لوگوں میں سے سب سے اچھا وہ شخص ہے جس کی عمر لمبی ہو اور عمل بھی اچھا ہو۔
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- جامع ترمذیJami' at-Tirmidhiمسند احمدMusnad Ahmadسنن دارمیSunan ad-DarimiOriginal wording: اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #3710Jami' at-Tirmidhi & Musnad Ahmad & Sunan ad-Darimi (HadeethEnc 3710)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب بھی انسان کی عمر اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں لمبی ہوتی ہے (گزرتی جاتی ہے) تو وہ اللہ تعالی سے زیادہ قریب ہوتا جاتا ہے کیونکہ اس کو کوئی بھی عمل کرنے کا موقع ملنے میں اس کی عمر بھی بڑھ جاتی ہے اور وہ عمل اسے اپنے اللہ سے اور زیادہ قریب کر دیتا ہے ، پس لوگوں میں سے بہترین ہے وہ شخص جسے یہ دونوں چیزیں عطا کی گئی ہوں یعنی لمبی عمر اور اچھا عمل۔
بہر حال لمبی عمر کسی انسان کے لیے خیر کی ضامن نہیں ہے الاّ یہ کہ وہ شخص اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور عمل دونوں میں اچھا ہو؛ کیونکہ بعض اوقات لمبی عمر انسان کے لیے فتنے اور نقصان کا باعِث ہوتی ہے جیسا کہ ایک اور حدیث میں آتا ہے کہ آپ ﷺ سے پوچھا گیا کہ لوگوں میں سے سب سے زیادہ اچھا کون ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا ”جس کی عمر لمبی اور عمل اچھا ہو“ پوچھا گیا کہ لوگوں میں سے سب سے زیادہ بد تر شخص کون ہے؟ تو فرمایا ”جس کی عمر لمبی ہو اور عمل برا ہو“۔(ابو داود، ترمذی)
اللہ تبارک وتعالی کا فرمان ہے: ﴿وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ خَيْرٌ لِّأَنفُسِهِمْ ۚ إِنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدَادُوا إِثْمًا ۚ وَلَهُمْ عَذَابٌ مُّهِينٌ﴾ ”کافر لوگ ہماری دی ہوئی مہلت کو اپنے حق میں بہتر نہ سمجھیں، یہ مہلت تو اس لیے ہے کہ وہ گناہوں میں اور بڑھ جائیں ان ہی کے لیے ذلیل کرنے والے عذاب ہے“۔
ان کافروں کو اللہ تعالیٰ نے ڈھیل دی ہوئی ہے کہ انھیں رزقِ وافر ، عافیت ، درازیٔ عمر اور بیوی بچے عطا کر رکھے ہیں، اس میں ان کے لیے کوئی بھلائی نہیں ہے بلکہ یہ ان کے لیے باعثِ فتنہ ہے۔ اللہ کی پناہ! کہ اس فراوانی سے وہ مزید گناہوں میں گِھر جائیں گے۔
طیبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”اوقات اور گھڑیاں تاجر کے بنیادی سرمائے (پونجی) کی طرح ہیں پس چاہیے کہ تجارت اس طرح کی جائے کہ حصولِ نفع کے باعث ہو، سرمایہ جتنا بڑھتا جائے گا نفع بھی زیادہ ہوتا جائے گا ، جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق زندگی بسر کرے وہ کامیاب ہو گا اور فلاح پائے گا اور جس نے اپنا سرمایا (پونجی) ضائع کیا وہ نفع نہیں پائے گا اور سخت گھاٹے میں رہے گا“۔
Explanation
Hadīth explanation: The longer a person lives while being obedient to Allah, the closer he becomes to Allah, because every good deed that he does in his long life brings him closer to Allah. Hence, the best of people is the one who attained these two: long life and good deeds. Having a long life is not good for a person unless his deeds are good and are done in obedience to Allah. Sometimes, a long life could be evil for someone and a source of harm for him, as mentioned in another Hadīth, where the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) was asked: "Who is the best of people?" He said: "The one who lives long and his deeds are good." He was then asked: "And who is the worst of people?" He said: "The one who lives long and his deeds are bad" [Abu Dawūd and At-Tirmidhi; classified as Sahīh by Al-Albān]. Allah, the Almighty, says: {And let not those who disbelieve ever think that when We extend their time, it is good for them. We only extend it for them so that they may increase in sin, and for them is a humiliating punishment} [Sūrat Āl-‘Imrān: 178]. The fact that Allah gives those disbelievers respite in terms of a long life, sustenance, health, children, and wives, is not good for them; rather it is bad for them – we seek refuge in Allah from that – because they increase in sin thereby. At-Tayyebi (may Allah have mercy on him) said: "Times and hours (to a person) are like the capital of a trader, so he should trade in what yields profit. The more capital he invests, the more profit he makes. Whoever works for what benefits him, wins and attains success; and whoever wastes his capital, incurs an evident loss."