”جو بھی سونا یا چاندی والا شخص اپنے اس مال کا حق (زکوٰۃ) ادا نہیں کرتا، اس کے لیے قیامت کے دن آگ کی تختیاں…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، فَالْإِبِلُ؟ قَالَ: «وَلَا صَاحِبُ إِبِلٍ لَا يُؤَدِّي مِنْهَا حَقَّهَا، وَمِنْ حَقِّهَا حَلَبُهَا يَوْمَ وِرْدِهَا، إِلَّا إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ، بُطِحَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ، أَوْفَرَ مَا كَانَتْ، لَا يَفْقِدُ مِنْهَا فَصِيلًا وَاحِدًا، تَطَؤُهُ بِأَخْفَافِهَا وَتَعَضُّهُ بِأَفْوَاهِهَا، كُلَّمَا مَرَّ عَلَيْهِ أُولَاهَا رُدَّ عَلَيْهِ أُخْرَاهَا، فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ، حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ الْعِبَادِ، فَيَرَى سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ، وَإِمَّا إِلَى النَّارِ»
قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، فَالْبَقَرُ وَالْغَنَمُ؟ قَالَ: «وَلَا صَاحِبُ بَقَرٍ، وَلَا غَنَمٍ، لَا يُؤَدِّي مِنْهَا حَقَّهَا، إِلَّا إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ بُطِحَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ، لَا يَفْقِدُ مِنْهَا شَيْئًا، لَيْسَ فِيهَا عَقْصَاءُ، وَلَا جَلْحَاءُ، وَلَا عَضْبَاءُ تَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا وَتَطَؤُهُ بِأَظْلَافِهَا، كُلَّمَا مَرَّ عَلَيْهِ أُولَاهَا رُدَّ عَلَيْهِ أُخْرَاهَا، فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ، حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ الْعِبَادِ، فَيَرَى سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ، وَإِمَّا إِلَى النَّارِ»
قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، فَالْخَيْلُ؟ قَالَ: «الْخَيْلُ ثَلَاثَةٌ: هِيَ لِرَجُلٍ وِزْرٌ، وَهِيَ لِرَجُلٍ سِتْرٌ، وَهِيَ لِرَجُلٍ أَجْرٌ، فَأَمَّا الَّتِي هِيَ لَهُ وِزْرٌ، فَرَجُلٌ رَبَطَهَا رِيَاءً وَفَخْرًا وَنِوَاءً عَلَى أَهْلِ الْإِسْلَامِ، فَهِيَ لَهُ وِزْرٌ، وَأَمَّا الَّتِي هِيَ لَهُ سِتْرٌ، فَرَجُلٌ رَبَطَهَا فِي سَبِيلِ اللهِ، ثُمَّ لَمْ يَنْسَ حَقَّ اللهِ فِي ظُهُورِهَا وَلَا رِقَابِهَا، فَهِيَ لَهُ سِتْرٌ وَأَمَّا الَّتِي هِيَ لَهُ أَجْرٌ، فَرَجُلٌ رَبَطَهَا فِي سَبِيلِ اللهِ لِأَهْلِ الْإِسْلَامِ، فِي مَرْجٍ وَرَوْضَةٍ، فَمَا أَكَلَتْ مِنْ ذَلِكَ الْمَرْجِ، أَوِ الرَّوْضَةِ مِنْ شَيْءٍ، إِلَّا كُتِبَ لَهُ، عَدَدَ مَا أَكَلَتْ حَسَنَاتٌ، وَكُتِبَ لَهُ، عَدَدَ أَرْوَاثِهَا وَأَبْوَالِهَا، حَسَنَاتٌ، وَلَا تَقْطَعُ طِوَلَهَا فَاسْتَنَّتْ شَرَفًا، أَوْ شَرَفَيْنِ، إِلَّا كَتَبَ اللهُ لَهُ عَدَدَ آثَارِهَا وَأَرْوَاثِهَا حَسَنَاتٍ، وَلَا مَرَّ بِهَا صَاحِبُهَا عَلَى نَهْرٍ، فَشَرِبَتْ مِنْهُ وَلَا يُرِيدُ أَنْ يَسْقِيَهَا، إِلَّا كَتَبَ اللهُ لَهُ، عَدَدَ مَا شَرِبَتْ، حَسَنَاتٍ»
قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، فَالْحُمُرُ؟ قَالَ: «مَا أُنْزِلَ عَلَيَّ فِي الْحُمُرِ شَيْءٌ، إِلَّا هَذِهِ الْآيَةَ الْفَاذَّةُ الْجَامِعَةُ»: {فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ، وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ} [الزلزلة: 8].
کسی کا سینگ نہ مڑا ہوگا، نہ ٹوٹا ہوگا اور نہ کوئی بلا سینگ ہوگی۔ وه اپنے سينگوں سے اسے ماریں گی اور اپنے کھروں سے اسے کچلیں گی۔ جب آخری گائے یا بکری روند کر چلی جائے گی، تو پہلی کو دوبار لوٹا دیا جائے گا۔ یہ عذاب ايسے دن ميں ہوگا، جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہوگی۔ (یہ سلسلہ جاری رہے گا،) یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے اور وہ شخص جنت یا دوزخ کی طرف اپنا راستہ دیکھ لے۔ عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! گھوڑوں کے بارے میں کیا حکم ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ’’گھوڑے تین قسم کے ہوتے ہیں : ایک تو وہ گھوڑے جو آدمی کے لیے بوجھ (گناہ کا باعث) ہوتے ہیں، دوسرے وہ گھوڑے جو آدمی کے لیے پردہ ہوتے ہیں اور تیسرے وہ گھوڑے جو آدمی کے لیے ثواب کا باعث بنتے ہیں۔ چنانچہ جو گھوڑے انسان کے لیے گناہ کا باعث ہوتے ہیں، وہ ایسے گھوڑے ہیں، جنہیں وہ ریاکاری، اظہارِ فخر اور اہل اسلام کے خلاف مقابلے کے ليے رکھتا ہے۔ یہ اس کے لیے گناہ کا باعث ہوتے ہیں۔ جو گھوڑے انسان کے لیے پردہ بنتے ہیں، وہ ایسے گھوڑے ہیں، جنہیں انسان اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے باندھتا ہے اور ان کی پیٹھ اور گردنوں کے بارے میں اللہ کے حق کو نہیں بھولتا۔ ایسے گھوڑے انسان کے لیے پردہ بنتے ہیں۔ جو گھوڑے انسان کے لیے اجر کا باعث ہوتے ہیں، وہ ایسے گھوڑے ہیں، جنہیں آدمی اللہ کے راستے میں جہاد کے مقصد سے مسلمانوں کے لیے چراگاہ یا باغ میں باندھ کر رکھے۔ وہ گھوڑے اس چراگاہ یا باغ میں جو کچھ بھی کھاتے ہیں ان کے کھانے کے بقدر اس کے لیے نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور ان کی لید اور پیشاب کے بقدر بھی اس کے لیے نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔ اگر وہ اپنی رسی توڑ کر ایک ٹیلے یا دو ٹیلوں پر دوڑ کر چڑھ جائیں، تو ان کے پاؤں کے نشانات کے بقدر اور اس دوران گرنے والی لید پر بھی اللہ تعالیٰ اس کے لیے نیکیاں لکھ ديتا ہے۔ اگر ان کا مالک انہیں کسی نہر پر لے جائے اور وہ اس میں سے پانی پی لیں، حالاں کہ اس کا انہیں پانی پلانے کا ارادہ نہ بھی ہو، تب بھی وہ جتنا پانی پیتے ہیں، اس کے بقدر الله تعالى اس کے لیے نیکیاں لکھ ديتا ہے۔"
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق عليه
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #6611Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 6611)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے مختلف طرح کے اموال اور ان کی زکاۃ ادا نہ کرنے والے کو قیامت کے دن ملنے والی جزا کا ذکر کیا ہے۔ مثلا :
1- سونا، چاندی اور ان کا حکم رکھنے والے دیگر اموال اور تجارتی سامان۔ ان پر اگر زکاۃ واجب ہو جائے اور زکاۃ ادا نہ کی جائے، تو قیامت کے دن ان کو پگھلاکر پہلے تختیوں کی شکل میں ڈھالا جائے گا اور اس کے بعد ان تختیوں کو جہنم کی آگ میں تپاکر ان کے مالک کے پہلو، پیشانی اور پیٹھ پر داغا جائے گا۔ جب جب ان کی گرمی ماند پڑ جائے گی، ان کو دوبارہ تپایا جائے گا۔ عذاب کا یہ سلسلہ قیامت کے روز دن بھر جاری رہے گا اور وہ دن بھی پچاس ہزار سال کا ہوگا۔ یہاں تک کہ مخلوق کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے گا اور یہ طے ہو جائے گا اسے جنت میں جانا ہے یا جہنم میں۔
2- اونٹ کا جو مالک فرض زکاۃ اور اس کا حق ادا نہ کرتا ہو اور اس کا ایک حق یہ ہے کہ اس کا دودھ مسکینوں کو بھی پینے کے لیے دیا جائے، تو قیامت کے دن اس کے اونٹوں کو پہلے سے کہیں زیادہ فربہ حالت اور زیادہ تعداد میں لایا جائے گا، پھر اس کے مالک کو ان کے سامنے ایک ہموار اور وسیع و عریض زمین میں لٹا دیا جائے گا، اس کے بعد وہ اونٹ اسے اپنے پیروں سے روندیں گے اور اپنے دانتوں سے کاٹیں گے۔ جب آخری اونٹ گزر جائے گا، تو پہلے اونٹ سے پھر یہ سلسلہ شروع کر دیا جائے گا۔ عذاب کا یہ سلسلہ قیامت کے روز دن بھر جاری رہے گا اور وہ دن بھی پچاس ہزار سال کا ہوگا۔ یہاں تک کہ مخلوق کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے گا اور یہ طے ہو جائے گا اسے جنت میں جانا ہے یا جہنم میں۔
3- گائے اور بکری کا جو مالک ان کی فرض زکاۃ نہ دیتا ہو، قیامت کے دن اس کی گايوں اور بکریوں کو ان کی پوری تعداد میں اس طرح سامنے لایا جائے گا کہ ایک گائے یا بکری بی ادھر ادھر نہیں ہوگی۔ سب جانور بالکل صحیح و سالم ہوں گے۔ نہ کسی کا سینگ مڑا ہوا ہوگا، نہ کسی کا سینگ ٹوٹا ہوا ہوگا اور نہ کوئی جانور بلا سینگ کا ہوگا۔ پھر ان کے مالک کو ایک وسیع و عریض اور ہم وار میدان میں ان کے سامنے لٹا دیا جائے گا۔ اس کے بعد یہ گائيں اور بکریاں اسے اپنے سینگوں اسے ماریں گی اور اپنے پیروں سے اسے کچلیں گی۔ جب آخری گائے یا بکری گزر جائے گی، تو پہلی گائے یا بکری سے پھر سے یہ سلسلہ شروع کر دیا جائے گا۔ عذاب کا یہ سلسلہ قیامت کے روز دن بھر جاری رہے گا اور وہ دن بھی پچاس ہزار سال کا ہوگا۔ یہاں تک کہ مخلوق کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے گا اور یہ طے ہو جائے گا اسے جنت مبں جانا ہے یا جہنم میں۔
4- گھوڑا پالنے والا۔ دراصل گھوڑے تین طرح کے ہوا کرتے ہیں :
1- ایسا گھوڑا جو مالک کے لیے گناہ کا باعث ہو۔ اس سے مراد ایسا گھوڑا ہے، جسے نام و نمود، فخر اور اہل اسلام سے جنگ کے لیے پالا جائے۔
2- ایسا گھوڑا جو انسان کے لیے پردے کا باعث ہو۔ اس سے مراد ایسا گھوڑا ہے، جسے اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے رکھا جائے اور پھر اس کے ساتھ اچھا سلوک کرتے ہوئے اسے کھلانے پلانے اور اس کی دیکھ بھال کا بہتر انتظام کیا جائے۔
3- ایسا گھوڑا جو اجر و ثواب کا باعث ہو۔ اس سے مراد ایسا گھوڑا ہے، جسے مسلمانوں کی خاطر اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے رکھا جائے۔ یہ جب کسی چراگاہ یا باغ میں ہوتے ہيں، تو وہ اس چراگاہ یا باغ میں جو کچھ بھی کھاتے ہیں ان کے کھانے کے بقدر اس کے لیے نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور ان کی لید اور پیشاب کے بقدر بھی اس کے لیے نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔ اگر وہ اپنی رسی توڑ کر ایک ٹیلے یا دو ٹیلوں پر دوڑ کر چڑھ جائیں، تو ان کے پاؤں کے نشانات کے بقدر اور اس دوران گرنے والی لید پر بھی اللہ تعالیٰ اس کے لیے نیکیاں لکھ ديتا ہے۔ اگر ان کا مالک انہیں کسی نہر پر لے جائے اور وہ اس میں سے پانی پی لیں، حالاں کہ اس کا انہیں پانی پلانے کا ارادہ نہ بھی ہو، تب بھی وہ جتنا پانی پیتے ہیں، اس کے بقدر الله تعالى اس کے لیے نیکیاں لکھ ديتا ہے۔
اس کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے گدھوں کے بارے میں پوچھا گیا کہ کیا گدھے بھی گھوڑوں کے حکم میں ہيں؟
تو آپ نے جواب دیا کہ گدھوں کے بارے میں مجھ پر کوئی مخصوص حکم نازل نہیں ہوا ہے، تاہم یہ منفرد اور جامع آیت موجود ہے، جس کے دائرے میں ہر طرح کی نیکیاں اور گناہ آ جاتے ہیں : [فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ، وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ] (الزلزلہ:7-8) (ترجمہ: پس جس نے ذره برابر نیکی کی ہوگی، وه اسے دیکھ لے گا اور جس نے ذره برابر برائی کی ہوگی، وه اسے دیکھ لے گا۔) یعنی جس نے اچھے ارادے سے گدھا پالا ہوگا، وہ اس کا ثواب سامنے دیکھے گا اور جو برے ارادے سے پالا ہوگا، اس کی سزا بھی سامنے دیکھے گا۔ اس آیت کی وسعتوں میں تمام اعمال داخل ہیں۔
حدیث کے فوائد
- زکاۃ دینا واجب ہے۔ اسے روکنے والے کے بارے میں بڑی سخت وعید آئی ہے۔
- سستی کی وجہ سے زکاۃ نہ دینے والا کافر تو نہيں ہے، لیکن وہ بڑے خطرے کے دہانے پر ہوتا ہے۔
- انسان جب کوئی نیکی کا کام کرتا ہے، تو اس کی جزئیات کا بھی اسے ثواب ملتا ہے، جب اصل نيكى كى نيت كرلی ہو، گرچہ ان جزئیات وتفصیلات کى اس نے نیت نہ کى ہو۔
- مال میں زکاۃ کے علاوہ اور بھی حقوق ہوتے ہيں۔
- اونٹ کا ایک حق یہ ہے کہ جب اسے پانی پلانے کے لیے گھاٹ میں لے جایا جائے، تو وہاں موجود غریبوں کو بھی اس کا دودھ دوہ کر پلایا جائے۔ تاکہ ضرورت مندوں کے لیے آسانی ہو جائے کہ ان کو گھر گھر نہ جانا پڑے اور جانور کو بھی سہولت ہو۔ ابن بطال کہتے ہیں: مال پر دو طرح کے حق عائد ہوتے ہیں : ایک فرض عین اور دوسرا اس کے سوا۔ سو مسکینوں کو دودھ پلانے کا شمار ان حقوق میں ہوگا، جو مکارم اخلاق سے تعلق رکھتے ہیں۔
- اونٹ، بیل اور بکری کا ایک ضروری حق یہ ہے کہ جب ان میں سے کسی مادہ جانور کو گابھن کرنے کے لیے چھوڑنے کو کہا جائے، تو چھوڑ دیا جائے۔
- گدھوں اور ان تمام چیزوں کا، جن کے بارے میں کوئی نص موجود نہ ہو، حکم یہ ہے کہ وہ اللہ تعالی کے اس قول کے عموم میں داخل ہیں : (فمن يعمل مِثقال ذرة خيرًا يَره، ومن يعمل مِثقال ذرة شرًا يره)۔
- اس آیت میں نیک کام کرنے کی ترغیب دی گئی ہے، خواہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو اور برا کام کرنے سے ڈرایا گیا ہے، خواہ معمولی ہی کیوں نہ ہو۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) clarified some types of properties and mentioned the recompense of those who do not pay their Zakah on the Day of Judgment. Such properties include:
First: Gold and silver and what is similar to them, including money and commercial goods, which are subject to Zakah but were not paid. In this case, they are melted down and poured in the form of plates and heated in the fire of Hell and used to torment their owner, searing therewith his side, forehead, and back. Whenever they cool down, they are reheated, and he continues being tormented in such a way throughout the Day of Judgment, the length of which is fifty thousand years, until Allah judges between the creation and he becomes either from the dwellers of Paradise or Hellfire.
Second: The owner of camels who does not pay their Zakah and the right due on them, including milking them for the needy who are present. In this case, such camels are brought, and they are huge, fat, and more in number than they were. Their owner will be laid down, thrown, and stretched for them on the Day of Judgment on a wide, level land where they can trample him with their hooves and bite him with their teeth. Whenever the last of them passes over him, the first of them will be made to return to pass over him, and he continues being tormented in such a way throughout the Day of Judgment, the length of which is fifty thousand years, until Allah judges between the creation and he becomes either from the dwellers of Paradise or Hellfire.
Third: The owner of cows and sheep—sheep and goats—who does not pay the Zakah due on them. In this case, they are brought in great numbers, more than they were, and nothing will be missing thereof. He will be laid down, thrown, and stretched for them on the Day of Judgment on a wide level land. None of them will have a twisted horn, no horn, or a broken horn; rather, they will be in perfect shape. They will gore him with their horns and trample him with their hooves. Whenever the last of them passes over him, the first of them will be made to return to pass over him. and he will continue being tormented in such a way throughout the Day of Judgment, the length of which is fifty thousand years, until Allah judges between the creation and he becomes either from the dwellers of Paradise or Hellfire.
Fourth: The owner of horses, and he is one of three types:
First: They are a burden for him, and this is the person who keeps them for the sake of showing off, boasting, and waging war against Muslims.
Second: They are a shield for him, and this is the person who keeps them for Jihad in the cause of Allah and treats them kindly, foddering and feeding them, and lending their males for breeding.
Third: They are a reward for him, and this is the person who keeps them for Jihad in the cause of Allah for the Muslims' benefit. They are kept in a meadow and pasture to graze. Whatever they eat is recorded for him as good deeds, and their dung and urine are recorded for him as good deeds as well. They do not break their halter, i.e., the rope used for tethering them, run, and gallop in high lands, except that Allah will record for him the number of their hoof marks and their dung as good deeds. Moreover, their owner will not take them past a river from which they drink, although he did not intend to water them, except that Allah will record for him the amount of what they drink as good deeds.
Then the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) was asked about donkeys and whether they are like horses.
He said: No legislation has been revealed regarding them in particular except that unique verse, which generally refers to all types of acts of obedience and sins, namely the verse in which Allah Almighty says: {So whoever does an atom’s weight of good will see it, and whoever does an atom’s weight of evil will see it.} [Surat az-Zalzalah: 7-8] So, whoever possesses donkeys as an act of obedience will attain reward for that, and whoever keeps them to commit sins will be punished for that, and this is a general ruling that includes all deeds.