بلاشبہ اللہ اسی عمل کو قبول کرتا ہے، جو خالص اسی کے لیے اور اس کی رضامندی کے حصول میں کیا جائے۔
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- سنن نسائیSunan an-Nasa'iOriginal wording: رواه النسائي
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #65107Sunan an-Nasa'i (HadeethEnc 65107)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
ایک آدمی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس اس آدمی کا حکم پوچھنے آیا، جو جہاد میں اللہ سے اجر و ثواب اور لوگوں کی تعریف حاصل کرنے کے لیے شریک ہوتا ہو۔ وہ جاننا چاہتا تھا کہ ایسے شخص کو اجر و ثواب ملے گا یا نہیں؟ لہذا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اسے جواب یہ دیا کہ اسے کوئی اجر و ثواب نہیں ملے گا۔ کیوں کہ اس نے اپنی نیت میں غیراللہ کو شریک کر لیا۔ اس شخص نے اپنا یہ سوال اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے تین بار رکھا اور آپ نے ہر بار یہی جواب دیا کہ اسے کوئی اجر و ثواب نہيں ملے گا۔ اس کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اللہ کے یہاں کسی عمل کے قبول ہونے کا ایک قاعدہ بیان فرما دیا۔ قاعدہ یہ ہے کہ اللہ صرف اسی عمل کو قبول فرماتا ہے، جسے پورے طور پر اللہ کے لیے اور اس کی خوش نودی کے حصول کی خاطر کیا جائے اور اس میں کسی کو شریک نہ ٹھہرایا جائے۔
حدیث کے فوائد
- اللہ بس اسی عمل کو قبول کرتا ہے، جسے خالص طور پر اللہ کے لیے اور اس کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے طریقے کے مطابق کیا جائے۔
- مفتی کے جواب کی ایک خوبی یہ ہونی چاہیے کہ وہ سائل کے مقصد کا نہ صرف احاطہ کرتا ہو، بلکہ اس میں کچھ اضافی باتیں بھی کہہ دی جائيں۔
- کسی غیر معمولی بات کی تاکید کے لیے اس کے بارے میں بار بار سوال کرنا۔
- سہی معنی میں مجاہد وہ ہے، جو خلوص نیت کے ساتھ اللہ کے کلمے کی سربلندی اور اخروی اجر و ثواب کے حصول کی خاطر جہاد میں شریک ہوتا ہو۔ اس کا جہاد دنیا کے حصول کے لئے نہیں ہونا چاہئے۔
Explanation
A man came to the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) to ask him and seek his Fatwa about the ruling on a man who goes out for battle and Jihad seeking reward from Allah and desiring praise and commendation from people, as to whether he will receive a reward? The Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) answered him that he will have no reward because he associates others with Allah in his intention. The man repeated his question to the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) three times, and he (may Allah's peace and blessings be upon him) responded to him and confirmed the same answer – that he will have no reward. Then, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) informed him about the rule governing the acceptance of deeds by Allah: Allah does not accept any deeds unless they are purely devoted to Allah, without associating others with Him, and for His sake, Exalted be He.