لوگوں کی نظر میں حسب نسب والا نہ بھی ہو۔
یا پھر بدکار اور بدبخت کافر ہے، جو کہ اللہ کی نظر میں بے وقعت ہے اور اس کی کوئی قیمت نہيں ہے، چاہے لوگوں کی نظر میں حسب نسب والا اور عہدے اور منصب والا ہی کیوں نہ ہو۔
سارے کے سارے لوگ آدم کی اولاد ہیں اور اللہ نے آدم کو مٹی سے پیدا کیا ہے۔ اس لیے مٹی سے پیدا ہونے والے انسان کو تکبر اور خود پسندی کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ اس کی تائید اللہ تعالی کے اس فرمان سے ہوتی ہے: {يا أيها الناس إنا خلقناكم من ذكر وأنثى وجعلناكم شعوبا وقبائل لتعارفوا إن أكرمكم عند الله أتقاكم إن الله عليم خبير} ﴿اے لوگو! ہم نے تم سب کو ایک (ہی) مرد وعورت سے پیدا کیا ہے اور اس لیے کہ تم آپس میں ایک دوسرے کو پہچانو کنبے اور قبیلے بنا دیے ہیں۔ اللہ کے نزدیک تم سب میں باعزت وه ہے جو سب سے زیاده ڈرنے واﻻ ہے۔ یقین مانو کہ اللہ دانا اور باخبر ہے﴾ [سورہ حجرات : 13]
حدیث کے فوائد
- حسب نسب پر فخر کرنے کی ممانعت۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) delivered a speech on the day of the Conquest of Makkah, saying: O people, indeed Allah removed from you the arrogance and fanaticism of jāhiliyyah and the boastfulness about one's ancestors. People are of two types:
Either a believer who is pious, righteous, and obedient to Allah Almighty – and this is honorable in the sight of Allah, even if he does not occupy high status among the people.
Or a disbeliever who is wicked and wretched – and this is insignificant and worthless in the sight of Allah, even if he occupies a high status, strong position and authority.
People are the children of Adam, and Allah created Adam from dust. Allah says: {O mankind, We have created you from a male and a female, and made you into nations and tribes so that you may recognize one another. Indeed, the most noble of you before Allah is the most righteous among you. Indeed, Allah is All-Knowing and all-aware.} [Surat al-Hujurāt: 13]"