جامع ترمذی
Jami' at-Tirmidhi

مومن طعنہ مارنے والا، لعنت کرنے والا، بےحیا اور فحش گو نہیں ہوتا ہے۔

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
65869Sahih صحیح
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ الْمُؤْمِنُ بِالطَّعَّانِ وَلاَ اللَّعَّانِ وَلاَ الفَاحِشِ وَلاَ البَذِيءِ».
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے : "مومن طعنہ مارنے والا، لعنت کرنے والا، بےحیا اور فحش گو نہیں ہوتا ہے۔"
— HadeethEnc اردو ترجمہ
‘Abdullāh ibn Mas‘ūd (may Allah be pleased with him) reported: The Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) said: "A believer is not a slanderer, nor a curser, nor a person who speaks obscenely, nor a person who uses foul language."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
جامع ترمذیJami' at-Tirmidhi
Original wording: رواه الترمذي
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #65869

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ ایک کامل ایمان والے مومن کو زیب نہيں دیتا کہ کسی کے نسب پر زبان درازی کرے، بہت زیادہ گالی گلوج اور لعن طعن کرے اور حیا و شرم سے عاری ہوکر قول وفعل کے ذریعہ فحش وقبیح صفت سے متصف ہو۔

حدیث کے فوائد

  • نصوص شرعیہ کے اندر ایمان کی نفی کسی حرام کام کے ارتکارب یا واجب کے ترک کرنے کی بنا پر ہی کی جاتی ہے۔
  • اعضا و جوارح اور خاص طور سے زبان کو بری باتوں سے محفوظ رکھنے کی ترغیب۔
  • سندھی کہتے ہيں: 'الطعّان' اور 'اللعّان' کے مبالغے کے صیغے اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ لعن طعن اگر کم مقدار میں مستحق لوگوں پر کیا جائے، تو اس سے اہل ایمان کی صفات سے متصف ہونے کا وصف مجروح نہيں ہوتا۔

Explanation

The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) informed us that it is not the nature of a believer who has complete Imān to criticize people’s lineage, or to revile and curse others, or to be obscene in action or speech without shame.

Topics موضوعات