جامع ترمذی · صحیح ابن حبان
Jami' at-Tirmidhi · Sahih Ibn Hibban

لوگو! اللہ تعالیٰ نے تم سے جاہلیت کا فخر وغرور اور خاندانی تکبر ختم کر دیا ہے

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
65074Sahih صحیح
عَنِ ‌ابْنِ عُمَرَ رضي الله عنهما: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ النَّاسَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ، فَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ اللهَ قَدْ أَذْهَبَ عَنْكُمْ عُبِّيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ وَتَعَاظُمَهَا بِآبَائِهَا، فَالنَّاسُ رَجُلَانِ: بَرٌّ تَقِيٌّ كَرِيمٌ عَلَى اللهِ، وَفَاجِرٌ شَقِيٌّ هَيِّنٌ عَلَى اللهِ، وَالنَّاسُ بَنُو آدَمَ، وَخَلَقَ اللهُ آدَمَ مِنْ تُرَابٍ، قَالَ اللهُ: {يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ أَتْقَاكُمْ إِنَّ اللهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ} [الحجرات: 13]».
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ فتح مکہ کے دن رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو خطاب فرمایا: ’’لوگو! اللہ تعالیٰ نے تم سے جاہلیت کا فخر وغرور اور خاندانی تکبر ختم کر دیا ہے۔ اب لوگ صرف دو طرح کے ہیں: اللہ کی نظر میں نیک متقی، کریم و شریف اور دوسرا فاجر و بدبخت، اللہ کی نظر میں ذلیل و کمتر۔ لوگ سب کے سب آدم کی اولاد ہیں اور آدم کو اللہ نے مٹی سے پیدا کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ أَتْقَاكُمْ إِنَّ اللهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ} ﴿اے لوگو! ہم نے تم سب کو ایک (ہی) مرد وعورت سے پیدا کیا ہے اور اس لیے کہ تم آپس میں ایک دوسرے کو پہچانو کنبے اور قبیلے بنا دیے ہیں۔ اللہ کے نزدیک تم سب میں باعزت وه ہے جو سب سے زیاده ڈرنے واﻻ ہے۔ یقین مانو کہ اللہ دانا اور باخبر ہے﴾ [سورہ حجرات : 13]
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Ibn ‘Umar (may Allah be pleased with him) reported: The Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) delivered a speech on the day of the Conquest of Makkah. He said: "O people, verily Allah has removed the arrogance of jāhiliyyah from you and their boastfulness about their forefathers. So, now, there are two types of men: a righteous, pious, and honorable person in the sight of Allah and a wicked, wretched, and insignificant person in the sight of Allah. People are the children of Adam, and Allah created Adam from dust. Allah says: {O mankind, We have created you from a male and a female, and made you into nations and tribes so that you may recognize one another. Indeed, the most noble of you before Allah is the most righteous among you. Indeed, Allah is All-Knowing and all-aware.} [Surat al-Hujurāt: 13]"
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
جامع ترمذیJami' at-Tirmidhiصحیح ابن حبانSahih Ibn Hibban
Original wording: رواه الترمذي وابن حبان
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #65074

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فتح مکہ کے دن لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: لوگو! اللہ نے تم سے جاہلی دور کے کبر و نخوت اور آبا و اجداد پر فخر کرنے کے طور طریقے کو دور کر دیا ہے۔ اب لوگ دو طرح کے ہیں :

یا تو نیکوکار، پرہیزگار، فرماں بردار اور اللہ عز و جل کی عبادت کرنے والا مؤمن ہے، جو کہ اللہ تعالی کی نظر میں قابل احترام ہے، چاہے لوگوں کی نظر میں حسب نسب والا نہ بھی ہو۔

یا پھر بدکار اور بدبخت کافر ہے، جو کہ اللہ کی نظر میں بے وقعت ہے اور اس کی کوئی قیمت نہيں ہے، چاہے لوگوں کی نظر میں حسب نسب والا اور عہدے اور منصب والا ہی کیوں نہ ہو۔

سارے کے سارے لوگ آدم کی اولاد ہیں اور اللہ نے آدم کو مٹی سے پیدا کیا ہے۔ اس لیے مٹی سے پیدا ہونے والے انسان کو تکبر اور خود پسندی کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ اس کی تائید اللہ تعالی کے اس فرمان سے ہوتی ہے: {يا أيها الناس إنا خلقناكم من ذكر وأنثى وجعلناكم شعوبا وقبائل لتعارفوا إن أكرمكم عند الله أتقاكم إن الله عليم خبير} ﴿اے لوگو! ہم نے تم سب کو ایک (ہی) مرد وعورت سے پیدا کیا ہے اور اس لیے کہ تم آپس میں ایک دوسرے کو پہچانو کنبے اور قبیلے بنا دیے ہیں۔ اللہ کے نزدیک تم سب میں باعزت وه ہے جو سب سے زیاده ڈرنے واﻻ ہے۔ یقین مانو کہ اللہ دانا اور باخبر ہے﴾ [سورہ حجرات : 13]

حدیث کے فوائد

  • حسب نسب پر فخر کرنے کی ممانعت۔

Explanation

The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) delivered a speech on the day of the Conquest of Makkah, saying: O people, indeed Allah removed from you the arrogance and fanaticism of jāhiliyyah and the boastfulness about one's ancestors. People are of two types:

Either a believer who is pious, righteous, and obedient to Allah Almighty – and this is honorable in the sight of Allah, even if he does not occupy high status among the people.

Or a disbeliever who is wicked and wretched – and this is insignificant and worthless in the sight of Allah, even if he occupies a high status, strong position and authority.

People are the children of Adam, and Allah created Adam from dust. Allah says: {O mankind, We have created you from a male and a female, and made you into nations and tribes so that you may recognize one another. Indeed, the most noble of you before Allah is the most righteous among you. Indeed, Allah is All-Knowing and all-aware.} [Surat al-Hujurāt: 13]"

Topics موضوعات