”اے بلال! مجھے اپنا وہ عمل بتلاؤ جو تم نے اسلام میں سب سے زیادہ امید والا کیا ہے
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق عليه
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #65849Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 65849)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
نبی ﷺ نے خواب میں دیکھا کہ بلال رضی اللہ عنہ جنت میں ہیں، تو آپ نے بلال بن رباح رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”مجھے اپنا سب سے زیادہ امید والا وہ نفلی عمل بتاؤ جو تم نے اسلام میں کیا ہے؟ کیونکہ میں نے جنت میں اپنے آگے تمہارے جوتوں کی چاپ سنی ہے۔“ بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میں نے اپنے نزدیک اس سے زیادہ امید والا کوئی عمل نہیں کیا کہ جب بھی میں رات یا دن کی کسی گھڑی میں بے وضو ہوا تو میں نے وضو کر لیا، اور پھر اس وضو سے اتنی نفل نماز پڑھی جتنی میرے مقدر میں لکھی تھی۔
حدیث کے فوائد
- اس عمل کی فضیلت جس کی طرف بلال رضی اللہ عنہ نے رہنمائی فرمائی، یعنی ہر طہارت اور وضو کے بعد نماز پڑھنا، جو کہ سب سے زیادہ امید والے اعمال میں سے ہے اور دخولِ جنت کا سبب ہے۔
- ہر وضو کے بعد نماز پڑھنا مستحب ہے۔
- پیشوا یا مربی کا اپنے طالب علم کے عمل کے بارے میں سوال کرنا؛ تاکہ اگر وہ اچھا ہو تو اسے اس پر ثابت قدم رہنے کی ترغیب دے، ورنہ اسے اس سے منع کرے۔
- نبی ﷺ کی طرف سے بلال رضی اللہ عنہ کے جنتی ہونے کی گواہی۔
- یہ سوال فجر کی نماز کے وقت تھا، اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ واقعہ آپ ﷺ کے خواب میں پیش آیا، اور انبیاء کا خواب برحق ہوتا ہے۔
Explanation
The Prophet (ﷺ) saw in a dream that he was in Paradise. He said to Bilāl ibn Rabāh: Tell me about the most rewarding voluntary deed you have done in Islam, for I heard the soft sound of your sandals ahead of me in Paradise. Bilāl said: The deed I consider most rewarding is that whenever I break my ablution, I perform ablution—at any hour of the day or night— and I would pray with that ablution as many voluntary prayers as ordained for me to pray.