رسول اللہ ﷺ نے ہمیں سات چیزوں کا حکم دیا تھا اور سات چیزوں سے ہم کو منع فرمایا تھا۔
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق علیہ
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #2944Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 2944)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
نبی کریم ﷺ کو دنیا میں اس مقصد سے مبعوث کیا گیا کہ آپ اعلی اخلاق کی تکمیل فرمادیں؛ یہی وجہ ہے کہ آپ ﷺ ہر طرح کے اعلی و عظیم اخلاق و اعمال کی ترغیب فرماتےاور ہر قبیح و ناشائستہ اخلاق و اعمال سے منع فرمایا کرتے۔ آپ ﷺ کے انھی اوامر میں سے کچھ اشیا کا ذکر اس حدیث میں ہے۔ ان میں سے پہلا یہ ہے کہ مریض کی عیادت کی جائے۔ جو درحقیقت ایک اسلامی حق کی ادائیگی، اسے قدرے راحت رسانی اور اس کے حق میں دعاسے عبارت ہے۔ دوسرا یہ ہے کہ جنازہ کے پیچھے چلا جائے؛ کیوں کہ یہ جنازے کے پیچھے چلنے والےکے لیے اجرو ثواب، میت کے حق میں دعا، اہل قبور کے حق میں سلام، وعظ و نصیحت اور عبرت و سبق آموزی وغیرہ پر مشتمل ہے۔ تیسرا یہ ہے کہ چھینکنے والے کے "الحمدللہ" کہنے کے جواب میں "یرحمک اللہ" کہا جائے۔ چوتھا ہے قسم کھانے والے کی قسم پوری کرنا۔ جب وہ تمھیں (قسم دے کر) کسی کام کے لیے بلائے اوراس کی قسم پوری کرنے میں تمھیں کسی طرح کا نقصان نہ ہو، تو اس کی قسم کو پوری کردو؛ تاکہ وہ قسم کا کفارہ ادا کرنے پر مجبور نہ ہوجائے۔ اس کی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے اس کی دل جمعی کا سامان کردو۔ پانچواں یہ ہے کہ مظلوم کی ظالم کے خلاف مدد کی جائے؛ کیوں کہ اس عمل میں ظلم کا تدارک، ظالم کو اس کی دست درازیوں سے روکنا، اس کو ایذا رسانی سے باز رکھنا، منکر و برائی سے منع کرنا، جیسے امور شامل ہیں۔ چھٹا امر ہے دعوت دینے والے کی دعوت پر لبیک کہنا؛ کیوں کہ دعوت قبول کرنا در اصل دلوں میں قربت پیدا کرنے اور شکوک وشبہات سے پاک رکھنے کا ایک ذریعہ ہے اور اس سے باز رہنے کی صورت میں احساس بے گانگی اور باہمی نفرت انگیزیاں پروان چڑھتی ہیں۔ دعوت اگر شادی کی ہو، تو اس کا قبول کرنا واجب ہے اور دیگر دعوتوں کا قبول کرنا مستحب ہے۔ ساتواں امر یہ ہے کہ سلام کو عام کیا جائے۔ یہ دراصل ہر کس و ناکس کے لیے سلامتی کا اعلان و اظہار، سنت کی تعمیل، مسلمانوں کی ایک دوسرے کے حق میں سلامتی کی دعا اور محبت و یگانگت پیدا کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔
اس حدیث میں جن چیزوں سے منع کیا گيا ہے، ان میں سے ایک یہ ہے کہ مرد حضرات سونے کی انگوٹھیا ں نہ پہنیں؛ کیوں کہ اس سے نسوانیت و زنانہ پن کی طرف میلان اور مردانگی کی نفی ہوتی ہے۔ دوسری یہ ہے کہ چاندی کے برتن میں نہ پیا جائے؛ کیوں کہ اس میں مال کی تباہی اور تکبر کا اظہار ہےاور جب ان برتنوں میں پینے سے روک دیا گیا، جو انسانی زندگی کی اہم ضرورت ہے، تو مابقی دیگر تمام استعمالات میں یہ ممانعت اور حرمت بدرجۂ اولی ثابت ہوتی ہے۔ تیسری یہ ہے کہ میاثر (زین یا کجاوہ کے اوپر ریشم کا گدا)، قسی (مصر کے قس نامی ایک دیہات سے منسوب اوراطراف مصر میں تیار کیا جانے والا ایک کپڑا، جس میں ریشم کے دھاگے بھی استعمال ہوتے تھے)، حریر (ریشمی لباس)، دیباج (باریک ریشمی کپڑا) اور استبرق (دیباج سے زیادہ دبیز اور موٹا ریشمی کپڑا) جیسے ریشمی لباس کی تمام انواع کو مردوں کے لیے حرام قرار دیا گیا؛ کیوں کہ ملبوسات کی یہ تمام انواع، انسانی مزاج میں سستی اور عیش پرستی پیدا کرتی ہیں اور یہ دونوں چیزیں مزاج میں جمود و تعطل اور بے راہ روی کا سبب بنتی ہیں، جب کہ مردوں کی مردانگی کا تقاضا یہ ہے کہ وہ چاق و چوبند رہیں اور جفاکشی اور اولو العزمی کی صفات کے حامل ہوں؛ تاکہ اپنے دین، اپنے اہل و عیال اور اپنے وطن کے دفاعی فرائض کی انجام دہی میں ہمیشہ کمر بستہ رہیں۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) commanded the Muslims with seven qualities and forbade them from seven. The ones he commanded them with are: First: visiting the sick. Second: following funerals, participating in the prayer over the deceased, burying them, and supplicating for them. Third: supplicating for the one who sneezes and praises Allah by saying to him: May Allah have mercy upon you. Fourth: fulfilling the oath of the one who swears and believing him, meaning that if someone takes an oath about something and you are able to make it true, you should do so, so that he does not need to expiate his oath. Fifth: supporting the oppressed person by assisting him and preventing any harm inflicted upon him by the oppressor, to the best of your ability. Sixth: responding to the invitation for a meal, such as a wedding feast, ‘Aqīqah (animal sacrificed after the birth of a new baby), or other similar occasions. Seventh: spreading the greeting of peace, offering it, and responding to it. The ones he forbade them from are: First: wearing gold rings and taking it as an adornment. Second: drinking in silver vessels. Third: sitting on Mayāthir, which are rugs made of silk placed on the saddle of a horse or a camel's saddle. Fourth: wearing a garment made of linen mixed with silk, which is called "Qassiy". Fifth: wearing silk. Sixth: wearing Istabraq, which is thick silk. Seventh: wearing Dībāj, which is the best and most precious type of silk.