صحیح بخاری · صحیح مسلم
Sahih al-Bukhari · Sahih Muslim

سفارش کرو، تمہیں (بھی) ثواب ملے گا اور اللہ اپنے نبی کی زبان پر جو پسند کرتاہے فیصلہ فرما دیتا ہے۔

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
3563Sahih صحیح
عن أبي موسى الأشعري رضي الله عنه كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا أتاه طالب حاجة أقبل على جُلسائِه، فقال: «اشْفَعُوا تُؤجَرُوا، ويَقْضِي الله على لسانِ نَبِيِّه ما أحب». وفي رواية: «ما شاء».
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے پاس جب کوئی ضرورت مند آتا تو آپ اپنے ہم مجلس لوگوں کی طرف متوجہ ہوکر فرماتے: تم (اس کی) سفارش کرو، تمہیں بھی اجر ملے گا۔ اور اللہ اپنے نبی کی زبان پر جو پسند کرتاہے فیصلہ فرما دیتاہے۔
اور ایک روایت میں ہے: ”مَا شَاءَ“ یعنی (اللہ) جو چاہتا ہے (فیصلہ فرما دیتاہے)۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Abu Mūsa al-Ash‘ari (may Allah be pleased with him) reported: Whenever someone with a need came to the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) he would turn to his companions and say: "Intercede (for him) and you will be rewarded, and Allah will decide what He loves on the tongue of His Prophet." In another narration: "What he wishes."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: متفق علیہ
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #3563

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

یہ حدیث ایک بہت بڑے اصول اورایک بہت ہی مفید بات پر مشتمل ہے اور وہ یہ ہے کہ بندے کو چاہئے کہ وہ بھلائی کے کاموں میں کوشاں رہے چاہے ان کے مقاصد اور ثمرات و نتائج حاصل ہوں، یا ان کا کچھ حاصل ہو، یا ان میں سے کچھ بھی پورا نہ ہو۔ جیسے کہ ضرورت مندوں کی حکمرانوں، بڑے لوگوں اور جن کے ساتھ ان کی ضروریات وابستہ ہیں ان کے پاس سفارش کرنا۔ بہت سے لوگوں کو اگر یہ یقین نہ ہو کہ ان کی سفارش قبول ہوگی تو وہ سفارش کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ حالانکہ ایسا کرکے وہ اپنے آپ کو اللہ کی طرف سے ملنے والی ایک بہت بڑی بھلائی سے اور اپنے مسلمان بھائی کے ساتھ کی جاسکنے والی ایک نیکی سے اپنے آپ کو محروم کردیتے ہیں ۔ اسی لئے آپ ﷺ نے اپنے صحابہ سے فرمایا کہ ضرورتمندوں کی آپ ﷺ کےپاس سفارش کرکے ان کی مدد کیا کریں تاکہ اللہ تعالی سے اس کا فوری ثواب پاسکیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ''سفارش کرو، تمہیں اجر ملے گا۔'' کیونکہ اچھی سفارش اللہ کو بہت محبوب اور پسندیدہ ہے ۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں : ﴿مَّن يَشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً يَكُن لَّهُ نَصِيبٌ مِّنْهَا﴾ (النساء: 85) ”جو شخص کسی نیکی یا بھلے کام کی سفارش کرے، اسے بھی اس کا کچھ حصہ ملے گا“۔ فوری اجر پانے کے ساتھ ساتھ وہ اپنے بھائی کے ساتھ نیکی اور بھلائی بھی کرتا ہے اور یوں اس کا اس پر احسان بھی ہوجاتا ہے ۔ اور ہو سکتا ہے کہ اس کی سفارش کی بدولت اس شخص کی پوری یا جزوی مقصد برآری بھی ہوجائے۔
اچھی چیزوں اور بھلائی کے کاموں میں سعی وکوشش کرنا جن کے حاصل ہونے یا نہ ہونے دونوں کا امکان رہتا ہے بذات خود ایک فوری نیکی ہے اور نفس کو بھلائی کے کام میں مدد کرنے کا عادی بنانا ہے اور ایسی سفارشیں کرنے کے لیے راستہ ہموار کرنا ہے جن کے قبول ہونے کا یقین،یا گمان ہوتا ہے۔
آپ ﷺ کا یہ فرمان کہ اور اللہ اپنے نبی کی زبان پر جو چاہتا ہے فیصلہ فرما دیتاہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس چیز کا ہونا یا نہ ہونا اللہ کے علم میں گذر چکا ہے اس میں سے جس چیز کا اللہ ارادہ کرتا ہے فیصلہ فرمادیتا ہے۔ چنانچہ جو شے مطلوب ہے وہ سفارش کا کرنا ہے ۔ اور اس پر ثواب مل کر رہتا ہے چاہے جس شے کی سفارش کی جائے وہ حاصل ہو یا پھر کسی رکاوٹ کی وجہ سے حاصل نہ ہوسکے ۔

Explanation

This Hadīth sets a major principle and guides to a great benefit; it is that a believer should strive to help fulfill the need of others, whether his efforts bear fruit fully or partially or bear no fruit at all. One way to help people is to intercede on behalf of those who need things from the rulers or the dignitaries, or those who can fulfill their needs. Many people avoid to intercede for others if they are not sure whether their intercession would be accepted or not; hence, they miss much reward from Allah, and miss doing a favor to a fellow Muslim. Therefore, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) ordered his Companions to help the ones with need by interceding with him so that they receive their reward from Allah based on the Prophet's statement: "Intercede and you will receive reward." Good intercession is beloved to Allah; He says in the Quran: {Whoever intercedes for a good cause will have a reward therefrom} [Sūrat An-Nisā’: 85]. Along with hastening to receive the reward, the intercessor also hastens to do a favor to his Muslim brother, and that person will owe him. Striving to help people in good things that may or may not bear fruit is indeed an immediate goodness, and a way to train oneself to cooperate in righteousness and piety, and a start to intercede about things which are certain or likely to be fulfilled. The Prophet's statement: "And Allah will decide whatever He wishes on the tongue of His Prophet" means that Allah decrees what He willed in His eternal knowledge as to whether the interceded matter will take place or not. Hence, it is required to intercede and he will be rewarded for his intercession, whether the intercession is accepted or not.

Topics موضوعات